Daily Mashriq


جائیں تو جائیں کہاں

جائیں تو جائیں کہاں

عیدالفطر گزر گئی۔ مجھے یقین ہے ہم میں سے کم ہی لوگوں نے عیدالفطر کے فلسفے اور رمضان المبارک کے تقاضوں کو پورا کیا ہوگا۔ بے شک انسان عاجز ہے لیکن عاجزی اس وقت ہی عاجزی کہلائے گی جب انسان کوشش کے باوجود عاجز رہے لیکن اگر کوشش ہی نہ کرے تو عاجزی کا عذر بے معنی اور دھوکہ ہے۔ ہم کوشش کے مکلف ہیں اور حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے کہ صرف عیدین ہی میں نہیں عام دنوں میں بھی دست گیری وبھلائی کی سعی ہو۔ رمضان المبارک کے انتیس یا تیس روزے اپنی جگہ فرض ضرور ہیں لیکن ان کی فرضیت کے تقاضے صرف ایک ماہ روزہ رکھنے سے پورے نہیں ہوتے بلکہ پورا سال اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ لقمہ حرام منکرات وفواحش سے اجتناب کیا جائے۔ روزے کے اثرات عیدالفطر کے دن ہی بے اثر ہو جائیں تو پھر اس کی مقصدیت کے حصول میں ناکامی یقینی ہے۔ یہ عیدالفطر میرے لئے ایک نئے اور خوشگوار تجربے کا حامل اس لئے ثابت ہوا کہ اس مرتبہ قارئین کے پاس رابطے کا ذریعہ میسر تھا۔ میںسمجھتی ہوں کہ یہ مجھ سے رابطہ نہیں روزن خیال سے رابطہ اور واسطہ تھا جس کے درجنوں قارئین نے عیدالفطر پر مبارک باد کے ڈھیروں پیغامات بھیجے، دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جن کا میں اس کالم ہی کی وساطت سے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور دعاگو ہوں کہ ان میں سے ہر ایک کی دلی مراد پوری ہو۔ علاوہ ازیں بھی میں اپنے قارئین کیلئے دعاگو ہوں۔ مسائل پر مبنی پیغامات اتنی تعداد میں آچکے ہیں کہ ان پر بحث کرنے میں وقت لگے گا۔پشاور سے ایک قاری سردار خان نے شہر میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگنے اور ڈبلیو ایس ایس پی کی غفلت و بے حسی بلکہ ہٹ دھرمی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے موقع پر شہر میں صفائی کا نظام معطل رہا، نگران دور میں ڈبلیو ایس ایس پی شتر بے مہار ہوگئی ہے، نگران وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ اسے لگام دے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی سے اس کو قائم کرنیوالی حکومت مطمئن نہ تھی، کروڑوں کے اخراجات اربوں میں تبدیل ضرور ہوئے مگر شہر میں صفائی کی حالت جوں کی توں رہی اور ہے بلکہ شہری اس کمپنی کی کارکردگی سے بالکل نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار تو کیا اوسط درجے کے اہلکار بھی تنخواہیں لاکھوں کی وصول کرتے ہیں مگر کارکردگی صفر، مجھے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت اگر مصلحت پسندی کا شکار نہ ہوئی اور کوئی سنجیدہ قانونی معاملہ آڑے نہ آیا تو کمپنی تحلیل کرنے کا ضرور سوچے گی یا پھر ڈبلیو ایس ایس پی کا قبلہ درست کرے گی دونوں میں سے ایک کام ہونا ہے بصورت دیگر عوام ازخود ان کمپنیوں کی طبیعت صاف کرنے نکل پڑیں گے۔ ضلع لکی مروت تحصیل سرائے نورنگ کے بھائی اصغر خان نے بھی ایک ایسے ہی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے جو تقریباً پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ ان کو شکایت ہے کہ ککی روڈ پر تجاوزات کی بھرمار ہے اور چنگچی کے خود ساختہ سٹینڈ بنے ہوئے ہیں جس سے راستہ بند ہو جاتا ہے اور لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ تجاوزات مافیا کیخلاف کارروائی بھی ہوتی ہے مگر مستقل طور پر مسئلہ اس لئے حل نہیں ہوتا کہ مقامی پولیس اور انتظامیہ کی ملی بگھت ہوتی ہے۔ اس کیلئے ایک باقاعدہ قومی پالیسی اور سخت سے سخت قوانین بنانے اور کم ازکم موجودہ قوانین ہی پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ تجاوزات کا صفایا ہونا چاہئے اور لوگوں کو راستہ پر چلنے کے حق سے محروم کرنے والوں کیساتھ سختی سے نمٹے جانے کی ضرورت ہے۔ اعظم مہمند کا مسئلہ مہمند باجوڑ کی خستہ حالی ہے، ان کا کہنا ہے کہ بلند وبانگ دعوے تو بہت سننے کو ملتے ہیں مگر ہمارے علاقے میں سڑک کی خستہ حالی اور عدم تعمیر سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو کچھ دعوے کئے جا رہے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ اس جدید دور میں اگر کسی علاقے کی سڑک خراب ہے تو سمجھو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ترقی سڑک پر چل کر آتی ہے۔ مہمند اور باجوڑ اس لئے پسماندہ ہیں کہ یہاں سڑک کی حالت ہی خستہ ہے۔ سڑک چونکہ من حیث المجموع عوامی فلاح اور نظر آنے والی چیز ہے اس لئے اس بارے تو کم ازکم حاکمان وقت کی توجہ ہونی چاہئے مگر لگتا ہے کہ عقل کے اندھے ہی نہیں بصارت بھی چھن گئی ہے۔ جتنا جلد ممکن ہو سکے اس علاقے کے بیچارے عوام کو خستہ حال سڑک سے نجات دلائی جائے اور سڑک معیاری طور پر پختہ تعمیر کی جائے۔ ہر بار سرکاری اداروں سے عوام کی شکایات اور متعلقہ افسران وعملے کا عوام کے مسائل کے حل میں اخلاص کی بجائے الجھانے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اذیت دینے کی شکایات میں اضافہ تشویش کا باعث معاملہ ہے۔ صوبے کے عوام یکے بعد دیگر ے علماء صلی، قوم پرستوں اور تبدیلی کے دعویداروں کو آزما چکے ہیں مگر معاملہ جوں کا توں ہے یہ تو جائیں تو جائیں کہا والا معاملہ ہے۔ اس قسم کی اختتامیہ صورتحال میں معاشرہ شدت پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے مگر خیبر پختونخوا جو اب ساتوں ایجنسیوں تک پھیل کر افغانستان کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے شدت پسندی اختیار کرنے کا نتیجہ بھی دیکھ اور بھگت چکا ہے۔ اب آخری راستہ یا تو نکل کر ایوانوں کو آگ لگا دیا جائے یا پھر ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے اہل نمائندوں کا چناؤ کیا جائے۔ صوبے کے عوام کو یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ جماعتی گروہی اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر اہل اور دیانتدار افراد خواہ وہ جس انتخابی نشان اور جس جماعت کے جھنڈے تلے انتخاب لڑ رہے ہوں ان کو موقع دیں۔ خیبر پختونخوا میں ویسے بھی ہر بار نیا فیصلہ سامنے آتا ہے اس مرتبہ یہ کرکے دیکھ لیں کہ شاید بھلا ہو جائے اور یہ بہتری کی ابتداء ثابت ہو۔

متعلقہ خبریں