مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کا عمل تیز کرنے کی ضرورت

مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کا عمل تیز کرنے کی ضرورت


اگرچہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری ڈیڈ لاک تو اپنی جگہ موجود ہے ساتھ ہی لندن میں پاک افغان کشیدگی کے خاتمے بارے مذاکرات میں کسی پیش رفت کے سامنے نہ آنے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد بند کرنے کے اقدام کو سخت فیصلہ ضرور گردانا جا سکتا ہے لیکن ایک پڑوسی ملک کے ساتھ اس انتہائی اقدام کی ضرورت اور پس منظر کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا کرنا پاکستان کی مجبوری دکھائی دیتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث زیادہ تر دہشت گرد پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سرحدی مقامات سے افغانستان کے محفوظ علاقوں کو منتقل ہوگئے۔ اگر افغانستان اور اتحادی فوجیں اسی وقت افغان سرحد کھولنے کی بجائے بند کرکے اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی مراجعت کے امکانات کو مسدود کرتیں تو پاکستانی فورسز تعاقب کرکے دہشت گردوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی تھیں مگر اس وقت افغانستان اور اتحادی افواج نے برعکس معاملت کی جس کے باعث دہشت گرد افغانستان میں محفوظ ٹھکانے بنانے اور ری گروپنگ میں کامیاب ہوگئے۔ جہاں وہ نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جس کی روک تھام کے لئے پاکستان کے پاس سرحدیں بند کرکے سرحدوں پر باڑ لگا کر خندقیں کھود کر اور نئی چیک پوسٹیں اور حفاظتی چوکیاں بنا کر محفوظ سرحدی آمد و رفت کنٹرول کرنے کی سعی کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد دو ہزار چار سو تیس کلو میٹر طویل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کی افغانستان کے سینتا لیس فیصد حصے پر کوئی عملداری نہیں ۔ یہ علاقے افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ افغانستان میں داعش نے اپنے تربیتی کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت نے افغانستان میں انتیس غیر ضروری قونصل خانے کھولے ہیں جن کے ذریعے وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سر گرم عمل ہے۔ پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کو باضابطہ اور قانونی بنانا صرف ملکی سلامتی ہی کے لئے ضروری نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لئے بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان نے افغانستان کو زمینی راستے تجارت کی اجازت دی ہے جو بڑھ کر تقریباً دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے لیکن موثر انتظامی سرحدی کنٹرول نہ ہونے کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی واپس پاکستان سمگلنگ کی جاتی ہے جس سے حکومت کو کسٹم کی مد میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ساری صورتحال ایک طرف اگر دیکھا جائے تو بجائے اس کے کہ افغانستان پاکستان سے اچھے ہمسایوں کے تعلقات رکھنے کی سعی کرے افغانستان بھارت کی گود میں جاکر بیٹھ گیا ہے۔ بھارت کی سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے حوالے سے سرگرمیاں اور سازشیں تو نظروں سے اوجھل ہیں لیکن بھارتی قیادت نے سی پیک کے حوالے سے جو زہر آلود زبان استعمال کی اور بیانات دئیے بلوچستان میں اس کی تخریبی سرگرمیوں کے نگران کلبھوشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا' گوادر پورٹ پر اس کی بحریہ نے در اندازی کی جو کوششیں کیں وہ واضح اور سب کو معلوم ہیں۔ اس ساری صورتحال میں افغانستان کی سرزمین بھی استعمال ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ ایسے میں آخر پاکستان کب تک صرف نظر کی پالیسی اختیار کئے رکھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک کو محفوظ بنانے کے لئے داخلی طور پر ہم جو اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن جب تک افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ نہیں بنایا جاتا نہ تو سرمایہ کاروں کے تحفظ کی ضمانت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول ہوگا کیونکہ اس امر کے قوی خدشات ہیں کہ جوں جوں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں اور سر گرمیوں میں پیش رفت ہوتی جائے گی افغانستان میں بھارت اور بڑی طاقتوں کا نیٹ ورک متحرک ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کھولنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود افغانستان کا کردار و عمل ہے کہ جب بھی حالات ساز گار ہونے لگتے ہیں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور رونما ہوتاہے جس کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔ جب تک افغان حکام سرحدی معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کی دو طرفہ ذمہ داری میں سے اپنے حصے کی ذمہ داری عملی طور پر کر نہیں دکھاتے اس وقت تک اعتماد سازی مشکل امر ہوگا۔ تمام تر سفارتی الفاظ کے استعمال کے باوجود لندن مذاکرات میں سرحد کھولنے میں پیش رفت میں ناکامی کا اعلان ایک بڑی سفارتی کوشش کی ایسی ناکامی ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں پاکستان کے پاس سوائے اس کے کوئی دوسرا راستہ باقی دکھائی نہیں دیتا کہ پاکستان تیزی کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے اور خندقیں کھود کر اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے عمل میں تیزی لائے اور اس کے لئے وسائل مہیا کرنے میں حکومت کی جانب سے غیر معمولی اقدامات میں بخل سے کام نہ لیا جائے۔ ہمارے تحفظ کے لئے مشرقی سرحدوں کے مماثل مغربی سرحدوں پر بھی انتظامات کی ضرورت ہے تاکہ دراندازی اور دہشت گرد حملوں کی موثر روک تھام کی جاسکے۔

اداریہ