Daily Mashriq


بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے

بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے

عجیب مخمصے کی صورتحال ہے۔ لگ بھگ ہر سیاسی جماعت اگر ایک جانب ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے ہی کارکنوں کے احتجاج سے دوچار ہے تو فضا میں بعض اداروں پر جانبداری کے الزامات کی چاند ماری ہو رہی ہے اور گزشتہ انتخابات کے بعد اگر 35 پنکچر جیسے معاملات پر احتجاج کے نعرے بلند کئے جا رہے تھے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری پر لیگ ن کو جتوانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اور الیکشن میں مداخلت کی تحقیقات کے مطالبات سامنے آتے رہے جو بعد میں عدالتوں نے رد کر دئے تھے مگر اس کے باوجود یہ بیانیہ کبھی تھمنے کا نام نہیں لیتا رہا۔ حالانکہ خود الزام لگانے والوں نے ہی انہیں بعد میں سیاسی قرار دے دیا تھا جبکہ اب ایک بار پھر انتخابات سے بھی قبل جس قسم کے الزامات سے انتخابی عمل کو ''جانبدارانہ'' قرار دے کر فضا کو مسموم کیا جا رہا ہے اس سے سیاسی تجزیہ کار یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ ممکنہ شکست کے بعد انتخابی عمل پر سوال اٹھانے اور ایک بار پھر احتجاج کی راہ اختیار کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے، تاکہ آج جو سوال اٹھائے جارہے ہیں انہی کی بنیاد پر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا سکے کہ ہم تو پہلے ہی انتخابات میں ''دھاندلی'' کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ خدا جانے وہ کیا عوامل ہیں کہ بعض رہنماؤں کی جانب سے کلین سویپ کے دعوؤں اور مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر سیاسی مخالفین کا دھڑن تختہ کرنے کے بلند آہنگ بڑھکیں مارنے والوں کے لہجے میں اچانک مایوسی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، کل تک جن دبنگ قسم کے اینکروں پر تعریفوں کے ڈونگر ے برسائے جا رہے تھے آج وہ قابل نفریں بن گئے ہیں اس پر حیرت کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ نگاروں کو زیب النساء مخفی کا یہ شعر ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے کہ

اے عندلیب ناداں دم در گلو فروبند

نازک مزاج شاہاں تاب سخن نہ دارد

گزشتہ ستر برسوں میں جتنے بھی انتخابات ہوئے جب بھی ہوئے (ماسوائے ادوار آمریت کے) ان میں سے اب تک صرف 1970ء کے انتخابات پر ہی اجماع ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں غیر جانبدارانہ اور بہت حد تک آزادانہ ومنصفانہ تھے (ان میں بھی امیدواروں نے ذاتی حیثیت میں دھاندلی اگر کی تو اسے سرکار کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا) تاہم بدقسمتی سے یہ وہ انتخابات تھے جن کے نتیجے میں بالآخر ملک کے دو ٹکڑے ہوگئے کیونکہ ان کے نتائج کو مقتدر طبقوں نے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کئے کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اکثریت اقلیت سے علیحدگی پر مجبور کر دی گئی، جس کے نام اگر مشرقی پاکستان نے اپنا نام بدل کر بنگلہ دیش رکھ دیا تو مغربی پاکستان کے نام سے مغربی کا سابقہ ختم کر دیا گیا اور یہاں اقتدار پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا، حالانکہ اصولی طور پر یہاں نئی صورتحال کے ابھرنے کی بناء پر دوبارہ انتخابات کا انعقاد ہونا چاہئے تھا کیونکہ جن انتخابات میں مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثریتی ووٹ پڑے وہ متحدہ پاکستان کی صورت میں اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور ہوتی اور پاکستان کے دولخت ہونے کی صورت میں اگر اسی وقت نیا مینڈیٹ حاصل کرنا پڑ جاتا تو پیپلز پارٹی کے ''کردار'' کے پیش نظر صورتحال یقیناً نمایاں طور پر بدل جاتی، اس حوالے سے ملک ٹوٹنے کے حوالے سے مرحوم بھٹو پر لگنے والے الزامات اپنی جگہ تاریخ ہے، بات دور جاپہنچی جبکہ بات ہو رہی تھی 1970ء کے انتخابات کی جو ہمارے ملک کی تاریخ کے (کم ازکم آج تک) غیر جانبدارانہ انتخابات کہلاتے جاتے ہیں، ان سے پہلے اور بعد میں جتنے بھی انتخابات منعقد ہوئے ان پر اجماع قوم ہرگز نہیں ہے اور کہیں نہ کہیں سے دھاندلی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، قیام پاکستان کے بعد یہاں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے بلکہ ان پر ''ڈاکہ'' ڈالنے کی ابتداء کے حوالے سے سابق صوبہ سرحد کے تب کے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان کا کردار خاصا زیر بحث رہتا آیا ہے جن پر ''جھرلو'' کے الزامات زبان زد خاص وعام رہتے تھے، اسی طرح ایوبی آمریت کے دور میں جب مادرملت محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مقابلے میں اترنے کا فیصلہ کیا تو ان انتخابات میں مادرملت کو ہروانے کیلئے مبینہ طور پر کیمیائی طریقہ کار اختیار کیا گیا کیونکہ کم ازکم سابق مشرقی پاکستان میں ایوب خان کو واضح اور بری طرح شکست کے خدشات تھے اور مغربی پاکستان میں بھی ان کے حق اور مخالفت کی صورتحال سے دونوں حصوں میں مجموعی طور پر ان کی شکست لازمی تھی، اسلئے کہا جاتا ہے کہ ووٹ کی پرچی پر ایسا کیمیکل لگایا گیا تھا کہ جب اسے تہہ کر دیا جاتا تو مادرملت کے حق میں ان کے نام کے سامنے لگائے جانیوالے کراس (x) کا نشان خود بخود ایوب خان کے نام کے خانے میں آجاتا، یوں مادرملت کو شکست سے دوچار کرکے ایوب خان کو جتوانے کی دھاندلی کرائی گئی۔ اسی طرح بعد کے انتخابات پر بھی کئی طرح کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر بعض طاقتور لابیوں کی بدولت ''انجینرڈ '' انتخابات کی افواہیں عام رہی ہیں، کہ کس طرح جیتنے والوں کو راتوں رات ہی ''ہارنے'' کے دھماکہ خیز اعلانات سے مایوسی کے دلدل میں دھکیل دیا جاتا تھا۔ یہ ایک طولانی داستان ہے جس پر آئندہ روشنی ڈالی جائے گی کہ کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے۔ بقول شہزاد احمد

لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے

بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کہا کہئے

متعلقہ خبریں