Daily Mashriq


خیبر پختونخوا میں سیاحت کی دولت سمیٹنے سے پہلوتہی

خیبر پختونخوا میں سیاحت کی دولت سمیٹنے سے پہلوتہی

عیدالفطر کے موقع پر سوات میں سیاحوں کا سیلاب امڈ آنا علاقے میں سیاحت کے فروغ کیلئے ہی نیک شگون نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر امر یہ ہے کہ اب سوات کی سیاحت میں لوگوں کی ہچکچاہٹ باقی نہیں رہی۔ کہاں ایک وقت میں دہشتگردوں کے سرغنہ مولوی کا اثر ونفوذ ریاست وحکومت اور عوام سبھی کیلئے بھاری اور باعث چیلنج تھا، سے بھی حسن اتفاق قرار دیا جائے گا کہ یہ دل خوش کن صورتحال اس وقت سامنے آئی جب افغانستان میں روپوش دہشتگردوں کے سرغنہ کو انہی آقاؤں اور مددگاروں نے نشانہ بنا کر ہلاک کر ڈالا جن کے دامن عافیت میں وہ خود کو پاک فوج کی دسترس سے محفوظ جان کر پناہ حاصل کرکے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کی اور کافی منصوبوں پر عملدرآمد میں کامیاب بھی ہوئے۔ دہشتگردوں کے اس سربراہ کی ہلاکت کے بعد گوکہ اس علاقے سے ہی تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کو سربراہی دینے کی اطلاعات ہیں لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اس منظرنامے سے قطع نظر سوات کی سیاحت میں لوگوں کی دلچسپی کے باعث اس امر پر خاص طور پر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سمیت ایبٹ آباد، ناران کاغان شوگران، کمراٹ، چترال اور صوبے کے دیگر قابل دید مقامات کی سیر کرنے کیلئے آنے والے معزز مہمانوں کو کس قسم کی فوری ممکنہ سہولیات دی جائیں اور اس امر کی کیا منصوبہ بندی کی جائے کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ حاصل ہو۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا محکمہ سیاحت وثقافت اور آثار قدیمہ کی کارکردگی بدترین کے درجے میں آتی ہے۔ صوبے کی سیاحت بلاشبہ دہشتگردی کے سالوں میں ختم ہو کر رہ گئی تھی لیکن اب جبکہ وہ حالات نہیں رہے تو محولہ محکمے اور ٹورازم کا رپوریشن خیبر پختونخوا کی جانب سے ایسی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی جس سے توقع کی جا سکے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات ہورہے ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک وقت سیاحوں کی جنت ہوا کرتا تھا، اس میںجو وقفہ آیا وہ حالات کی وجہ سے تھا لیکن اب جبکہ وہ حالات نہیں رہے تو صوبے کی ثقافت، تہذیب، تاریخی ورثہ اور مقامات سیاحت کی مناسب تشہیر، ان سے آگاہی اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کی کوئی مناسب حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ سوات سے سیاحوں کی واقفیت کے باعث اس مرتبہ عید پر وہاں لوگوں کا امڈ آنا مری بائیکاٹ مہم کے باعث ہوا یا پھر لوگوں کی توجہ اس جانب سوشل میڈیا والیکٹرانک میڈیا کے باعث مرکوز ہوئی بہرحال اس میں محکمہ سیاحت اور ٹورازم کارپوریشن کی کاوشوں کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کی منصوبہ بندی اس وقت تسلیم کی جاسکتی تھی جب رمضان المبارک سے قبل یا اس دوران محکمہ سیاحت اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے کوئی آگاہی مہم چلائی جاتی اور سیاحوں کی رہنمائی، رہائش، ٹرانسپورٹ، کیمپنگ وغیرہ کے حوالے سے کوئی اقدامات سامنے آتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت کا ایک اور باب سوات ایکسپریس وے کی تعمیر کی صورت میں کھلنے والا ہے۔ اس تناظر میں آئندہ موسم گرما کے موقع پر پورے ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحوں کی بڑی تعدادکی آمد متوقع ہے جبکہ ہزارہ موٹروے سے گزرتے ہوئے ہزارہ ڈویژن تا گلگت بلتستان سیاحت کے مواقع میں نمایاں اضافہ اور سیاحوں کی بہت بڑی تعداد کا اس طرف کھچ کر چلے آنے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سوات ایکسپریس وے کی تعمیر، دیر، چترال روڈ چترال تا گلگت شاہرہ کی تعمیر سے کمراٹ اور کالاش ویلی بالخصوص اور دیر وچترال میں بالعموم سیاحوں کی بہت بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔ اس طرح دیر چترال اور چترال تا گلگلت شاہرہ کی تعمیر، لواری ٹنل کا آمد ورفت کیلئے چوبیس گھنٹے کھلا رہنے کی سہولت میسر آنے کے بعد اس علاقے کی سیاحت کو خاص طور پر فروغ مل سکتا ہے جبکہ پارہ چنار، رزمک شوال اور خاص طور پر تیراہ سمیت سابقہ فاٹا کے علاقوں میں اصلاحات کے عملی نفاذ کے بعد ان علاقوں کی طرف بھی سیاحوں کا کھچے چلے آنے کا خاص طور پر امکان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سوات کی سیاحت کی ایک کشش یہ بھی ہوگی کہ جس علاقے میں دہشتگردوں کا غلبہ رہا تھا وہ علاقہ کیسا تھا۔ اسی طرح سابقہ فاٹا میں اطمینان بخش صورتحال کی واپسی کیساتھ ساتھ وہاں بھی سیاحوں کا اس قسم کا تجسس ان کو پوری طرح متوجہ کر سکتا ہے۔ اگر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو صوبائی دارالحکومت پشاور کے قدیم ضروف سازی سے لیکر ہنرمندی کے قدیم فنون کے احیاء کی صورت میں سیاحوں کیلئے فوی کشش کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت کا قدیم پشاور سے ثقافت کی بحالی کی مساعی یقیناً قابل تعریف ہے۔ ہنرمندوں اور ماہرین فنون کی خدمات کے حصول اور ان کی سرکاری سرپرستی کا اعلان تو کیا گیا تھا مگر اس بارے مزید پیشرفت سامنے نہیں آئی اس پر اگر توجہ دی جائے تو سیاحوں کے ملکی وغیرملکی ٹولوں کی جھرمٹوں کا دوبارہ نظارا ممکن ہوگا۔ یہ امر نہایت افسوسناک اور قابل فوری توجہ ہے کہ مدین میں تین مقامات پر ٹی ایم اے بحرین کے ٹھیکیدار کے کارندوں نے ٹورسٹ انٹری فیس کے نام پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کو خوار کیا اور ان کارندوں کی وجہ سے مدین میں تین روز تک شدید ٹریفک جام رہا۔ ٹھیکیدار کے کارندوں نے مدین ہوٹل، مدین بازار اور سرپل کے قریب گاڑیوں کو روک کر ان سے پچاس روپے سے سو روپے تک ٹیکس وصول کیا اور پرچی پر پانچ روپے تھما دیتے۔ اس سے پہلے ضلعی انتظامیہ نے ایک بیان میں سیاحوں کو سہولیات دینے اور ٹیکس نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ مدین میں اس قسم کی لوٹ مار پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سمیت محکہ بلدیات کے سیکریٹری سے نگران حکومت کو فوی وضاحت طلب کرنی چاہئے اور ان کو اس پاداش میں اگر معطل کرنے کی ضرورت پڑے تو اس سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے۔ عاقبت نااندیش عناصر کا بائیکاٹ مری مہم سے بھی سبق نہ سیکھنا اور انتظامیہ کی پیش بندی نہ کرنا اور سیاحوں کو بے یار ومددگار چھوڑنا صوبے کی بحال ہوتی سیاحت کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ ٹریفک کے بدترین انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ صوبے کی سطح پر مین حیث المجموع شعور اُجاگر کرنے پر مبنی ایک ایسے مہم کی ضرورت ہے جس میں لوگوں کو صوبے کی روایتی تہذیب وثقافت اور مہمان نوازی، مہمان داری کے آداب اور سیاحوں سے عزت واحترام سے پیش آنے کے مثالی کردار کے مظاہرے کیلئے آمادہ وتیار کیا جائے۔ ہمارے تئیں اس قسم کی فضا فطری طور پر صوبہ بھر میں ضرور پائی جاتی ہے جس سے معمولی سی کاوش کے بعد بھرپور طور پر استفادہ ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں