Daily Mashriq

آنہ روٹی دال مفت

آنہ روٹی دال مفت

کل صبح سویرے اخبار دیتے ہوئے ہمارے ہاکر نے کہا کہ صاحب کبھی ہم غریبوں پہ بھی اپنے کالم میں کچھ لکھیں، میری سادگی دیکھیں میں نے پوچھا کیوں بھائی ہاکروں پر کیا افتاد آن پڑی ہے؟ تو وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا! نہیں صاحب میں صرف اپنی نہیں اپنی طرح کے تمام دیہاڈی مار غریب عوام کی بات کر رہا ہوں۔ صبح سے لیکر شام ہو جاتی ہے مگر آٹا دال پورا نہیںہوتا۔ میں نے آپنے دیرینہ دوست (کیونکہ صحافی اور ہاکر کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے) کے اصرار پر حامی بھر لی اور یہ سطور آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حسب روایت میں کمپیوٹر کے کی بورڈ پر انگلیاں رکھے بیٹھا تھا، تاکہ ہاکر کی فرمائش کو عملی جامعہ پہنایا جائے اچانک حفیظ شیخ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں ایک صحافی خاتوں کے اچھوتے روئیے کا خیال آگیا‘ مشیر خزانہ سے سوال کرتے ہوئے خاتون صحافی آبدیدہ ہوگئی، انہوں نے کہا کہ برائے کرم وزیراعظم عمران خان تک ہماری فریاد پہنچا دیں کہ ہماری چیخیں مت نکلوائیں بلکہ ان کی چیخیں نکلوائیں اور انہیں رلائیں جنہوں نے ملک وقوم کا پیسہ کھایا ہے۔ ہم غریب تو بڑی مشکل سے اپنا آٹا دال پورا کر پاتے ہیں، مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، موجودہ حالات میں جہاں ہمارے پیارے ملک کے عوام کو اور بہت کچھ بھول گیا ہے وہاں ملک میں سستی اشیاء صرف کا ایک شاندار دور بھی گزرا ہے مگر اب کسی کو یاد نہیں ہے۔ بقول شخصے مہنگائی کے اس چکر میں یوں پھنسے ہیں کے آٹا دال کے بہاؤ بھول گئے کیونکہ یہ روایت میرے پیارے وطن پاکستان میں ہوا کرتی تھی کہ جب بھی کسی قصبے کے چھوٹے ہوٹل یا تندور ہوٹل سے کھانا کھاتے ’’آنہ روٹی دال مفت‘‘ کے فارمولے سے آپ کو صرف روٹی کے پیسے دینے پڑتے تھے اور دال جتنی کھائیں بلکل مفت ہوتی اور ان دنوں دال ملک عزیز میں نہایت ارزاں نرخوں میں فروخت ہوا کرتی تھی۔ امیر لوگ تو کھاتے ہی نہیں تھے صرف غریب لوگوں کی خوراک ہوا کرتی تھی اور غریب بڑے مزے سے کہا کرتے تھے کہ بھئی دال روٹی کھا کر گزارا کر رہے ہیں۔ تمام کے تمام جیل خانوں میں قیدیوں کو کھانے کیلئے اکثر دال ہی دی جاتی تھی اور اکثر کہا جاتا تھا کہ جیل کی دال کھاؤ گے تو عقل ٹھکانے آجائے گی کیونکہ اس زمانے میں جیل میں صرف دال ہی پکائی اور کھلائی جاتی تھی، وہ بھی اتنی بے ذائقہ کہ اللہ کی پناہ، جہاں تک جیل کی دال کے ذائقے کا تعلق ہے تو نہ کبھی ہم پہلے جیل گئے اور نہ ہی آئندہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم جیل جائیں بھی کیوں کیونکہ نہ تو ہم چور ڈاکو یا اچکے ہیں اور نہ ہی سیاستدان ہیں لہٰذا ہم کیوں کھائیں دال۔ تاہم سیاستدان آمریت کے زمانے میں بھی جیل میں رہے اور جمہوریت کے دور میں بھی جیل کی ہوا کیساتھ جیل کی دال سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی فہرست میں جہاں پچھلی حکومتوں کے کئی وزراء کے نام پیش کئے جاسکتے ہیں وہاں سابق صدر، وزرائے اعظم بھی جیل یاترا کر چکے ہیں۔ آج کل بھی ایک سابقہ صدر اور ایک وزیراعظم جیل میں ہیں اور کچھ ہی دنوں میں کچھ اور بھی سیاسی کھلاڑی جیل یاترا کرنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ صرف غریب آدمی جیل میں دال کھاتا ہے ان سیاستدانوںکے تو جیل میں موج میلے ہوتے ہیں۔صوبائی حکومت کے ارکان تو ایک روٹی کھانے کی تجویز دے ہی چکے ہیں، وفاقی حکومت کے پاس فارن کوالیفائیڈ یا فارن پلٹ وزیرِ خزانہ ہیں اس طرح کے فارن کوالیفائیڈ وزیر پہلے بھی حکومتوں کو مشورہ دے چکے ہیں کہ اگر لوگ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اتنے مہنگے موبائل فون خرید سکتے ہیں تو آٹا دال تو ان کیلئے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ مشرقی پاکستان نے ہم سے علیحدہ ہو کر مائکرو فائنانس سسٹم کے ذریعے اپنے وطن کے غریب آدمی کی حالاتِ زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب ہو گیا ہے لیکن افسوس ہمارے فارن کوالیفائیڈ وزیرخزانہ بلکہ وزیراعظم کے بہت چہیتے وزیر پانی وبجلی کے ہوتے ہوئے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ سابق فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان ایوب خان کے پوتے اور سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان کے بیٹے عمر ایوب خان لیکن ٹھہرئیے یہ ایوب خان کہیں وہ جنرل صاحب تو نہیں جنہوں نے ایک آنہ چینی مہنگی ہونے پر عوام کے سڑکوں پر آنے سے استعفیٰ دیدیا تھا اور ایک عوامی لیڈر برسراقتدار آیا تھا وہ الگ بات ہے کہ پھر اسی کے دور میں چینی ریکارڈ مہنگی بکی اور وہ بھی بلیک میں۔ عوام حسب عادت پھر سڑکوں پر آئے اور اپنے عزیز عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو جوتے دکھائے جس پر موصوف نے بڑی کمال ہوشیاری سے کہا کہ پتا ہے پتا ہے کہ جوتے مہنگے ہوگئے ہیں۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ اس نے اور اس کی بیٹی اور ان کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے غربت کے خاتمے کے وہ وہ پلان بنائے تاکہ نہ رہے غریب اور نہ رہے غربت۔ لیکن اب نہ صرف وزیراعظم عمران خان خود بلکہ وزیر خزانہ بھی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ گھبرائیں نہیں یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے پھر حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں