Daily Mashriq


یہ سب کیا ہورہا ہے؟

یہ سب کیا ہورہا ہے؟

غریب کے لیے ہر نیا دن طرح طرح کی خوشخبریاں لے کر آتا ہے۔ یہ امتحانات کا موسم ہے آج کل میٹرک کے امتحانات پور ے زوروشور سے جاری ہیں۔ زور شور کی ترکیب اس لیے استعمال کی گئی ہے کہ کہیں پاکٹ گائیڈبیچنے والوں کو جرمانے کیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی گرفتاریاں بھی ہورہی ہیں گلی محلے کے نجی سکولوں کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بچوں کو کمرہ امتحان میںبہت سی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں جن میں نقل بھی شامل ہے۔ کل نتیجہ نکلے گا تو کوئی ہنسے گا کوئی روئے گا چلیں بچے تو ہنستے روتے رہتے ہیں ان کا ہنسنا اور رونا تھوڑی دیر کا ہوتا ہے لیکن ان کے والدین کے لیے امتحانات کا موسم ایک اور طرح کی خوشخبری لے کر آتا ہے۔ بچہ باپ سے کہتا ہے کہ اس مرتبہ فیس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ امتحان میں استعمال ہونے والی سٹیشنری کا بھی دینا ہے۔ سفید پوش باپ کا سر گھوم جاتا ہے حیران ہو کر پوچھتا ہے بیٹا چالیس روپے کی سٹیشنری سے ایک طالب علم کا کام چل جاتا ہے ایک ہزار روپیہ سٹیشنری کے نام پر بٹورنا تو بہت بڑا ظلم ہے۔ اور پھر کہانیاں اور بھی ہیں میٹرک سے فارغ ہو کر جانے والوں کو نویں کلاس کے طلبہ فئیر ویل پارٹی بھی تو دیتے ہیں۔ ہم سے بھی اس حوالے سے ایک ہزار روپے بٹورے جا چکے ہیں ایک ہزار روپے وصول کر کے بچوں کو ایک لنچ باکس تھما دیا گیا جس میں تھوڑی سی بریانی کے ساتھ ایک چکن پیس بنفس نفیس موجود تھا۔لنچ باکس کے ایک کونے میںافسردہ سا سیخ کباب اور ساتھ ایک پیپسی کی بوتل! اگر پچاس بچوں کو پیٹ بھر کر لنچ کر وایا جائے تو دس ہزار روپے بھی بڑی چیز ہیں لیکن بچوں سے پچاس ہزار روپے بٹور لیے گئے کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ڈرامے کا اگلا منظر امتحان پاس کرنے کے بعد نئی کلاسوں میں جانے کا ہوتا ہے۔ سکول سے شاہی فرمان جاری ہوجاتا ہے کہ کتابوں کاپیوں کے سیٹ سکول میں موجود ہیں یہیں سے خریدنے ہیں یا پھر ہر سکول کے اپنے اپنے مخصوص دکاندار ہیں جن سے یونیفارم اور کتابوں کاپیوں کے سیٹ بھی گراں نرخوں پر مل جاتے ہیں۔ دم مارنے کی مجال اس لیے نہیں ہوتی کہ یہ یونیفارم اور کتابوں کے سیٹ بس ان مخصوص دکانوں سے ہی ملتے ہیں۔ بہت سے والدین امتحانات کے موسم میں باقاعدہ قرض لے کر اس پل صراط سے گزرتے ہیں ! ہمارے معاشرے میں سفید پوش آدمی کا گزارا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے اس پر مختلف اطراف سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے ابھی ایک تازہ ترین ڈرون حملہ پانی کے بلوں کی فیس میں بے تحاشہ اضافے کی صورت میںہوا ہے کچھ باذوق حضرات اسے خود کش حملہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ ہم ان سے اس لیے اتفاق نہیں کرتے کہ خودکش حملہ کرنے والا خود بھی اگلے جہان سدھار جاتا ہے جبکہ ڈرون حملے میں ملوث لوگ خود محفوظ رہتے ہوئے بہت سے لوگوں کی زندگی اجاڑ دیتے ہیں۔ پہلے پانی کی فیس اٹھارہ سو روپے ہوا کرتی تھی جسے اچانک بڑھا کر ساڑھے سات ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ ہماری چند سفید پوش متاثرین سے اس مسئلے پر بات چیت ہوئی تو وہ بیچارے مظلوم صورت بنا کر کہنے لگے جناب اٹھارہ سو سے آپ دو ہزار کر دیجیے مگر یہ اچانک ساڑھے سات ہزار بڑھادینے کی کیا تک ہے؟ اب ہم کیا تک ہے کے حوالے سے انہیں بہت کچھ کہہ سکتے تھے۔ ہماری زنبیل میں بہت سے ٹوٹکے تھے لیکن دل آزاری کے خیال سے خاموش رہے! ان کی دل آزاری کے خیال کے ساتھ ساتھ ہمیں ارباب اقتدار کی دل آزاری کا بھی خیال تھا۔ ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے معاشرے میں اتنے بے تکے کام ہو رہے ہیں کہ جن کا شمار ممکن نہیں ہے انہیں اگر گننے بیٹھیے تو گنتی ختم ہوجائے مگر یہ بے تکی حرکتیں ختم نہ ہوں۔جس طرف دیکھیے ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے سب پر پیسہ بنانے کی دھن سوار ہے پیسہ پیسہ اور بس پیسہ! اگر پیسے کے حصول کے لیے کام کام اور بس کام کا نسخہ بھی استعمال کرنا پڑے تو لوگ کرتے ہیں ہمارے پاکستانی بھائی جب خلیج کی ریاستوں میں محنت مزدوری کرنے جاتے ہیں تو وہاں پر وہ یہی نسخہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ سخت قوانین کی عملداری کی صورت میںپیسہ کمانے کی کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں ہے اگر کوئی عادت یا ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی بھی قسم کی قانون شکنی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے سزا دینے کے بعد جہاز میں بٹھا کر واپس پیا کے دیس روانہ کردیا جاتا ہے جبکہ ہمارے یہاں محنت کی طرف کسی کا دھیان اس لیے بھی نہیں جاتا کہ یہاں پر گھر بیٹھے انگریزی سیکھئیے جیسے بہت سے پروگرام چل رہے ہیں بہت سے شارٹ کٹس ایسے ہیں کہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چو کھا آتا ہے! امتحانات کے موسم کے ساتھ ساتھ بہارکا جوبن بھی عروج پر ہے اور بہار کے ساتھ پتنگ بازی بھی کھلے عام جاری ہے۔ قوانین بنتے ہیں اخباروں میں بیانات دیے جاتے ہیں لیکن اس وقت عقل گھوم جاتی ہے جب پشاور کے بازاروں میں بڑے پیمانے پر پتنگ اور ڈور کی خریدوفروخت سر عام جاری ہے کیسے ادارے ؟ کیسے قوانین؟ کس کو کہہ رہے ہو جناب ! حکومت بات کرتی ہے تو بھانت بھانت کی یونین موجود ہے ہڑتال کی دھمکیاں ہیں ! آج کل لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں چھوٹے ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے چھوٹے اور بڑے ڈاکٹروں میں ہلکی پھلکی دھینگا مشتی بھی ہورہی ہے ! یہ سب کیا ہے؟ کیا ہورہا ہے؟ آپ بھی دیکھتے جائیے اور ہم بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ صرف دیکھنے کا عمل کب تک جاری رہے گا؟

متعلقہ خبریں