Daily Mashriq


سعودی عرب اور ایران سفارتی تعلقات بھی بحال کریں

سعودی عرب اور ایران سفارتی تعلقات بھی بحال کریں

سعودی عرب کی جانب سے ایران کے 60 ہزار کے قریب زائرین کی رواں برس حج میں شرکت کے حوالے سے اعلان خوش آئند اور جملہ اہل اسلام کے لئے اطمینا ن کا لمحہ ہے۔قبل ازیں دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے جس کے نتیجے میں گزشتہ برس سیکورٹی اور لاجسٹک معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ایرانی زائرین حج نہیں کر سکے تھے۔اب دونوں ممالک میں بات چیت کے بعد ایرانی زائرین رواں برس ستمبر میں حج کے لیے سعودی عرب جا سکیں گے۔ اطمینان بخش امر یہ ہے کہ اس مد میں زیادہ تر معاملات طے پا گئے ہیں جبکہ چند ایک معاملات ابھی حل طلب ہیں جس کے بارے میں توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ معاملات بھی خوش اسلوبی سے طے پاجائیں گے۔ اس امر کو دہرانے کی ضرورت نہیں کہ گزشتہ برس سعودی عرب نے کہا تھا کہ ایران کے ''ناقابلِ قبول مطالبات''کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حج انتظامات کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پا سکا جبکہ ایرانی وزیر نے حاجیوں کے انتظامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی تھی۔خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے میں حریف ہیں اور دونوں کے درمیان شام اور یمن کے بحران پر تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے اور ان میں مزید تلخی اس وقت آئی جب گزشتہ برس حج کے موقعے پر بھگدڑ مچنے سے سینکڑوں حاجی جاں بحق ہو گئے اور ان میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔گزشتہ برس حج معاہدے میں ناکامی کے بعدایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ برادر اسلامی ملکوں کے درمیان جس نوعیت کے بھی اختلافات ہوں عالم اسلام کا اس سے متاثر ہونا فطری امر ہوتاہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے پاکستان نے مقدور بھر کوشش کی تھی مگر برادر اسلامی ممالک کے اختلافات طے نہ ہوسکے۔ اب دونوں ملکوں کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں ضرور آئی ہے لیکن پھر بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کو اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر سعی شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا احیاء ہو تاکہ باضابطہ تعلقات کے احیاء کے ساتھ ایرانی عازمین حج اہم فریضہ کی ادائیگی کرسکیں۔

متعلقہ خبریں