Daily Mashriq


جنت اور دوزخ کے فیصلے

جنت اور دوزخ کے فیصلے

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے کراچی میں ہندوکمیونٹی کی ایک تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے بہت سی خوبصورت مگر تصوراتی قسم کی باتیں کیں ۔ان کی گفتگو بین المذاہب ہم آہنگی کے گرد گھومتی رہی ۔ وہ مذاہب کے درمیان مشترکات کی باتیں کرتے رہے ۔ مخاطب کمیونٹی کو انہی میں سے ہونے کا کہہ کر اپنائیت کا احساس دلاتے رہے اور آخر میں انہوں نے کہا جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنا ہمارا اختیار نہی بلکہ ہمارا فرض ہے کہ اس دنیا کو سب کے لئے جنت بنائیں۔وزیر اعظم کے اس جملے میں بھی مذہبی رواداری اور برداشت کا سبق پنہاں ہے ۔دنیا کا مجموعی مزاج اور رخ یہ ہے کہ انسانوں کا یہ نگر دوزخ ہی بنا رہے ۔ اس دنیا کا نظام چلانے والے ،اس کے سماجی اصول وضع کرنے اور اقتصادی رگ جاں پر قابض بااثر لوگوں کی پالیسیوں سے سماجی تفرقات اور سیاسی تنازعات اور معاش کی ایسی دوڑ لگ گئی ہے کہ دنیا مسلسل دوزخ بنتی جا رہی ہے ۔اس دوڑ میں مجرم اور معصوم کے کردار بھی حسب سہولت تراشے اور گھڑے جا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کسی کو مجرم قرار دینے کے لئے اس کا جرم کرنا ضروری نہیں ۔ اس وقت دنیا میں عدم برداشت کا ایک سیلاب سا آگیا ہے ۔عد م برداشت کو صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی منسوب کر دیا گیا ہے حالانکہ عدم برداشت کے رویے ہر مذہب ،علاقے اور براعظم میں زوروں پر ہیں ۔جن ملکوں میں سیکولرازم کو طرز حیات کے طور اپنایا گیا ہے وہاں بھی سماجی سطح پر تیزی سے عدم برداشت اور شدت پسندانہ رویے غالب آرہے ہیں۔اب ان کا سیکولرازم بھی نمائش کی ہی کوئی شے ہو تا جا رہا ہے۔حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو سیکولرازم کا ایک مجسمہ بنا کر لندن کے عجائب گھر ''مادام تسائو '' میں سجانا پڑے گا اور یوں یہ ایک جیتے جاگتے رویے سے محض ایک یاد بن کر رہ جائے گا اور عمل کی دنیا سیکولر رویوں سے خالی ہو کر رہ جائے گی ۔ ابراہم لنکن کے امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ اور پنڈت نہرو کے ہندوستان کا نریندر مودی کے ہاتھ لگنا دنیا میں برداشت اور تحمل کی اقدار کے زوال پذیر ہونے کی واضح علامت ہے ۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ۔مسلمانوں میں یہ رویہ آیا تو اس کی کچھ سیاسی اور سماجی وجوہات تھیں ۔اگر گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو مسئلہ فلسطین نے مسلمانوں کو مایوسی ،غصے اور ناراضگی کا شکار بنایا ۔اس مسئلے کو بالادست تہذیبوں اور طاقتوں نے کبھی انصاف کے اصولوں کے تحت حل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔فلسطین کی انسانی آبادی کو ہاتھ پائوں باندھ کر اسرائیل کے آگے چھوڑ دیا گیا جس نے مشرق وسطیٰ میں ردعمل کو جنم دیا ۔کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم نے وہاں کی روایتی اور تاریخی سیکولر اور برداشت پر مبنی روایات کو جنہیں'' کشمیریت'' کہا جاتا ہے کمزور تر بنا ڈالا۔

ابوغریب اور گوانتاناموبے جیسی انسانیت دشمن جیلوں نے بھی ردعمل کے شعلوں کو ہوا دی اور دنیا میں برداشت کا عنصر کم ہوگیا ۔بھارت میں ہندو توا کے نام پر مسلمانوں ،دلتوں اور عیسائیوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک روا رکھا جانا عدم برداشت کے رویے کا مظاہرہ ہے ۔کچھ عرصے پہلے بھارت کے کسی علاقے کی ایک دلدوز ویڈیو کلپ سوشل میڈیا میں گردش کرتی رہی جس میں ٹین ایجر لڑکی کو ایک بپھر ا ہو ہجوم پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور اس کی چیخیں آسمانوں کو چیر رہی ہیں اور آخر میں تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے اور جلتی ہوئی لڑکی ہجوم سے ہاتھ باندھ کر زندگی کی بھیک مانگتی ہے اور یہاں تک کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے کوئلہ بن جاتی ہے ۔تب ہجوم خوشی سے فاتحانہ انداز میں نعرے لگاتا ہے ۔اس لڑکی کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ عیسائیوں کی سروس میں شریک ہورہی تھی اور ایک نئے مذہب کی جانب اس کا یہ بڑھتا ہوا رجحان اس انجام کا باعث بنا ۔بھارت میں نریندر مودی اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد نے دنیا میں برداشت کے سیاسی اورسماجی رویوں اور اقدار کو مزید کمزور کردیا ہے۔اب مغربی ملکوں میں مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں ۔حجاب کو شجر ممنوعہ بنایا جا رہا ہے ۔مسلمانوں کی مقدس اور محترم شخصیات کی شان میں گستاخی کی منظم مہم چلائی جا رہی ہے جو ان کی روح کو گہرائیوں تک چھلنی کرجاتی ہے ۔گستاخی کے مرتکب کرداروں کو بانس پر چڑھایا جا تا ہے ۔یہ سب عالمی سطح پر عدم برداشت ،تعصب اور عناد پر مبنی رویوں کے کلچر کا غلبہ ہے۔اس دنیا کو جنت بنانے کی ذمہ داری تنہا مسلمان ادا نہیں کر سکتے ۔ مسلمان اور پاکستانی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرسکتے ہیں اور انہیں یہ ادا کرتے رہنا چاہئے ۔ مسلمانوں کو اقلیتوں کو ایک مقدس امانت سمجھ کر ان کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ان کے جذبات کا احترام اور ان کی ثقافت کوہضم کرنا چاہئے ۔پوری دنیا کو جہنم بنانے والا مسلمان نہیں کوئی اور ہے ۔مسلمان معاشرہ اپنی ثقافت اور اقدار کی روشنی میں ہی پھل پھول سکتا ہے ۔اس پر باہر سے مسلط کی جانے والی ثقافت سوائے ردعمل کو جنم دینے کے اور کچھ نہیں کر سکتی ۔ مسلمان معاشروں اور اسلامی ثقافت کی اس حیثیت کو قبول کرنے سے دنیا میں بہت سا فساد ختم ہو سکتا ہے ۔ یہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ دنیا میں ایسی اقدار کو فروغ دیا جائے جس سے شدت ،ردعمل ،انتقام اور غصے کی کیفیات کم ہوں اور دنیا ایک بار پھر جنت نما بن سکے ۔اس میں کوئی شک نہیں جنت اور دوزخ کا فیصلہ انسانوں کا کام نہیںیہ ربِ کائنات اور بندے کا معاملہ ہے مگر دنیا کو جنت بنانے کی سیاسی اور ثقافتی بالادستی کی روش کو ترک کرنا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں