Daily Mashriq

شادی ہالوں کی بھرمار سے درپیش مسائل

شادی ہالوں کی بھرمار سے درپیش مسائل

پشاور میں گلی گلی کھلنے والے شادی ہالوں کی بھر مار کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ ان شادی ہالوں میں رات گئے تک گانوں کی آوازیں آنے اور شور و غل کے باعث قرب و جوار کے رہائشی مکینوں کی پریشانی اچنبھے کی بات نہیںشوروغل کے باعث طالب علموں کو پڑھائی پر دھیان دینے میں دشواری ہوتی ہے۔ مریض آرام نہیں کر پاتے۔ شادی میں شرکت کرنے والے حضرات اپنی گاڑیاں سڑک پر اس طرح کھڑی کرتے ہیں کہ گزرنے کا راستہ نہیں رہتا اور اس سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔حکومت پارکنگ کے بغیر شادی ہالز اور بڑی عمارتیں بنانے پر پابندی لگانے کا تو کہتی ہے لیکن عملی طور پرکچھ بھی سامنے نہیں آتا۔ اب تک کھولے گئے شادی ہالز کی بندش اور ان کو پارکنگ کیلئے جگہوں کا انتظام کروانا حکومت کیلئے مشکل ہوگا کم از کم مزید اس قسم کے شادی ہالز قائم نہ ہونے دینے ہی پر توجہ دی جائے تو یہ بھی غنیمت ہوگی۔بہتر ہوتا کہ شادی ہال رہائشی علاقوں میں ہونے کے بجائے کمرشل علاقوں میں قائم کئے جاتے۔جہاں پارکنگ کی باقاعدہ سہولت ہوتی اور شادی ہالوں کے قیام کی اجازت ہی پارکنگ ایریا دیکھ کر دی جاتی مگر یہاں بلا سوچے سمجھے اورکسی اجازت نامے کے بغیر جگہ جگہ شادی ہال قائم کردئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہر کا حلیہ ہی بگڑ چکا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسی اور قوانین بنائے کہ شادی ہالز عوام کے لئے سہولت کا باعث بن جائیں زحمت اور تکلیف کا باعث نہ ہوں۔ شادی ہالز کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کئے جائیں اور مقررہ وقت پر پروگرام ختم کرنے کی پابندی کرائی جائے۔

پولیو قطرے پلانے سے انکاری والدین کیلئے لمحہ فکریہ

بنوں میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری شخص کے بچے کا پولیو میں مبتلا ہونا اور وائرس کی تصدیق صرف اس شخص ہی کیلئے نہیں پولیو قطرے پلانے کے مخالفین کیلئے چشم کشا ہے صرف یہی نہیں بلکہ جو والدین مخالفت کے باعث نہیں غفلت کے باعث اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے میں سستی برتتے ہیں ان کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہیئے۔ضروری نہیں کہ پولیو قطرے نہ پینے والا ہر بچہ خدانخواستہ پولیو سے متاثر ہوجائے لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ ہر وقت خطرے کی حالت میںہوتا ہے اور کسی بھی وقت پولیو کا وائرس اس کی صحت متاثر کرسکتا ہے۔جس والد کی بے جا ضد اور انکار کی وجہ سے اس کا بچہ پولیو کے مرض سے نہ بچ سکا ان والدین کیلئے معصوم بچے کی تکلیف اور معذوری زندگی کا روگ بن جانا فطری امر ہوگا اب پچھتائے کیا ہوتا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت قسم کے پچھتاوے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ پولیو کے انسداد کیلئے کوشاں حکام کو اس بچے کو مثال کے طور پر پیش کر کے انکاری والدین کو اپنے بچوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے پولیو ویکسین پلانے پر آمادہ کرنے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے۔مثال سامنے ہو اور باثبوت صورتحال سمجھائی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انکاری والدین اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے بچوں کو خدانخواستہ معذوری کی دلدل میں دھکیلنے پر پھر بھی بضد ہوں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ بنوں میں پیش آنے والے ا س افسوسناک واقعے سے مخالفین عبرت حاصل کر کے مخالفت ترک کرنے کی راہ اپنائیں گے۔

متعلقہ خبریں