Daily Mashriq

قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری، حکومت کا امتحان

قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری، حکومت کا امتحان

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن احتجاج کرے تو بھرپور جواب دیا جائے، پی ٹی آئی اراکین جارحانہ حکمت عملی اپنائیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بلیک میل نہیں ہوں گے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام پارلیمنٹیرینز کو اپنے حقوق اور امنگوں کے ترجمان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، اراکین جب عوام کی آواز بنتے ہیں تو عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ نجی ٹی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت حکومت اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے چور، ڈاکو ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف کے ارکان کو ہدایات دیں کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تقریر بھی نہیں کرنے دینی۔اس موقع پر حکومتی رکن ثنا اللہ مستی خیال نے وزیرا عظم کی ہدایات پہ کہا کہ وزیر اعظم صاحب ہاتھ جوڑتا ہوں، ہمیں بجٹ منظور کرانا ہے احتجاج نہ کریں،جس پہ وزیر اعظم نے کہا ثنا اللہ تمہیں نہیں پتہ یہ مجرم ہیں ان کے خلاف یہ سب کرنا ضروری ہے۔اس دوران اتحادی جماعت کے رکن خالد مگسی نے وزیرا عظم سے استفسار کیا کہ خان صاحب کیا اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے؟وزیرا عظم نے جواب دیا کہ میں اکیلا آیا تھا کوئی رہے نہ رہے میں لڑوں گا۔اپنی ہی جماعت کے بعض اراکین نے وزیراعظم عمران خان کو کھلے بندوں جن معاملات کی طرف توجہ دلانے کی سعی کی اس کے باوجود وزیراعظم کاایوان میں شور شرابا کی ہدایت عجیب وغریب طرز عمل ہے ایک جانب وزیراعظم قائد حزب اختلاف کو خطاب سے روکنے کی حکمت عملی دے رہے ہیں تو دوسری جانب خود اپنے خطاب کیلئے حزب اختلاف سے خاموشی کی ضمانت طلب کر رہے ہیںاس طرح ایوان میں شائد ہی کبھی ہوا ہو کہ حزب اختلاف کو بولنے نہ دیا جائے اور خود قائد ایوان اپنی سنانے کی فرمائش کرے۔ہم سمجھتے ہیں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن اس مقصد کیلئے حکومت کو سب سے پہلے ہاتھ آگے کرنا ہوتا ہے اُس کے بعد حزب اختلاف سے بات چیت ممکن ہوا کرتی ہے مگر یہاں صورتحال برعکس ہے ۔قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران حزب اختلاف کے قائد کو’’چور کو بولنے نہیں دیںگے‘‘ کے نعرے کے ساتھ حکومتی ارکان کا شور شرابا اور شہباز شریف کو بولنے نہ دینا وزیراعظم عمران خان کا اپنے اراکین کو اسمبلی میں اس قسم کا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت وہ سیاسی حکمت عملی ہے جوقبل ازیں کبھی اختیار نہیں کی گئی اسے سمجھنا اور اس مصلحت اورحکمت ودانش تک رسائی خاصا مشکل ہے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تعداد اور قوت فی الوقت ایسی نہیں کہ وہ واقعی بجٹ منظور نہ ہونے دے ۔بی این بی مینگل کے پانچ اراکین کے حزب اختلاف کی صفوں میں شمولیت کی صورت میں بھی حکومت بجٹ منظور کراسکتی ہے ۔سیاسی حالات جس طرح پلٹا کھا رہے ہیں اور جس انداز میں چیئر مین سینٹ کو عہدے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے پر اتفاق کی اطلاعات مل رہی ہیں اس صورتحال میں خاص طور پراور علاوہ ازیں بھی حکومت کا مفاد اسی میں ہے کہ جلد سے جلد بجٹ کی ایوان سے منظوری حاصل کرلے گزرتے وقت کے ساتھ حالات حزب اختلاف کیلئے موافق اور حکومت کی مشکلات میں اضافہ کی جانب راغب دکھائی دے رہے ہیں بجٹ کی منظوری میں تاخیر حزب اختلاف کی حکمت عملی کی کامیابی اور حکومتی حکمت عملی کی ناکامی تصور ہوگی اس کا حکومتی ارکان کو ادراک ہونے کے باوجود ہدایت کے مطابق ان اسمبلی میں اشتعال انگیزی کی پالیسی اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف عمل ہے جس کا جتنا جلد ادراک ہو اتنا بہتر ہوگا۔ کیا یہ عجیب صورتحال نہیں کہ حکومتی ارکان نے خود اپنی ہی جماعت کے سپیکر کیلئے ایوان چلانا مشکل بنادیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر حزب اختلاف کے قائد تقریر نہیں کریں گے تو ایوان کیسے چلے گا بجٹ کیسے منظور ہوگا۔ بجٹ کی منظوری نہ ہونے دینا حزب اختلاف کا اعلانیہ ایجنڈا ہے اور اس کیلئے معاونت حکومتی بنچوں سے مل رہی ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بجٹ منظور کروائے اور اگرحکومت بجٹ کی ایوان سے منظوری لینے میں ناکام ہوتی ہے تو یہ ایوان کا عدم اعتماد ہوتا ہے جس کا حکومت کو بہر حال علم ہوگا۔ ایوان میں حکومت اور حزب اختلاف کا فرق مٹ جائے تو ایوان کا چلنا ممکن نہیں ہوتابعض بیانات سے تو واضح طور پر اس امر کا اظہار نظر آتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو ایوان چلانے میں وہ اعتماد اور خود مختاری حاصل نہیں جو اس کے آئینی عہدے کا تقاضا ہے۔ایوان میں حزب اختلاف کے ساتھ حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کی انوکھی حکمت عملی محاذ آرائی کو اتنا بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے کہ ایوان خطرے میں پڑجائے۔ ایوان میں نہ کوئی تنہا جنگ لڑسکتا ہے اور نہ ہی جمہوریت تنہا اور اکیلے چلانے کا نام ہے اور نہ ہی جمہوریت میں تنہارہ جانے والی جماعت کے پاس اگر اکثریت نہ ہو تو وہ حکومت چلا سکتی ہے۔حکومت کو بجٹ منظور کرانے کیلئے نہ صرف حزب اختلاف کو سننا اور برداشت کرنا ہوگا بلکہ اس کیلئے مفاہمانہ رویہ بھی اختیار کرنا حکومت کی ضرورت ہے جس کا جتنا جلد ادراک ہو اتنا اچھا ہوگا۔ حزب اختلاف صرف ایوان کے اندر ہی بجٹ کی مخالف نہیں بلکہ بجٹ اور مہنگائی کی آڑ میںحزب اختلاف حکومت پر وار کرنے کے موقع کی تاک میں نظر آتی ہے۔ بجٹ اجلاس کی حکمت عملی ایک ہی جماعت اور ایک ہی حکومت کا مختلف ہونا بھی حکومتی صفوں میں عدم ہم آہنگی کا مظہر ہے ۔ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ نے بجٹ اجلاس سے قبل حزب اختلاف کو منانے اور ان کے کمیٹیوںسے استعفے کی واپسی کا پورا سامان کیا جس کے باعث صوبے میں بجٹ اجلاس کے معتدل ہونے اور بجٹ بغیر کسی غیر معمولی شور شرابہ کے منظور ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے قائدین کو اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔حکومت اور حزب اختلاف خواہ جتنا بھی ایک دوسرے کو، کو سیں احتساب کے عمل کا اس سے بظاہر کوئی خاص تعلق نہیں۔ احتساب کے معاملات کو ایوان میں لے جانا اور جاری معاملات کو کسی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے گلے کا طوق بنانا قانونی اور آئینی طور پر نامناسب طرز عمل ہے سیاسی جماعتیں ایوان میں ایک دوسرے کے محتسب ہیں ان کو وہیں آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا احتساب کرنا چاہئے ایوان سے باہر کے معاملات وہیں رہنے دیئے جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں