Daily Mashriq


’’بھولے بھالے‘‘ میاں نوازشریف

’’بھولے بھالے‘‘ میاں نوازشریف

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پہلے پوچھتے رہے کہ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ حالانکہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے معلوم تھا کہ وہ ملک کا وزیراعظم ہونے کے باوجود باہر کے ملک میں ایک تجارتی کمپنی کے تنخواہ دار ملازم رہے ہیں۔انہوں نے اس کے لیے اقامہ لے رکھا تھا ۔ ان سے پوچھا جانا چاہیے تھا کہ کون سا قانون ہے جو ایک منتخب وزیراعظم کو کسی دوسرے ملک میں (یا اپنے ہی ملک میں) منفعت بخش ملازمت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ کون سا سیاسی اخلاق یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک شخص منتخب وزیر اعظم بھی ہو اس کے باوجود کسی تجارتی کمپنی کا باقاعدہ تنخواہ دار ملازم بھی ہو۔ میاں صاحب نے تو ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ وہ وزیراعظم بھی تھے اور پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت کو خبر نہ تھی کہ ان کا وزیر اعظم ایک کمپنی کا ملازم بھی ہے۔ اگر وہ سپریم کورٹ کے استفسار پربتادیتے کہ لندن فلیٹس کے لیے رقم کیسے حاصل ہوئی ‘ کیسے لندن پہنچی اور اس پرکوئی ٹیکس ادا کیاگیاتھا یا نہیں تو معاملہ سپریم کورٹ ہی میں ختم ہو جاتا۔ انہوں نے اور ان کے وکلاء نے لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے صرف ہونے والی رقم کے بارے میں نہ سپریم کورٹ میں پیشیوں کے دوران بتایا ، نہ ہی جے آئی ٹی کو بتایا ، نتیجہ یہ ہے کہ اب نیب عدالت ان سے یہی سوال کر رہی ہے۔ نیب عدالت میں ایک پیشی کے بعد انہوں نے نیا سوال اٹھا دیا ہے ۔ انہوںنے کہا ہے ’’کون ہے یہ سنجرانی ‘ چھ لوگوں کے گروپ نے اسے منتخب کیا ہے اور وہ آتے ہی چیئرمین سینیٹ بن گیا‘‘۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ صادق سنجرانی سینیٹ کے منتخب چیئرمین ہیں ۔ ان کا انتخاب آئین میں دیے ہوئے طریق کار کے مطابق ہوا اور اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کی بنا پر اب وہ پاکستان کے ایوانِ بالا کے سربراہ ہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے یہ شرط ہے کہ امیدوار کو کسی رکن نے نامزد کیا ہو اور کسی رکن نے اس کی تائید کی ہو۔ اگر انہیں چھ لوگوں کے گروپ نے نامزد نہ کیا ہوتا تو بھی آئین میں دیے گئے چیئرمین کے انتخاب کے طریق کار کے مطابق ان کاانتخاب نہایت شفاف طریقے سے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا۔ سینیٹ کے انتخابات میں بڑی پارٹی تو مسلم لیگ ن تھی لیکن اکثریتی پارٹی نہیں تھی ۔ مسلم لیگ ن کا امیدوار کامیاب ہو جاتا تواس کے لیے بھی تو یہ کہا جا سکتا کہ اسے بیس تیس ارکان کی حمایت حاصل ہے اس لیے کون ہے یہ جو اکثریتی نمائندگی کے بغیر چیئرمین بن گیا۔ چیئرمین بننے کے لیے موجود 103کے ایوان میں اکثریتی ووٹ کی حمایت درکار تھی وہ مسلم لیگ کے امیدوار کو نہ ملی جو سینیٹ میں اس کے آزاد قرار دیے جانے والے نمائندوں سمیت اکثریتی پارٹی نہیں تھی۔ چیئرمین صادق سنجرانی کو 103میں سے 57ووٹ ملے ہیں۔ ایک سو چار کے ایوان میں وفاقی دارالحکومت اور فاٹا کے 12ارکان کے علاوہ ہر صوبے کے 23ووٹ ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ یقین کیا جانا چاہیے کہ چیئرمین صادق سنجرانی کو بلوچستان اور دیگر صوبوں سے ووٹ ملے ہیں ۔ سینیٹ وفاق کا ادارہ ہے اس میں نمائندگی ہر صوبے کی برابر ہوتی ہے نہ یہ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی پارٹیوں کے سائز سے مشروط ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب اس سادہ سی بات سے بھی آگاہی کا ثبوت نہیں دے رہے جیسے انہوں نے ’’کیوں نکالا‘‘ کا سوال اٹھا کر اس سادہ سی بات سے ناواقف ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ کسی منتخب وزیر اعظم کو کسی تجارتی فرم کا تنخواہ دار ملازم نہیں ہونا چاہیے۔

اب کہا جارہا ہے کہ اگر ہرانا ہی تھا تو اپنے زور پر ہراتے۔ یعنی جس پار ٹی کے جتنے سینیٹر ہوتے اتنے ہی اس کے ووٹ شمار ہوتے۔ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے دن مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی تعداد 17چلئے آزاد قراردیے جانے والے سینیٹرز ملا کریہ تعداد اکتیس بتیس تک پہنچ جاتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد بیس تھی ۔ سینیٹ میں ایسی پارٹیوں کو بھی نمائندگی حاصل تھی جن کے پانچ‘ چار‘ تین ‘ دو یا ایک ایک سینیٹر تھے۔ اگر جمہوری طریق کار کی بجائے پارٹی کے زور پر جیت ہارہوتی تو مسلم لیگ ن میدان مار لیتی۔ پر کیا یہ جمہوریت ہوتی؟ کیا کم نمائندگی والی جماعتوں کی رائے نظر انداز کر دی جاتی۔ آئین میں انتخاب کا جو طریقہ کار درج ہے وہ جمہوری طریقہ ہے ۔ مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ان کے اتحادی بھی سینیٹ میں موجود تھے۔ یعنی اتحادیوں کے ووٹ ن لیگ کو ملنا مقدر ہو چکے تھے۔ سینیٹر سنجرانی کو بھی تودیگر پارٹیوں کے سینیٹروں نے ووٹ دیے (بلکہ اندازہ کیاجا رہا ہے کہ صادق سنجرانی کو ن لیگ اور ان کے بعض اتحادیوں کے ووٹ بھی پڑے)۔ تو اگر ن لیگ کے ساتھ اس کے اتحادیوں کے ووٹ شمار کیے جا سکتے ہیں تو صادق سنجرانی کے انتخاب سے اتفاق کرنے والی پارٹیوں کے ووٹ ان کے حق میں کیوں شمار نہ کیے جائیں۔ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی تو ایک دوسرے کی مخالف تھیں لیکن ایک اچھے انتخاب پر اگر دو پارٹیاں اتفاق کرتی ہیں تو اسے اچھی بات ہی سمجھا جا سکتا ہے ۔اگر پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد (’’زور‘‘) کو انتخاب کا معیار تسلیم کر لیاجائے تو ن لیگ کو کامیاب سمجھا جا سکتا ہے ۔ لیکن یہ جمہوری طریقہ کار نہیں ہے۔ میاں صاحب اتنے بھی بھولے نہیں کہ وہ جمہوریت کے اکثریتی فیصلے کے اصول کو نہ سمجھتے ہوں ، وہ تیس سال سے جمہوری سیاست کے تجربہ کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ جس طرح وہ اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے لیے دیگر پارٹیوں سے رابطہ کرنے کی بجائے خاموشی سے بیٹھے رہے اور جس طرح میاں صاحب نے اپنے امیدوار کانام انتخاب شروع ہونے تک نہ بتایا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخاب جیتنا ان کی ترجیح ہی نہیں تھی۔ اس کے پس پردہ مقصد ممکن ہے یہ ہو کہ مظلومیت اور محاذ آرائی کو تقویت دی جائے ۔ تاہم ہروانا ہی تھا تو راجہ ظفرالحق ایسے سینیٹر پارلیمنٹیرین کی بجا ئے کسی اور کو ہروا لیتے۔

متعلقہ خبریں