Daily Mashriq


338 میگا واٹ بجلی منصوبے

338 میگا واٹ بجلی منصوبے

خیبر پختونخوا نے نجی شعبے کے مالی تعاون سے 338میگا واٹ پن بجلی پیداوار کے دس منصوبے فوری طور پر شروع کرنے کی اصولی منظوری دی ہے جس سے صوبے میں 240ارب روپے کی سرمایہ کاری آئے گی اور صوبے میں سستی بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ روز گار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ چیئر مین پیڈو بورڈ نے 23ویں اجلاس کو بتایا کہ توانائی کے سستے ترین ذرائع استعمال کرنے کے لئے ری نیو ایبل انرجی کے تحت ہائیڈل ‘ سولر اور وائنڈ پرفوکس کرتے ہوئے آئندہ پانچ سال کے لئے حکومت نے توانائی کی نئی پالیسی مرتب کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو قدرت نے پانی کے وافر ذخائر سے نواز رکھا ہے جن کو بروئے کار لا کر ملک کے لئے وافر مقدار میں پن بجلی حاصل کی جاسکتی ہے مگر اس سے بڑی بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ خود ملک کے اندر ایسی لابی موجود ہے جو سستی ترین پن بجلی کے حصول کے لئے تو ضروری منصوبہ بندی سے اعراض برت رہی ہے مگر صرف ذاتی مقاصد اور کرپشن کو فروغ دینے کے لئے مبینہ بیرونی دبائو پر کہیں کوئلے‘ کہیں فرنس آئل‘ کہیں ایل پی جی اور ایل این جی کے منصوبوں کو فروغ دینے پر کمر بستہ رہی ہے جو پانی سے حاصل ہونے والی بجلی سے کئی گنا مہنگی ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب اٹھارہویں ترمیم کی منظوری سے پہلے صوبوں پر پچاس میگا واٹ قوت کے بجلی منصوبوں پر پابندی عائد تھی ۔ آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے اگرچہ یہ پابندی ہٹائی ضرور گئی مگر اب بھی صوبے اس قسم کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے بہر صورت وفاق سے اجازت لینے کے پابند ہیں یعنی 50میگا واٹ سے زیادہ کے منصوبے بنائے تو جاسکتے ہیں لیکن جب تک وفاقی حکومت اجازت نہ دے ( جس کے لئے کئی دیگر قسم کی قدغنیں شامل ہیں) تب تک ان منصوبوں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے‘ گویا یہ صورتحال ایسی ہے کہ ایک ہاتھ سے اجازت دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس لینے کی ہر ممکن کوشش کے ذریعے ان منصوبوں کی راہ روکنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ حالانکہ یہ رویہ ملک و قوم کے مفاد کے مطابق تو خیر کیا الٹا ملکی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش ہی ہوسکتی ہے۔ اس وقت بھی خیبر پختونخوا نے لگ بھگ 33 ایسے پن بجلی کے منصوبے مکمل کررکھے ہیں جن سے اچھی خاصی مقدار میں سستی ترین پن بجلی حاصل کی جاسکتی ہے مگر صوبائی حکومت کے بعض اہم رہنمائوں کے دعوئوں کے مطابق وفاق ان منصوبوں کی بجلی خریدنے کو تیار نہیں ہے جس سے اگر ایک جانب خیبر پختونخوا کو مالی نقصان کاسامنا ہے تو دوسری طرف ملکی عوام کو سستی ترین بجلی کے حصول سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں وفاق کا یہ رویہ کسی بھی طور مناسب نہیں اور اس پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔
پاکستانی معیشت۔۔۔آئی ایم ایف کے خدشات
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کے اس اعتراف کے بعد کہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کے خدشات درست ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آئندہ برسوں میں ملک پر قرضوں کا حجم بڑھ جائے گا جبکہ اس صورتحال کے باوجود انہوں نے آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کو خارج از امکان بھی قرار دیا ہے جسے اصولی طور پر متضاد سوچ کاحامل قرار دیئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے۔جہاں تک مشیر برائے خزانہ کے آئی ایم ایف کے پاس آئندہ نہ جانے کے دعوئوں کا تعلق ہے تو نظر بہ ظاہر یہ دعوے محل نظر دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ ایک تو موجودہ حکومت کی مدت مئی کے اواخر تک ہی ہے اور اصولی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ میں آنے والی نگران حکومت بنیادی تبدیلیاں بھی کرسکتی ہے بلکہ اسے مسترد کرکے 3جون سے پہلے نیا بجٹ بھی لا سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو پالیسیوں میں انتہائی اور بنیادی تبدیلیوں کے کارن ایسے حالات سامنے آسکتے ہیں کہ مجبوراً ہمیں آئی ایم ایف کے پاس ایک بار پھر کاسہ گدائی کے ساتھ حاضر ہونے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ موصوف نے برآمدات بڑھانے کی پالیسیوں پر کوئی روشنی نہیں ڈالی او اس وقت بھی ہماری برآمدات‘ درآمدات کے مقابلے میں انتہائی کمتر سطح پر ہیں۔ ادھر بعض ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے‘ زر مبادلہ کی انتہائی مخدوش صورتحال کی بناء پر روپے کی قدر میں کمی کرنے کے لئے دبائو ڈال رہے ہیں۔ جو اگر درست اطلاعات ہیں تو یقینا تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں کیونکہ خدانخواستہ اگر روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کی گئی تو ہمارے قرضوں کا حجم مزید زیادہ ہو جائے گا۔ اگرچہ اس سے ہماری برآمدات میں اضافے کا امکان ضرور ہے مگر اس طرح برآمدات بڑھ بھی گئیں تو بھی الٹا ہمیں نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں