Daily Mashriq


زلزلے کا تھا سفر جس میں کی مستی ہم نے

زلزلے کا تھا سفر جس میں کی مستی ہم نے

شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی عیسوی میں کابل سے چٹا گانگ تک جرنیلی سڑک بنائی لیکن تاریخ اس بات کو فراموش کر گئی کہ اس سڑک کی تعمیر کا آغاز مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر اپنے عہد حکومت میں کرچکے تھے۔ انہوں نے اس سڑک کو جرنیلی سڑک کی بجائے شاہراہ اعظم کے نام سے یاد کیا اور پہلے مرحلے میں یہ سڑک خیبر سے لاہور تک تعمیر کی گئی بعد میں اسے دہلی تک پہنچایا گیا تاکہ تجارت اور نقل وحرکت کو عام کیا جاسکے۔ اس سڑک پر جگہ جگہ فوجی چوکیاں اصطبل اور قافلے والوں کے پڑاؤ کیلئے سرائے تعمیر کی گئیں جن میں قیام وطعام اور آرام کا اہتمام ہوتا تھا، تھکے ماندے مسافر یہاں ٹھہرنے کے بعد تازہ دم ہوتے اور پھر اگلی منزلوں کی طرف رواں ہوجاتے۔ شیر شاہ سوری نے اپنے عہد حکومت میں اس سڑک کی طوالت میں مزید اضافہ کیا اور شاہراہ اعظم یا شاہراہ بابری کی بجائے اسے جرنیلی سڑک کہا جانے لگا۔ انگریزوں کا دور حکومت آیا تو انہوں نے شیر شاہ سوری کی اس جرنیلی سڑک کو گرینڈ ٹرنک روڈ کا نام دے دیا۔ شاید اسلئے کہ یہ سڑک بڑے بڑے ٹرنک گزارنے کیلئے موزوں تھی۔ آج بھی اس سڑک پر عہد حاضر کے گرینڈ ٹرنک، ٹرین نما کنٹینروں کی صورت دندناتے نظر آتے ہیں۔ ان کینٹینروں کا عہد حاضر کی سیاست میں بہت بڑا کردار ہے اسلئے چاہئے تو یہ تھا کہ اس سڑک کو گرینڈ کنٹینر روڈ کہا جاتا لیکن پشاور میں اس ہی سڑک پر چمکنی چوک سے شروع ہونیوالی بی آر ٹی کی تعمیر وتخریب کی وجہ سے اچھی خاصی تبدیلیاں رونماء ہورہی ہیں۔ شہباز شریف نے پی ٹی آئی حکومت کے اس میگا پراجیکٹ کے متعلق یہ شوشا چھوڑا تھا اسے مسلم لیگ نون کی حکومت مکمل کرے گی۔ شہباز شریف کی اس بڑک کو سن کر ہم سوچ میں پڑگئے کہ ہماری تاریخ میں ایسا ستم ہوتا رہا ہے کہ منصوبہ کوئی شروع کرتا ہے اور اس کی تکمیل کسی اور کے عہد اقتدار میں ہوتی ہے۔ جسکی نمایاں مثال اسلامی ایٹم بم کے دھماکے کی صورت ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس کا خواب شاعر مشرق نے دیکھتے ہوئے کہا تھا

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو یا نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے، اگر ذرے کا دل چیریں

اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے کیلئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آغاز ہوا اور جوہری دھماکوں کا تمام تر کریڈٹ نواز شریف کے عہد اقتدار نے ہتھیا لیا۔ یہی کچھ شاہراہ بابری کیساتھ ہوا۔ شیر شاہ سوری نے اس کی وسعت میں اضافہ کرکے اسے جرنیلی سڑک کہا تو انگریزوں نے اسے جی ٹی روڈ کا نام دیا۔ جنوبی ایشیا کی یہ طویل ترین سڑک آج بھی انگریزوں کے چھوڑے ہوئے نام جی ٹی روڈ سے یاد کی جاتی ہے۔ اس کی تاریخی، سیاسی اور ثقافتی اہمیت اپنی جگہ قائم رہی اور سالہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی عید کے تیسرے اور چوتھے روز جی ٹی روڈ پشاور پر سوزوکیوں ویگنوں رکشوں اور آٹو موبائل گاڑیوں کے علاوہ ریڑھوں تانگوں اور گدھا گاڑیوں تک کا ایک ہجوم اس سڑک پر دندناتا نظر آیا جن میں واٹر کولر، دریاں، گیس کے سلنڈر، چولہے، چٹائیاں، شامیانے حتیٰ کہ چارپائیاں تک بھری ہوئی تھیں اور ان میں سوار من چلے لوگ گاتے بجاتے شہر پشاور سے باہر نکل کر کسی ایسے مقام کی جانب رواں دواں تھے جہاں پہنچ کر وہ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کی تجدید کرسکیں۔ گمان ہے کہ یہی عالم چارسدہ روڈ اور اس نوعیت کی دیگر شاہراہوں کا بھی ہوگا۔ گاڑیوں میں سوار یہ من چلے تالیاں بجاتے ناچتے گاتے ہلا گلا کرتے شور مچاتے دنیا والوں کو باور کراتے نہیں تھک رہے تھے کہ آج ہم کتنے خوش ہیں اور اگر عید سعید کی خوشیاں منانی ہوں تو ہم سے سیکھیں ان خوشیوں کو ہنگاموں میں تبدیل کرنے کے انداز۔ ہم نے جی ٹی روڈ پر چیختی چنگھاڑتی بھاگتی دوڑتی اور چلتی ٹریفک میں موٹر سائیکلوں کے سائیلنسرز کو سائیلنس موڈ سے تبدیل کرکے خوفناک آواز کیساتھ دوڑتے دیکھا۔ اس کے علاوہ ون ویلنگ کا مظاہرہ کرتے نئی پود کے جوشیلے جوانوں کو بھی جی ٹی روڈ پر سرکس کا تماشا دکھاتے دیکھا۔ عید کی خوشیاں منانے کے اس مجنونانہ یا پاگلوں جیسے انداز کو دیکھ کر ہم دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئے۔ گرمیوں کے موسم میں جوانی کے جوش میں مست دیوانگی کی حدود کو پار کرنیوالے یہ لوگ کسی دریا کنارے کا رخ کرتے ہیں یا کسی پکنک پوائنٹ پر پہنچ کر ڈیرے جمانے کے بعد جی بھر کر ناچتے گاتے اور کھیلتے کودتے کوکنگ کرتے اور کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات خاکم بدہن دریا میں ڈوبنے، کشتی الٹ جانے یا ٹریفک کے حادثہ کی خبر بن کر ہم سب تک پہنچتی ہے اور ہمیں یوں لگتا ہے جیسے وہ شاہد جمیل کے ہم آواز ہوکر کہہ رہے ہوں

زلزلے کا تھا سفر جس میں کی مستی ہم نے

خشک چٹانوں میں دوڑا دی ہے کشتی ہم نے

عید کے گزر جانے کے بعد مہندی کو دیوار پر تھوپا جانا چاہئے کے محاورے کی عملی صورت ہمیں دیوانگی کی حدود کو چھونے والے من چلوں کی عید کے بعد منائی جانیوالی عید کو دیکھ کر نظر آنے لگتی ہے۔

متعلقہ خبریں