Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت جنید بغدادی ایک جگہ سے گزر رہے تھے دیکھا کہ ، ایک آدمی کو سولی پر لٹکا یا ہوا ہے اور اس کا ایک ہاتھ اور ایک پائوں کٹا ہوا ہے ، آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا قصہ ہے ؟

لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص عادی قسم کا چور ہے ، جب پہلی مرتبہ پکڑا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور جب دوسری مرتبہ پکڑا گیا تو پائو ں کاٹ دیا گیا اور جب تیسری مرتبہ پھر پکڑا گیا تو اس کو سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ حضرت جنید بغدادی آگے بڑھے اور اس کے پائو ں چوم لیے ، لوگوں نے کہا کہ حضرت ! یہ اتنا بڑا چور اور عادی چور ہے ، آپ اس کے پائوں چوم رہے ہیں ؟ لوگ اس کے اس فعل پر سخت حیران تھے ۔ جنید بغدادی نے جب یہ حال دیکھا تو فرمایا کہ اگر چہ اس نے بہت بڑا جرم اور گناہ کا کام کیا ، جس کی وجہ سے اس کو یہ سزادی گئی ، لیکن اس شخص کے اندر ایک بہترین وصف ہے ،وہ ہے استقامت ، اگرچہ اس صف کو اس نے غلط جگہ استعمال کیا لیکن یہ اس پر ڈٹا رہا اس وجہ سے میں نے اس کے پائو ں چوم لیے ۔ رب تعالیٰ ہمیں اطاعت کے اختیار کرنے میں یہ وصف نصیب فرمائے اور برائی کے چھوڑنے میں بھی یہ وصف نصیب فرمائے ۔ (اصلا حی خطبات، ص80)

حضرت شیخ شاہ کرمانی کی صاحبزاد ی کے لئے بادشاہ کرمان نے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ شیخ نے کہلا بھیجا کہ مجھے جواب کے لئے تین دن کی مہلت دیں ۔ اس دوران وہ مسجد وں میں گھوم کر کسی صالح انسان کو تلاش کرنے لگے ۔ ایک لڑکے پر ان کی نگاہ پڑی ، جس نے اچھی طرح نماز ادا کی اور دعا مانگی ۔ شیخ نے اس سے پوچھا : تمہاری شادی ہوچکی ہے ؟ اس نے نفی میں جواب دیا ۔ پھر پوچھا : کیا نکاح کرنا چاہتے ہو ؟ لڑکی قرآن مجید پڑھتی ہے ، نماز روزہ کی پابند ہے ، خوبصورت پاکباز اور نیک ہے ۔ اس نے کہا بھلا میرے ساتھ کون رشتہ کرے گا؟ شیخ نے فرمایا : میں کرتا ہوں ۔ لو یہ درہم ، ایک درہم کی روٹی ، ایک درہم کا سالن اور ایک درہم کی خوشبوخرید لائو ۔ اس طرح شاہ کرمانی نے اپنی دختر کا نکاح اس سے پڑھا دیا ۔ لڑکی جب شوہر کے گھر آئی تو اس نے دیکھا پانی کی صراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی ہے ۔ اس نے پوچھا یہ روٹی کیسی ہے ؟ شوہر نے کہا : یہ کل کی باسی روٹی ہے ۔ میں نے افطار کے لئے رکھی ہے ۔ یہ سن کر و ہ غم زدہ ہوگئی۔ شوہر نے کہا : مجھے معلوم تھا کہ شیخ شاہ کرمانی کی دختر مجھ غریب انسان کے گھر نہیں رک سکتی ۔ لڑکی نے کہا : میں تیر ی مفلسی کے باعث نہیں لوٹ رہی ، بلکہ اس لئے کہ خدا پر تیرا یقین بہت کمزور نظر آرہا ہے ۔ بلکہ مجھے تو اپنے باپ پر حیرت ہے کہ انہوں نے تجھے پاکیزہ خصلت ، عفیف اور صالح کیسے کہا ، جب کہ حق تعالیٰ پر تمہارے اعتماد کا یہ حال ہے کہ روٹی بچا کر رکھتے ہو۔ نوجوان نے اس کی بات سنی تو کہا اس کمزوری پر معذرت خواہ ہوں ۔ لڑکی نے کہا: اب یامیں رہوں گی یا یہ روٹی ۔ نوجوان نے فوراً جا کر روٹی خیرات کردی اور ایسی درویش خصلت شہزادی کا شوہر بننے پر خدا کا شکر ادا کیا ۔ (روض الریاحین )

متعلقہ خبریں