اداروں کے ٹکرائو کی سیاست

اداروں کے ٹکرائو کی سیاست

مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ روز جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں جلسوں سے خطاب کے دوران جس قومی مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے وہ اہمیت کا حامل ہے ، انہوں نے کہا کہ عدلیہ معزز ادارہ ہے اور پارلیمان قابل احترام ہے جبکہ پاک فوج کی قربانیوں سے ملک میں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے ، خدارا عدلیہ ، فوج اور پارلیمان پاکستان کو عظیم ملک بنانے کیلئے مل کر کام کریں ، انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں ادارے بڑی اہمیت رکھتے ہیں میاں شہباز شریف کے بیانیئے کو اصولی طور پر ملک وقوم کے مفاد کے عین مطابق قرار دیا جا سکتا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عدالت سے نااہلی کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے ایک بیانیہ اختیار کیا ہوا ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف سابق وزیر اعظم بلکہ ان کی صاحبزادی مسلسل پہلے دو اہم اداروں اور بعد میں ایک ادارے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے آرہے ہیں ، جو ابھی تک جاری ہے ، اس اظہار یئے میں لیگ (ن) کے بعض دیگر چھوٹے بڑے رہنما بھی کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہتے ہیں ، جبکہ ان میں سے بعض کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے توہین عدالت کے الزامات میں فرد جرم کے اجراء کا بھی سامنا ہے ، ایسے میں مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب صدر کے تازہ بیانئے کا خود ان کی جماعت کے دیگر قائدین پر کیا اور کتنا اثر ہوتا ہے ، جو نیا بیانیہ موجودہ صدر مسلم لیگ (ن) نے اختیار کیا ہے اس حوالے سے پارٹی کے ایک اہم رہنماء اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایک عرصے سے اسی قسم کا رویہ اختیار کر نے پر زور دیتے آرہے ہیں اور گزشتہ روز ایک بار پھر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لگ بھگ اپنے پرانے ہی موقف کو دہرایا ، ٹیکسلا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران چوہدر ی نثار علی خان نے کہا کہ اداروں سے لڑائی نہ لڑنے میں ہی نوازشریف کی بھلائی ہے ، موجودہ صورتحال سے بعض تجزیہ نگاروں نے اپنے طور پر جو نتائج اخذ کئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد خصوصاً چوہدری نثار علی خان اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مابین نظریات کے ٹکرائو کی جو صورتحال پیدا ہوئی اور دوریاں پیدا ہوئیں ، وہ تاحال قائم ہیں ، اس میں پارٹی کے اندر کن لوگوں کا ہاتھ ہے یہ بھی زیادہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ، اور ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کے گرد جو لوگ حصار بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ انہیں اداروں کے ساتھ مخاصمت کی پالیسی اختیار کرنے کی ان کی پالیسی کو جاری رکھنے کی ترغیب صرف ان کی خوشنودی کی خاطر دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کے مشوروں پر نواز شریف کوئی توجہ دیتے آئے ہیں نہ کان دھرنے کو تیار ہیں ، حالانکہ ملک میں اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی نے ماضی میں بھی سیاستدانوں کو کوئی فائدہ نہیں دیا نہ شاید آئندہ اس کی امید کی جا سکتی ہے ، ٹھیک ہے کہ اس قسم کے رویوں سے بعض لوگوں کی انا کو تسکین مل جاتی ہو لیکن اس قسم کی صورتحال ملک وقوم کے مفاد میں کبھی نہیں ہوئی ، ماضی میں ایسے رویو ں نے باہمی تصادم کی شکل ضرور اختیار کی جبکہ ہمارے بیرونی دشمن ایسے ہی مواقع کی تاک میں رہتے ہیں ، اور وہ ملک و قوم کی تقسیم سے فائدہ اٹھانے کے یہ مواقع بھی ضائع جانے نہیں دیتے ، ہمیں آج کن مسائل کا سامنا ہے یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے ، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ جہاں ایک جانب دہشت گردی ہے جس کی آگ اب ہمارے چاروں جانب پھیل چکی ہے ، وہیں اس کے ہم پر پڑنے والے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہمارے دشمنوں کا پھیلایا ہوا یہ تاثر اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں ، یعنی کجا تو یہ کہ خود ہم اس عفریت سے شدید طور پر متاثر ہو کر اس سے گلو خلاصی کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ الٹا الزامات بھی ہم پر لگائے جارہے ہیں ، اور چاروں طرف سے ہماری اقتصادی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ ہمارے خلاف مختلف قسم کی دیگر پابندیاں لگانے پر دنیا تلی ہوئی ہے ، جس کا واحد مقصددراصل ہمارے جوہری اثاثو ں سے ہمیں محروم کر کے بے دست و پا بنا نا ہے ، یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنے اندرونی حالا ت کا درست تجزیہ کرتے ہوئے باہم دست و گریباں ہو نے سے گریز کی راہ اختیا ر کریں ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھیںباہم اتفاق و اتحاد سے کام لیتے ہوئے ، ایسا راستہ اختیار کریں کہ جس میں ملک وقوم کی بہتری ہو ، ویسے بھی یہ بات طے ہے کہ تصادم سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ، اس لیئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی کے خاتمے کی جو بات کی ہے اسے ملک و قوم کے بہترین مفادمیں سمجھتے ہوئے ہم ملک کی جملہ سیاسی قیادت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں نہ صرف اداروں کے ساتھ کسی بھی (خدانخواستہ ) ممکنہ ٹکرائو سے گریز اختیار کریں بلکہ سیاست کے میدان میں الزام اور دشنام طرازی کو ختم کر کے باہمی احترام کے رویو ں کو اپنائیں ، یہی ملک وقوم کے بہترین مفاد کا تقاضا ہے ۔

اداریہ