Daily Mashriq


جدید غلامی کے رنگ

جدید غلامی کے رنگ

ردی سے کاغذ تیا ر ہوتا ہے ۔ اُن میں سے کچھ کاغذکرارے نوٹوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں وہی نوٹ گزشتہ دنوں جن کے بھرے ٹرنکس ایک سرکاری کارندے کی رہائش گاہ کے واش روم سے برآمد ہوئے ۔یہی دولت محفوظ کرنے کیلئے بنک کھڑے کئے گئے یہی بنک قرضے جاری کرتے ہیں۔ ہم بھکاری بن کر یہ قرضے لیتے ہیں اور پھر ردی بکھیرکر نوٹوں کے لئے خام مواد ، فراہم کر دیا جاتا ہے ۔ یہ شیطانی چکر اسی طرح چلتا رہتا ہے ۔ یاد رہے یہ نادر خیال ہمارا نہیں ہمارے دوست نعیم صادق نے اپنے ایک چشم کشا برقی مراسلے کا عنوان بنا کر ہمیں روانہ کیا ہے ۔ مراسلے میں انہوں نے جدید غلامی کے کچھ مزید رنگ بھی اجا گر کئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان پڑھے لکھے ، سمجھدار بے بس اور نادار افراد کا ایک ایسا ٹولہ بھی موجود ہے ۔ جو کام اور معیشت سے جڑے ہوئے نامساعد حالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود بھی خاموش رہتا ہے اور یہ لوگ صبر وشکر کے ساتھ ایک مجہو لیت کی زندگی گزارتے ہیں ۔ ایک ایسی قوم جس نے گزشتہ کئی دھائیوں سے ایک بہتر زندگی بسر کرنے کے صرف خواب ہی دیکھے ہوں کیا یہ نظریہ ان پر بھی لاگو کرنا مناسب ہوگا ۔ کیا بھیک ، قرضے ، اور دوسروں پر انحصار وہ عادتیں نہیں جو ایک عمل سے عاری قوم کے غیر مزاحمتی رویوں سے جنم لیتی ہیں ۔ قرضوں پر جنکی زندگی کا دارومدار ہو وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اُنہیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ۔وہ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور انہیں نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ رزق کی تلاش میں ہمیشہ نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مانگے تانگے کی زندگی بسر کرنے کے نتیجہ میں ان میں آزادی فکر کی رمق باقی نہیں رہتی۔ وہ اپنی مرضی کا کوئی پیشہ اختیار نہیں کر سکتے ۔ ظاہر ہے دوسروں کے وسائل پر انحصار کرنے والی قوموں کی اوقات بھکاریوں سے بھی بد تر ہو جاتی ہے۔ ہماری قومی ریاست پر نعیم صادق کے مطابق 74بلین امریکی ڈالرز کا قرضہ تھا ۔ اس پر اُسے ہر سال 5بلین ڈالرز مزید قرضہ حاصل کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا تاکہ وہ اپنے گزشتہ قرضوں پر سودادا کر سکے۔ ہم یہاں یہ بھی بتا تے چلیں کہ ریاست کے 22.6ملین بچے سکول جانے سے محروم ہیں 44فیصد لوگوں کو رہنے کے لئے ڈھنگ کا مکان میسر نہیں۔ 84فیصد افراد پینے کا صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے مہلک بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں اور 99فیصد(Untreated) غلاظت ، نہروں ، دریائوں اور سمندر میں جمع ہوتی رہتی ہے ۔ قوم کا پڑھا لکھا طبقہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہے اسے اپنی ایٹمی قوت ہونے پر بڑا ناز ہے اور ہونا بھی چاہیئے ، لیکن دوسری جانب ہم اپنے ملک کے بڑے شہروں سے غلاظت کے ڈھیر تک اُٹھا نے کے قابل نہیں۔ یہ کام ہم نے کراچی میں چائنا کے سپرد کر دیا ہے جبکہ ترکی سے لاہور اور اسلام آباد کی صفائی کی خدمات مہیاکرنے کی درخواست کی گئی ہے اینگس ڈیٹن ، جنہیں 2015میں معاشیات کے شعبے میں نو بل انعام ملا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ کسی قوم کی ترقی کوئی مالی یا تکنیکی نہیں سیاسی نوعیت کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ امدادی صنعت سیاست کا حلیہ مسخ کردیتی ہے۔ ان بیرونی امدادوں سے فائدہ نہیں ہمیشہ نقصان ہوتا ہے ۔غربت زدہ ممالک میں ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے اور بسا اوقات ان ممالک میں ایک بے رحم آمریت کی راہ ہموار ہو جاتی ہے ۔ یو گنڈا کے ایک صحافی انڈریو مائنڈ ر کے مطابق گزشتہ چالیس سالوں میں افریقہ کو600بلین ڈالر قرضہ دیا گیا لیکن یہاں کی ترقی کا گراف صفر رہا ۔ ترقی پذیر ممالک نے 1980سے صرف سود کی مد میں 4.2ٹریلین ڈالرز ادا کئے ، جو لندن اور نیویارک کے بنکو ں میں نقدی کی صورت میں براہ راست جمع ہوئے ۔

پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ہم بار بار عرض کر چکے کہ وطن عزیزکی 40فیصد آبادی خط غربت سے نیچے پڑی سسک رہی ہے اور اسے اپنی بچت کا 40فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی کی نذر کر نا پڑتا ہے ۔ چاروں جانب سے خطروںمیں گھری قوم کے سالانہ بجٹ کا کچھ حصہ دفاعی اخراجات کے لئے مخصوص کرنا ضروری ہوتا ہے اس کے بعد جو باقی رہتا ہے وہ سیاست دانوں کے اللوں تللوں پر خرچ ہوجاتا ہے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی ، کہ یہی کچھ دس سال پہلے جبکہ حضرت بابر غور ی پورٹ اور شپنگ کے وزیر تھے انہوں نے کراچی پورٹ کے قریب سمندر پرایک نہایت ہی احمقانہ اورمالی فوائد کے حصول کے لئے 320ملین کازر خطیر خرچ کر کے ایک ایسا فوارہ بنایا کہتے ہیں کہ جسکی دھار دنیا کے تمام فواروں سے اونچی ہوتی ہے ، یہ فوارہ کئی سال تک بے کار تھا اور اب اسے ہفتے میں صرف دور وز کے لئے کھول دیا جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک غربت زدہ ملک کے حکمرانوں کی کیا ترجیحات ہیں۔ نعیم صادق کا یہ انکشاف بھی ہمارے لئے حیران کن ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے قومی خزانوں سے سالانہ کم و بیش ایک ٹریلین ڈالرز جرائم پیشہ افراد ، بد عنوان انتظامیہ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے ہڑپ کر دیئے جاتے ہیں ۔ زیر بار ممالک کو بیرونی امداد کے بغیر اپنے وسائل پر انحصار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کرپشن کی لعنت پر نظر رکھتے ہوئے ، شہریوں میں ٹیکس کی ادائیگی کا شعور پیدا کرنا بھی لازمی ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے وسائل سے ہسپتال اور سکولز بنا سکیں ، پاکستان میں تاحال ایسے اقدامات اُٹھانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ ٹیکس کی وصولی میں ناکامی ، جبکہ ہمارے ہاں 200ملین کی آبادی میں صرف ایک لاکھ چوہتر ہزار ٹیکس دہندہ ہیں ۔ اس امر کی واضح مثال بن کر سامنے آتی ہے کہ بیرونی امداد کے دام میں گرفتار رکھنے کے لئے قوم کے پڑھے لکھے مگر بے بس طبقے پربھی کچھ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ورنہ جدید غلامی کے یہ رنگ اسی طرح ہم پر چڑھتے رہیںگے اور پھر اس سے چھٹکارا ممکن نہیں رہے گا ۔

متعلقہ خبریں