مشرقیات

مشرقیات


حضرت مبارک بن فضالہ سیدنا حسن سے روایت کرتے ہیںکہ: '' کسی علاقے میں ایک بہت بڑا درخت تھا۔ لوگ اس کی پوجا کیاکرتے تھے اور اس طرح اس علاقے میں کفر و شرک کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ ایک مسلمان شخص کا وہاں سے گزرہوا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ یہاں غیر اللہ کی عبادت کی جا رہی ہے۔ چنانچہ وہ جذبہ توحید سے معمور بڑی غضبناک حالت میں کلہاڑا لے کر اس درخت کو کاٹنے چلا۔ اسی جذبہ کے تحت وہ درخت کاٹنے جا رہا تھا کہ شیطان مردود اس کے سامنے انسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا: '' تو اتنی غضبناک حالت میں کہاں جا رہا ہے؟ '' اس مسلمان نے جواب دیا '' میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں'' یہ سن کر شیطان مردود نے کہا '' جب تو اس درخت کی عبادت نہیں کرتا تو دوسروں کا اس درخت کی عبادت کرنا تجھے کیا نقصان دیتا ہے؟ تو اپنے اس ارادے سے باز رہ اور واپس چلا جا'' اس مسلمان نے کہا'' میں ہر گز واپس نہیں جائو ں گا'' معاملہ بڑھا اور شیطان نے کہا '' میں تجھے وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا'' چنانچہ دونوں میں کشتی ہو گئی اور اس مسلمان نے شیطان کو پچھاڑ دیا۔ پھر شیطان نے اسے لالچ دیتے ہوئے کہا '' اگر تو اس درخت کو کاٹ بھی دے گا تو تجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ میرا مشورہ ہے کہ تو اس درخت کو نہ کاٹ' اگر تو ایسا کرے گا تو روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملا کریں گے''۔ وہ شخص شیطان کی لالچ بھری باتوں میں آگیا اور دو دینار کی لالچ میں اس نے درخت کاٹنے کا ارادہ ترک کیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔ جب صبح بیدار ہوا تو اس نے تکیے کے نیچے دو دینار دیکھے۔ پھر دوسری صبح جب اس نے تکیہ اٹھایا تو وہاں دینار موجود نہ تھے۔ اسے بڑا غصہ آیا اور کلہاڑا اٹھا کر پھر درخت کاٹنے چلا۔ شیطان پھر انسان کی شکل میں اس کے پاس آیا اور کہا '' کہاں کا ارادہ ہے'' وہ کہنے لگا'' میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں۔ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ غیر خداکی عبادت کریں۔
لہٰذا میں اس درخت کو کاٹ کر ہی دم لوں گا'' شیطان نے کہا '' تو جھوٹ بول رہا ہے۔ اب تو کبھی بھی اس درخت کو نہیں کاٹ سکتا' چنانچہ شیطان اور اس شخص کے درمیان پھر سے کشتی شروع ہوگئی۔ اس مرتبہ شیطان نے اس شخص کو بری طرح پچھاڑ دیا اس شخص نے شیطان سے پوچھا '' یہ تو بتا کہ تو ہے کون؟'' شیطان نے کہا '' میں ابلیس ہوں اور جب تو پہلی مرتبہ درخت کاٹنے چلا تھا تو اس وقت بھی میں نے ہی تجھے روکا تھا لیکن اس وقت تو نے مجھے گرا دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تیرا غصہ اللہ عز و جل کے لئے تھا لیکن اس مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا ہوں کیونکہ اب تیرا غصہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ دیناروں کے نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اب تو کبھی بھی میرا مقابلہ نہیں کرسکتا''۔

اداریہ