Daily Mashriq


بنی گالا کا دھرنا

بنی گالا کا دھرنا

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دھرنا احتجاج کو انہوں نے پاکستان میں متعارف کرایا (اس سے پہلے یہ طرز احتجاج بھارت میں مقبول رہا ہے) اور آج خود عمران خان کو دھرنا احتجاج کا سامنا ہے لیکن اسلام آباد میں تحریک انصاف کے 126دن کے دھرنے اور آج عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالا میں تحریک انصاف کے کچھ عناصر کے دھرنے کو مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام آباد کا دھرنا عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام پر مبنی تھا اور آج بنی گالا کا دھرنا پارٹی کے اندر امیدواروں کے انتخاب کے بارے میں اختلاف رائے پر مبنی ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے میں پارلیمنٹ مخاطب تھی بنی گالا کے دھرنے میں پارٹی قیادت مخاطب ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتیں دھاندلی کا اقرار کرنے کے باوجود حکمران مسلم لیگ کیساتھ اظہارِ یک جہتی کر رہی تھیں بنی گالا کے دھرنے میں پارٹی قیادت کہہ رہی ہے کہ دھرنا دینے والے امیدواروں کے انتخاب کے بارے میں باقاعدہ اعتراضات پیش کریں ان پر پارلیمانی بورڈ غور کرے گا۔ محض احتجاج کے دباؤ میں آ کر فیصلے تبدیل نہیں کئے جائیں گے لیکن دھرنے والوں کا احتجاج قطعی غیر منطقی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن عناصر کیخلاف پارٹی جدوجہد کرتی رہی ہے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ایسے ہی عناصر کو پارلیمنٹ میں پارٹی کی نمائندگی کیلئے منتخب کر لیا ہے۔ ان میں بہت سے نام لئے جا رہے ہیں۔ بیشتر ان لوگوں پر اعتراضات ہیں جو گزشتہ چند مہینوں کے دوران دیگر پارٹیاں خاص طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک میں شامل ہوئے ہیں۔ عمران خان نے بہت پہلے یہ اشارے دیئے تھے کہ پارٹی میں الیکٹیبلز (ایسے افراد جن کے اپنے ووٹ بینک ہوں) کی کمی ہے۔ اس کے بعد ایسے لوگوں کو پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دی گئی اور جوں جوں تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ نظر آیا بہت سے ایسے لوگ تحریک میں شامل ہوئے اور ان کو عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ بھی دئیے گئے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے پرانے ورکروں کو نظر انداز کر کے ان الیکٹیبلز کو پارٹی ٹکٹ دئیے گئے ہیں اور اس تاثر کا بڑی حد تک صحیح ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ یہ مسائل پیدا نہ ہوتے اگر تحریک انصاف کو منظم جماعت بنانے کی بہت پہلے سے کوشش کی جاتی۔ پارٹی کے رہنما اصولوں کی تشہیر کی جاتی' پارٹی پروگرام واضح طور پر بیان کیا جاتا اور پارٹی کی نچلی سے اوپر کی سطح پر تنظیم کی جاتی۔ اس طرح پارٹی کے نچلی سطحوں کے ارکان کا نقطۂ نظر پارٹی کی قیادت کو مسلسل پہنچتا رہتا اور مختلف کلیدی مسائل کے بارے میں پارٹی کی مرکزی قیادت کا نقطۂ نظر نچلی سطحوں کے ورکروں پر واضح کیا جاتا۔ عمران خان نے دو بار پارٹی کے اندر انتخابات کروانے کی کوشش کی لیکن دونوں بار یہ کوشش ناکام ہو گئی اور اس کی وجہ بھی پارٹی کی باقاعدہ تنظیم کا نہ ہونا تھا۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ تحریک انصاف کوئی فاشٹ جماعت نہیں ہے تاہم اس میں ایسے مربوط تنظیمی ڈھانچہ ہونا چاہئے جس میں پارٹی پالیسی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک زیر بحث رہے اور اس میں ارکان کو آگے بڑھنے کے مواقع حاصل ہوتے۔ اس کیلئے شاید عمران خان کے پاس وقت نہیں تھا۔ عمران خان نے ملک سے کرپشن کے خاتمے کا علم اٹھایا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہونی چاہئے کہ تحریک انصاف نے کرپٹ لوگوں کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ کرپشن ختم کرنے کی تحریک چلائی ہے۔ اس کیلئے عمران خان نے بارہا کہا ہے (ا س سے اختلاف کیا جا سکتا ہے) کہ بھاری پیمانے پر کرپشن ختم ہو گی تو نچلی سطحوں پر کرپشن خودبخود ختم یا کم ہو جائے گی۔ اسی لئے عمران خان بالعموم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ہدف بناتے ہیں۔ جس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے خیال میں اونچے درجے کی کرپشن نچلی سطحوں تک سرایت کر جاتی ہے۔ اگر اونچے درجے پر کرپشن کو ختم کر دیا جائے تو نچلے درجوں پر کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق اگر نچلے درجے کے سیاسی عناصر کو تحریک انصاف کے دامن میں پناہ دی جائے اور اعلیٰ سطح پر کرپشن کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس میں کوئی خاص ہرج نہیں ہوگا۔ اسی نقطۂ نظر کے تحت لگتا ہے تحریک انصاف میں دوسری پارٹیوں سے آنے والے الیکٹیبلز کو جگہ دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کا مقصد پارلیمان میں اتنی اکثریت لانا ہے تاکہ حکومت بنائی جا سکے اور اس کے بعد معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کا کام شروع کیا جائے لیکن اس راہ میں بہت سی مشکلات ہیں۔ یہ عناصر جو دوسری پارٹیوں سے تحریک میں شامل ہوئے ہیں اپنی برادری' گروہ بندی' تھانے کچہری میں اپنے اثر ورسوخ کے بل پر انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کیساتھ ان کے حواریوں کے مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کی قوت حاصل کرنے کے بعد پارٹی کو ورکروں کی اتنی توانا قوت کی ضرورت ہوگی جو ان کے اثر ونفوذ کے کام کرنے کی راہ میں حائل ہو سکے۔ اس کیلئے بلدیاتی اداروں کا مضبوط ہونا لازمی ہوگا۔ اگر ان نچلی سطحوں پر پارٹی کے مضبوط کارکن ہوں گے تو ایسا سیاسی کلچر جو ذاتی اثر ورسوخ اور دربار سرکار میں تعلقات کے بل پر فروغ پاتا ہو اس کے سامنے رکاوٹ ہوں گے۔ تحریک انصاف میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف رائے پارٹی کی صحت مندی کی علامت ہے۔ ایسے سیاسی کارکنوں کی ملک کے جسد سیاسی کو بہت ضرورت ہے جو پارٹی کے اصولوں کی بنیاد پر کسی بھی پارٹی کی قیادت سے اختلافِ رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا احترام کیا جانا چاہئے۔ پارلیمانی بورڈ کو چاہئے کہ فیصلوں پر نظرِثانی کرتے ہوئے ان کے نمائندوں کی بات بھی سنے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ انسان ہیں، ان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کی بات تحمل سے سنی جانی چاہئے اور انہیں پارٹی کے نقطۂ نظر سے اور مصلحتوں سے تحمل کیساتھ آگاہ کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں