Daily Mashriq

کون مرسی؟

کون مرسی؟

تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے لیڈروں نے حصول مقاصد میں جان ہار دی ہے۔ کتنے کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، کتنے کے سر قلم کر دئیے گئے اور کئی سارے کال کوٹھڑیوں میں دم گھٹ گئے، ان میں سے کئی ایک شہید تھے کیونکہ ان کی جہدوجہد حق کیلئے تھی اور بعض اقتدار کے کھیل میں جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ انہی میں ایک نئے اور عظیم نام کا اضافہ ہوا ہے وہ ہے مصر کے سابق منتخب صدر مرسی شہید، وہ شہید اس لئے ہیں کہ ان کی سیاسی جدوجہد اللہ کی راہ میں تھی اور جس کی جا ن اللہ کی راہ میں جائے وہی شہید ہوتا ہے، اس کو موت بھی کہاں آئی عدالت کے کٹہرے میں جو تاریخ میں منفرد اور لاثانی مقام مرگ ہے، مصر کے سابق منتخب صدر مرسی کے بارے میں مصری ٹی وی نے صرف اتنا کہنے کی ہمت کی کہ سابق صدر محمد مرسی کا ایک مقدمے کی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت میں انتقال ہوگیا۔ محمد مرسی کمرہ عدالت میں موجود تھے کہ عدالتی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد بے ہوش ہوگئے تاہم ان کو طبی امداد کی غرض سے اسپتال لے جایا گیا مگر وہ راستے میں دم توڑ گئے، منتخب صدر محمد مرسی 30جون 2012 سے 3جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے، اس عرصہ کے دوران ان کی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی غرض سے مصری فوج کے افسروں نے باقاعدہ سازشوں کے ذریعے مصر میں ہنگامہ آرائیوں کی پشت بانی کی اور پھر ان کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور مصر کے ایک منتخب صدر کو کال کوٹھڑی کی نذر کر دیا گیا جیسا کہ مصر جیسے دیگر ممالک میں بھی ہوتا آرہا ہے، صدر محمد مرسی کو کال کوٹھڑی میں بند کرنے کے بعد ان پر یہ بھونڈا الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 2011ء میں اسلامی شدت پسندوں کی جیل سے فرار میں مدد کی تھی جس پر انہیں سزائے موت کا حکم جاری کر دیا گیا۔ اس فیصلے کیخلاف ملک کی عدالت نے سزا کا حکم ختم کر کے ان پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا، جس کمرہ عدالت میں مرحوم کا انتقال ہوا وہاں ان کیخلاف دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی جماعت حماس کیساتھ رابطوں کے حوالے سے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا، محمد مرسی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت تھے، وہ 1951میں مصر کے گاؤں شرقیا میں پیدا ہوئے انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، امریکا سے پی ایچ ڈی کی۔ اخوان المسلمین نے ان کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا اور محمد مرسی نے پہلی مرتبہ دنیا میں عوامی پرچی کے ذریعے ایک عظیم پرامن انقلاب برپا کیا جس کو اس ملک کی فوج نے تہس نہس کر دیا، مصری ذرائع کے مطابق مرسی کو عدالت میں ایک پنجرے میں بند کر کے پیش کیا گیا تھا جس میں رہتے ہوئے انہوں نے عدالت سے خطاب کیا تھا۔ عدالت نے پنجرے میں بند رکھنے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، مصر کے سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مرسی کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقعہ ہوئی جبکہ دوسری جانب اخوان المسلمین نے مرسی کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے عام لوگوں سے محمد مرسی کے جنازے میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکن اور محمد مرسی کے خاندان کے افراد سے ایک طویل عرصے سے کہا جا رہا تھا کہ محمد مرسی کو ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے امراض خطرناک حد تک لگے ہوئے ہیں اور ان کو ضرورت کے مطابق طبی امداد نہیں میسر کی جا رہی ہے اور مسلسل قید تنہائی میں رکھنے کی وجہ سے بھی امراض میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں مصری حکومت نے قید کے دوران مرسی کے خاندان کو رسائی بھی فراہم نہیںکی اس لئے یہ براہ راست معلوم نہ ہو سکا کہ ان پر جیل کی قیدتنہائی میں کیا بیت رہی ہے، تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا ہے کہ محمد مرسی کو قید کے دوران صرف تین بار اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ ان کے وکیل اور ڈاکٹر کو آخری وقت تک ملنے نہیں دیا گیا۔ اسی بنیاد پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محمد مرسی کی موت کی غیرجانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مصری حکومت نے اپنے طور پر مرسی کی لاش کو نامعلوم جگہ پر دفنا دیا ہے جبکہ محمد مرسی کے بیٹے عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کو لاش کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ کہاں ہے اور حکام مرسی کو ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کرنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے ہیں۔ محمد مرسی کو جون 2016 میں عدالت نے غیرقانونی گروہ کی سربراہی کے الزام میں عمر قید دی تھی اور خفیہ دستاویزات چرانے کے الزام میں پندرہ سال کی سزا کو ختم کر دیا تھا یہاں یہ واضح رہے کہ مصر میں عمرقید کی سزا پچیس سال ہوتی ہے اور اس سزا کیخلاف اپیل بھی دائر نہیں کی جاسکتی۔ مرسی پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قطر کیلئے جاسوسی کی ہے تاہم قطر نے اس الزام کی تردید بھی کر دی تھی، حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک منتخب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حکمران پر جہاں مختلف الزامات عائد کر کے سزا سنائی جاتی رہی ہے وہاں جیل توڑنے اور تشدد کرنے کے مقدمات قائم بھی قائم کئے گئے تھے۔مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے انتقال پر مختلف تنظیموں اور عالمی شخصیات کی طرف سے بھی ردعمل آیا ہے جو رسمی انداز کا نہیں ہے۔ سب سے زیادہ توجہ طلب بیان ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا ہے انہوں نے مرسی کی موت کا الزام مصر کے ’ غاصبوں‘ پر لگایا ہے جس ملک کیلئے جاسوسی کا الزام مرسی مرحوم پر لگایا گیا تھا یعنی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے مرسی کی موت پر محض گہرے دکھ کا اظہار کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ وشمالی امریکا نے تبصرہ کرتے ہوئے مصری حکومت کو موردالزام ٹھہرایا کہ اس نے چھ سال تک مرسی کو قیدتنہائی میں رکھا جس نے ان کے دماغ اور جسمانی حالت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب کئے ان کو انتہائی سختی کیساتھ باہر کی دنیا سے کاٹ کر رکھا گیا، ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ کی سربراہ سارہ لی وٹسن نے مرسی کی موت کو خوفناک لیکن مکمل طور پر قابل پیش گوئی قرار دیا ہے، تاہم اس واقعہ سے مصر کے حالات پر منفی اثرات پڑنے کی بھی پیش گوئیاں شروع ہو گئیں ہیں۔

متعلقہ خبریں