Daily Mashriq

سیاحوں کی مشکلات، آبنوشی، قبائلی بچہ اور خصوصی افراد

سیاحوں کی مشکلات، آبنوشی، قبائلی بچہ اور خصوصی افراد

عیدالفطر کے موقع پر لوگ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ یا پھر زیادہ تر دوستوںکے ساتھ مختلف مقامات کی سیاحت کیلئے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سیاحوں کو سہولتوں کی فراہمی پر خاصی توجہ دی جارہی ہے مگر ابھی اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ چترال کی سیاحت کرنے والے ایک سیاح داؤد خان نے شکایت کی ہے کہ چترال میں سیاحوں کی بڑی دلچسپی کے باوجود وہاں پر ریسٹورنٹس اور ٹھہرنے کے مقامات کی شدید کمی محسوس ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عید کے موقع پر جب کھانے پینے کے اشیاء کی بہت زیادہ مانگ تھی وہاں پر ریسٹورنٹس مالکان عید کی تعطیل کر گئے، پہلے سے ہی تعداد میں کم اور پھر بندش کے باعث سیاحوں کو طعام وقیام کی مشکلات درپیش رہیں۔ چترال میں عید کے موقع پر ریسٹورنٹس کی بندش واقعی حیرت کی بات ہے۔ کاروباری طبقے کو بھی عید منانے اور عید کی چھٹی کا حق ضرور حاصل ہے، کاروبار کے اس بہترین موقع کی قربانی دل گردے کی بات ہونا اپنی جگہ لیکن سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی اور ان کی تکلیف کا احساس بھی ہونا چاہئے۔ بہرحال یہ شخصی آزادی کا معاملہ ہے انتظامیہ کو اس طرح کے مواقع پر فوڈ میلہ لگانے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ کاروبار کے متلاشی لوگوں کو کاروبار اور سیاحوں کو کھانے پینے کے اشیاء کی قلت کا سامنا نہ ہو۔ اتفاق سے یہ دوسرا تحریری مراسلہ بھی اپرچترال سے موصول ہوا ہے، ریش گول کے ممتاز سماجی کارکن علی دوست شکایت کرتے ہیں کہ ان کے علاقے میں ویسے تو پانی کی کوئی قلت نہیں، ایک دریا ہے جو دریائے چترال سے جا ملتا ہے البتہ پناندہ اور بٹکاندہ کے لوگوں کی زمینوں کو سیراب کرنے والی ندی میں مئی سے پانی کم آنا شروع ہوتا ہے، اس ندی کے پانی کا حق برائے آبپاشی زمانہ قدیم سے ڈوک شال‘ پناندہ اور بٹکاندہ کے لوگوں کی اراضی کا چلا آرہا ہے۔ اب آبنوشی کے بہانے بعض عناصر اقرباء پروری اور حکام کی ملی بھگت سے یہ پانی پائپ لائن کے ذریعے غیرقانونی طور پر حاصل کرچکے ہیں چونکہ ریش کی بڑی ندی سے ان کو آٹھ انچ قطر کی پائپ لائن پہلے ہی میسر ہے اسلئے دوسری ندی سے ان کو پائپ دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہمیں ان کو آبپاشی کیلئے پانی کی فراہمی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ان کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ قلیل پانی کے حامل ندی سے آبنوشی کے نام پر آبپاشی کیلئے پانی حاصل کریں۔ ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ ان کو بڑی ندی سے جہاں ہر وقت وافر مقدار میں پانی آتا ہے ایک اور پائپ لائن کے ذریعے مزید پانی فراہم کرے اور ہمارے لئے ندی میں پانی کی قلت کے دنوں میں اسی پائپ لائن سے پانی فراہم کیا جائے۔اس کالم میں جب کسی مسئلے کے حل کے حوالے سے کوئی جوابی پیغام ملتا ہے تو یہ ہمارے لئے نہایت اطمینان کا لمحہ ہوتا ہے۔ وزیرستان کے کسی گاؤں سے ایک بچے کا ٹوٹا پھوٹا برقی پیغام ان کے فون نمبر سمیت ملا تو ہم نے اس کالم میں کورکمانڈر پشاور سے ان کی تعلیم اور کفالت کے مطالبے کیساتھ شامل کیا۔ ایجوکیشن کور کے کرنل اظہر نے رابطہ کرکے بچے کی مزید تفصیلات اور خاص طور پر جائے سکونت کی تفصیلات طلب کیں لیکن ہمارے پاس سوائے ان کے فون نمبر کے کچھ نہ تھا۔ بدقسمتی سے وہ فون نمبر بند آرہا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ بچے کو پیشکش بھی ہو رہی تھی لیکن رابطے کا واحد ذریعہ بند تھا۔ خوشی اس بات کی کہ قبائلی علاقوں میں جہاں بعض عناصر پاک فوج کے بارے میں معاندانہ رویہ کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک بچے کی اپیل تک کا پاک فوج کے ذمہ دار افسران نوٹس لیتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قبائلی بچے نظرانداز نہ ہوں۔ ہم اپیل چھاپنے کی حد تک ہی مدد کر سکتے تھے اور پاک فوج کے متعلقہ اعلیٰ عہدیداران ان کو مفت تعلیم کی پیشکش ہی کے مکلف تھے۔ اب بھی اگر محولہ بچہ یا ان کی اپیل کے حوالے سے ان کے رشتہ دار یا گاؤں کے کسی شخص کو علم ہے تو کالم میں دئیے گئے فون نمبر پر میسج کر سکتے ہیں۔ کرنل اظہر سے ان کا رابطہ کرا دیا جائے گا۔ ہمیں بجا طور پر توقع ہے کہ قبائلی اضلاع میں پروپیگنڈہ باز کم اور مثبت رائے رکھنے والے لوگ بہت اکثریت میں ہیں۔عدنان عمرزئی کے برقی پیغام کی واضح طور پر سمجھ نہ آئی لیکن اتنا علم ہے کہ وہ ہر بار معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے اور ان کی مدد کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معذور افراد کو میرٹ پر اور کسی سفارش کے بغیر ان کی اہلیت کے مطابق روزگار دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام معذور افراد محنت کرکے اپنے آپ کمانے کے خواہشمند ہیں بس اتنا ہی کیا جائے کہ معذوروں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔ معذور افراد کا سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ مقرر ہے، عدنان درست کہتے ہیں کہ کم ازکم معذوروں کا کوٹہ تو میرٹ پر کیا جائے۔ خصوصی افراد کو ہم صرف خصوصی افراد کا نام دیکر ہی خودساختہ عزت اور حق دینے کے دعویدار ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ اس قدر شقی القلب ہے کہ ہمیں کسی کا خیال ہی نہیں رہتا۔ خوف خدا اور شرف انسانیت کا مظاہرہ کیا جائے تو ان خصوصی افراد کو سرکاری اداروں‘ کارپوریشنوں ہی میں جگہ دینا کافی نہیں ہر بڑے نجی ادارے میں کچھ کام تو ایسے ہوں گے جن کو خصوصی افراد باآسانی انجام دے سکیں گے لیکن خصوصی افراد کیلئے ہم نے سرکاری محکمے ہی مختص کئے ہیں جہاں آسامیوں کی تعداد کم اور خصوصی افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ خصوصی افراد کو حکومت خاص طور پر چھوٹے موٹے اور ان کے اپنے علاقوں میں مناسب کاروبار کیلئے امدادی رقم دے اور ان کی کاروبار شروع کروانے میں مدد کرے تاکہ خصوصی افراد اپنے پیروں پرکھڑے ہو سکیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں