Daily Mashriq


 قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ؟

قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ؟

سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے سیاسی جماعتوں کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ معاملہ 2019 ء سے بھی آگے تک جاسکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2015 میں فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق 2 بل پاس کیے گئے تھے، مگر 2 سال بعد ملک واپس گھوم پھر کر وہیں آگیا جہاں پہلے کھڑا تھا۔سینیٹ چیئرمین کے ریمارکس کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں کسی بھی سیاسی پارٹی کی ترجیح نہیں ہیں، مگر یہ فیصلہ ملک میں امن و امان کی عجیب صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ملک کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد شروع کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کے قومی مفاد سے وہی بخوبی واقف ہوں گے اس ضمن میں تحریک انصاف جیسی حکومتی ناقدکا موقف بھی حکومتی موقف سے مختلف نہ ہونا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے پی پی پی کے اس معاملے پر طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں عدم شرکت کے بعد پی پی پی اپنے موقف میں تنہا رہ گئی تھی رہی سہی کسر حسین حقانی کے الزامات سے پوری ہوگئی۔ حکومت کا پی پی پی کی تجاویز کو شامل کر کے بل کی منظوری کی راہ ہموار کر کے گو یا پی پی پی کو ایک اچھا موقع دیا۔ قطع نظر ان معاملات کے اصل سوال یہ ہے کہ آخر ارکان پارلیمنٹ متبادل اور مئوثر قانون سازی بھی نہیں کر تے اور مخالفت بھی کی جاتی ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے۔ اب جبکہ معاملات طے پاگئے ہیں تو کم از کم اس امر کی کوشش ہونی چاہیئے کہ پارلیمنٹ ان دوسالوں کے دوران مئوثر قانون سازی کر کے خلا پر کرے تاکہ فوجی عدالتوں کے قیام کا جو از اور تو سیع کی ضرورت ہی باقی نہ رہے ۔ پی پی پی کے پاس اس ضمن میں خاص طور پر متحر ک کردار ادا کر کے اپنے موقف کو منوانے کا موزوں وقت ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ دوسال بعد سیاسی جماعتیں اور حکومت ایک مرتبہ پھر اس پوزیشن پر کھڑی دکھائی دیں ۔

متعلقہ خبریں