Daily Mashriq

آغا سراج درنی کی درخواست ضمانت، ایک اور جج کی سماعت سے معذرت

آغا سراج درنی کی درخواست ضمانت، ایک اور جج کی سماعت سے معذرت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور جج نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف بدعنوانی ریفرنس میں ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں برس فروری میں اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد میں قائم ایک ہوٹل سے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔

جس کے بعد آغا سراج، ان کے بھائی آغا مسیح الدین، اہلیہ، بیٹوں اور بیٹیوں سمیت خاندان کے 13 اراکین کے خلاف کرچی کی احتساب عدالت میں ریفرنس فائل کردیا گیا۔

گرفتار اسپیکر اسمبلی نے اپنے وکیل کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی گئی تھی جبکہ ان کے بھائی اور دیگر ملزمان نے بھی عبوری ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مذکورہ درخواستیں جب جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد سلیم جیسر پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئیں تو جسٹس سلیم جیسر نے ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔

جس کے بعد مذکورہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پاس بھیج دیا گیا تا کہ درخواست کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا جائے۔

بعدازاں سراج درانی کی ضمانت کی درخواست جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک اور ڈویژن بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔

تاہم نو تشکیل شدہ بینچ میں سے جسٹس کریم آغا نے درخواست سننے سے معذرت کرلی۔

یار رہے کہ نیب نے اسپیکر صوبائی اسمبلی کو مبینہ طور پر آمدنی سے زائد منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بنانے کی تحقیقات کے لیے حراست میں لیا تھا۔

اس کے ساتھ ان سے 352 افراد کی غیر قانونی تعیناتی، ایم پی اے ہوسٹل کی تعمیرات، سندھ اسمبلی کی بلڈنگ کے سرکاری فنڈ میں خردبرد اور ان منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی تفتیش کی گئی۔

گزشتہ ماہ نیب نے آغا سراج درانی اور دیگر کے خلاف ریفرنس فائل کیا تھا جس میں ان پر غیر قانونی ذرائع سے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا۔

متعلقہ خبریں