Daily Mashriq


انتخابی سیاست میں تانک جھانک

انتخابی سیاست میں تانک جھانک

طبل جنگ (انتخابی مہم کے آغاز) بجنے میں تھوڑا سا وقت ہی رہ گیا ہے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور اعتراضات کی سماعت جاری ہے۔ افتخار چودھری نامی بندہ عمران خان کیخلاف میدان میں ہے۔ بلاول ہاؤس کی قیمت 30لاکھ روپے ہے۔ سعید غنی کہتے ہیں کہ یہ قیمت خرید ہے۔ کوئی بتلائے کہ قیمت خرید نہیں موجودہ مارکیٹ ویلیو لکھی جاتی ہے۔ ہمارے محبوب رہنما کامریڈ چنگ چی گویڑا نواز شریف نااہلی کی وجہ سے امیدوار نہیں بن سکے، چلیں ان کی وجہ سے ہمارے مرشد پاک یوسف رضا گیلانی 2013ء میں نااہل تھے۔ مرشد اس بار قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے امیدوار ہیں۔ بنی گالہ شریف میں ٹکٹو ں کی تقسیم کیخلاف کارکنوں کے احتجاجی پروگرام جاری ہیں اور ''ڈٹ کھڑا ہے کپتان''۔ حضرت مولانا خادم حسین اور ڈاکٹر آصف اشرف جلالی کی جماعتیں کرین و توپ کے نشانوں سے میدان میں ہیں۔ حافظ سعید کے صاحبزادے طلحہ سعید گجر پنجاب سے این اے91 سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ ہمارے بچے جنت مکانی اور اپنے کیلئے قومی اسمبلی کا ایوان۔ کیا زمانہ آگیا ہے جو چیز اپنے بچوں کیلئے عزیز وپسند ہے ہمارے بچوں کو اس سے دور رکھتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ لاہور میں عمران خان کیلئے منصوعی حلقہ بنایا گیا ہے پھر بھی مقابلہ کریں گے۔ مخدوم جاوید ہاشمی ملتان سے قومی اسمبلی کی دونشستوں پر امیدوار ہیں، نون لیگ ان حلقوں میں امیدوار فائنل کر چکی۔ ہاشمی اب بھی اُمید سے ہیں۔ 26کروڑ کے قرضے معاف کرنے والی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے کاغذات منظور ہوگئے۔ شفاف الیکشن کی پہلی نشانی مبار ک ہو۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں دو درجن کے قریب حلقوں سے زیادہ امیدواروں کا ابھی تک اعلان نہیں کر سکی۔ الیکشن اب بھی بنی گالہ شریف کے منڈھیر پر اُتر رہے ہیں۔انقلاب، تبدیلی، ایشیاء ٹائیگرز، سیکولر دشمن سمیت بھانت بھانت کے نعرے ہیں۔ درمیان میں کبھی کبھی نگرانوں کے بعض فیصلوں پر اُنگلیاں بھی اُٹھ رہی ہیں۔ انتخابی سیاست بہت مہنگی ہے متوسطہ طبقوں کیلئے دور کے ڈھول سہانے ہیں، ترقی پسند خاتون رہنما عصمت شاہ جہاں اسلام آباد کے ایک حلقہ سے قومی اسمبلی کی امیدوار ہیں ان کیلئے ووٹ اور چندہ مہم دونوں جاری ہیں۔ فقیر راحموں نے مبلغ ایک ہزار روپے نقد عطیہ دینے کا فیصلہ سنا دیا جو اب دینا پڑے گا۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات اگر ہوگئے تو ایک بار پھر سرمایہ داروں، پیروں، مریدوں، جاگیرداروں اور سرداروں کی گرفت عوام کی گردن پر مضبوط ہوجائیگی جمہوریت کے نام پر طبقاتی جمہوریت کے ڈھول کی تھاپ پر ناچتے لوگوں کیلئے دعائیں بیکار ہیں۔ خوئے غلامی خون میں رچی بسی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی ذات، برادری، مسلک، طبقے اور پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیتے اور پھر نوحہ کناں رہتے ہیں۔جو سلوک پچھلے 70 برسوں سے ہورہا ہے اسی کے حقدار ہیں ہم۔ کنٹرول ڈیموکریسی اور طبقاتی جمہوریت کے سوا ہمارا حال اور مستقبل کچھ نہیں۔ وجہ یہی ہے کہ کوئی بھی اپنی ذات سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ لیڈروں کو پیشوا بنائے پھرتے ہجوموں میں تبدیلی کی امنگ کب بیدار ہو کچھ معلوم نہیں۔ اے این پی نے بھی مشال خان کیس کے متنازعہ کردار حمایت اللہ مایار کو صوبائی اسمبلی کیلئے امیدوار نامزد کرکے بچی کچی ''سیکولری'' دفن کر دی۔ نوحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں سیاست دوراں کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں ۔ اُمید کا دامن نہیںچھوڑا لیکن خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ خواب ٹوٹتے ہیں تو روح زخمی ہو جاتی ہے۔عیدالفطر گزر گئی حسب سابق دو عیدیں ہوئیں۔ دو عیدوں کے حامیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی زبانی کلامی جاری ہے۔ دنیا چاند کے بعد دوسرے سیارے مسخر کرنے پر تلی ہوئی ہے یہاں ایٹمی پاکستان میں چاند کے جھگڑے جاری ہیں۔ اللہ کے بندو ناسا سے مدد لے لو، سارے کام جدیدیت پر اور عید مولویوں کے رحم وکرم پر۔ عید تھی گزر گئی، سرکاری طور پر چار دن کی عید تھی لیکن سرکاری ملازمین پچھلے بدھ سے عدم دستیاب تھے۔ اشیائے ضرورت اور پھلوں کی قیمتوں، کرایوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا جس کا بس چلا دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ عید سے دو دن قبل آم 150روپے کلو، لیچی 200روپے کلو تھی۔ عید پر آم 250روپے اور لیچی 350روپے کلو، گرما220 روپے کلو فروخت ہوا، پارکوں کی کنٹینوں پر 30روپے والا برگر 80روپے میں، کوئی بات نہیں سال میں دو بار ہی تو عید آتی ہے۔ قصے اور لطیفے اور بھی ہیں لیکن رہنے دیجئے فائدہ کیا۔ ہاں عید کے تینوں دن لوڈشیڈنگ نے ٹھیک ٹھاک مت مارے رکھی۔ واپس سیاست کے میدان میں تانک جھانک کرتے ہیں۔ سندھ میں جی ڈی اے نے تحریک انصاف سے ملکر الیکشن لڑنے کا ارادہ کیا ہے، انتخابات ابھی دور ہیں، پنجاب میں تین نومولود مذہبی سیاسی جماعتیں جو ماحول بنا رہی ہیں ان سے خوف آنے لگا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کبھی نون لیگ نے یہ گروہ پیپلز پارٹی کیخلاف پالے تھے اب اس کے گلے پڑینگے، فقیر راحموں کو امیدواروں سے پوچھے گئے سوالات پر اعتراض ہے، میری دانست میں یہ اعتراض درست ہے۔ ریٹرننگ آفیسرز کو قاعدے قانون سے آگے جانے کی ضرورت نہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ دعا کیجئے انتخابی ماحول خوشگوار رہے، انتخابات وقت پر ہوں، تحفظات کے باوجود طالب علم کی رائے یہی ہے کہ طبقاتی جمہوریت کے کوچے سے عوامی حاکمیت کیلئے راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ کوئی انہونی ہوئی تو سارے سر پکڑ کر روتے پھریں گے۔

متعلقہ خبریں