Daily Mashriq


ہماری ترجیحات کب درست ہوں گی؟

ہماری ترجیحات کب درست ہوں گی؟

اگر بات صرف الزام دینے کی حد تک تمام ہو جاتی تو شاید اس ملک میں رہنے والے ایک لمبی فہرست تیار کرتے اور خاموش و مطمئن ہو رہتے۔ یہ معلوم ہوجاتا کہ اصل غلطی کس کی ہے دل کو تسلی ہو جاتی اور مسائل کا سدباب ہو جاتا۔ لیکن صرف الزام تراشی مسائل کا حل نہیں۔ ہمارے بحیثیت قوم مسائل بھی بے شمار ہیں اور ان کے ذمہ داران بھی کئی ہیں۔ تو پھر سچ پوچھئے تو گھوم پھر کر بس یہی معلوم ہوتا ہے کہ اصل قصور وار ہم خود ہی ہیں کیونکہ وہ بیچارہ مزدور جو کینسر سے مر رہا ہے‘ کسمپرسی میں مبتلا ہے اور نہیں جانتا کہ اسے پھیپھڑوں کا سرطان اس لئے ہوگیا ہے کیونکہ پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں۔ اور وہ اسی ایک کارخانے سے کچھ فاصلے پر رہتا ہے۔ اس کے بچے بھی اسی خطرے کی زد میں ہیں۔ وہ آج بھوک سے بلک رہے ہیں کیونکہ ان کا باپ اب مزدوری نہیں کرسکتا اور وہ کل ایسے ہی کسی سرطان کی درد سے بلک رہے ہوں گے کیونکہ انہیں نہ صرف وراثت میں والد سے جینیاتی طور پر کینسر ملا ہوگا بلکہ وہ اسی ماحول میں ساری زندگی رہیں گے۔ یہ کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے ہمارے حکمرانوں نے سستے داموں چین سے خریدے ہیں۔ اس حوالے سے بھی کئی باتیں ہیں ‘ کوئی کہتا ہے کہ چین میں ماحولیاتی آلودگی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی‘ اپنی آب و ہوا کو صاف کرنے کے لئے چین نے کئی اقدامات قومی سطح پر کئے ہیں۔ یہ کارخانے بھی انہی اقدامات کے نتیجے میں چین سے نکال باہر کئے گئے تھے جنہیں بجلی کی صنعت میں داخل ہونے کے خواہشمند ہمارے سیاستدانوں نے سستے داموں خرید لیا اور پاکستان کے غریب عوام کو کینسر کا تحفہ مفت مل گیا۔ ان امیر سیاستدانوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنا علاج بھی بیرون ملک کرواتے ہیں اور پاکستان میں یہ عالم ہے کہ کینسر سے تڑپ تڑپ کر مرتے مریضوں کو مارفین کی گولی بھی ڈاکٹر لکھ کر نہیں دیتے کہ پاکستان میں ڈرگ ایکٹ بڑا سخت ہے۔ اس مذاق پر سمجھ نہیں آتا کہ ہنسوں یا روئوں۔ اگر کسی بھی قسم کی منشیات درکار ہوں اور کسی بھی مقدار میں چاہئے ہوں تو وہ گھر پر آکر بھی دے جاتے ہیں اور درد سے تڑپتے مریض کو درد سے آرام کے لئے گولی نہیں دی جاسکتی۔ یہ ہمارا ہی کمال ہے کہ یہ لوگ ہمارے حکمران ہیں کیونکہ وہی مزدور جو پھیپھڑوں کے سرطان سے مر رہا ہے اس نے شیر کو ووٹ دیا تھا اور بدعنوانی کے شیر نے اسے ہی کھا لیا ہے۔ بات یہیں تک موقوف رہتی تو شاید درد کچھ کم ہوتا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ہسپتال میں جو دوائی ملتی ہے اس کی صحت کا بھی کچھ یقین نہیں۔ یہ دوائی براہ راست بیرون ملک سے منگوائی گئی ہے یا ایران سے براستہ بلوچستان سمگل ہو کر پہنچی ہے کچھ معلوم نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان میں گرم دنوں میں گدھوں پرسوار یہ دوائی جس سے کیموتھراپی کی جاتی ہے اور جسے کولڈ سٹوریج میں رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ دوائی بے اثر ہو جاتی ہے جب ملک میں پہنچتی ہے تو اپنے دام سے کم میں فروخت ہوتی ہے۔ ہسپتالوں کے سپلائرز ہی ان میں سے بہت سی دوائی خریدتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں بیچتے ہیں۔ غریب کو بچا کر کرنا بھی کیا ہوتا ہے۔ بکری ہونا ضروری ہے۔ ملک میں کینسر اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اس کی دسترس سے کوئی بھی محفوظ نہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ غریب کے لئے اس کی تکلیف ناقابل برداشت ہے کیونکہ وہ درد رفع کرنے والی دوائی خرید ہی نہیں سکتا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ کینسر کا علاج کرنے والے ڈاکٹر خود کو خدائی فوجدار سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کی بدتمیزی کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے ایک خاتون ڈاکٹر کو یہ تک کہتے سنا ہے کہ بی بی تین سال سے کینسر پال رہی ہو چند دن تکلیف میں اور گزار لو۔ میں تو ان خاتون ڈاکٹر کی بات سن کر ششدر رہ گئی۔ بھلا کسی کی تکلیف کو اتنے آرام سے کاندھے اچکا کر بھولا کیسے جاسکتا ہے۔ یہی کینسر کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آرام سے مریض کو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ آپ کا علاج ممکن نہیں‘ گھر جا کر اللہ اللہ کریں۔ آپ کی والدہ کی عمر ساٹھ سال تو ہے‘ کافی عمر گزار لی ہے بچے بھی بیاہ لئے ہیں‘ اب کیا ضرورت ہے۔ انہیں جانے دیں۔ اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ میں ایک بد تمیزی کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف شکایت کرسکوں۔ پھر وہ ڈاکٹر جو کسی بیماری کے علاج میں ماہر تصور کئے جاتے ہیں وہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بد تمیزی کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ انہیں بھی کوئی روکنے والا نہیں اور یہ سب شاید اسی لئے ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی نظام ہی باقی نہیں رہا کیونکہ ہم برے حکمران منتخب کرنے میں ماہر ہیں۔ برے حکمرانوں کا انتخاب معاشرے میں نظام کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس قسم کی تباہی جو معاشرے کو خلیاتی سطح پر تباہ کردیتی ہے تبھی تو ہمارے ملک میں ہر قسم کی برائی پنپ رہی ہے۔ ہر وہ برائی جو کبھی حاشیہ خیال میں بھی نہ تھی یہ سب ہماری ہی غلطیاں ہیں اور ان غلطیوں کو سدھارنے کی کوئی سوچ بھی ہمارے مزاج کا حصہ نہیں۔ ہم لوگ مایوسی کے اندھیروں میں مسلسل ادھر ادھر ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کوئی راہ نہیں پاتے۔ کہیں سے روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ یہ کیسے مسائل ہیں جن سے ہم دوچار ہیں۔ ہمارے معاشرے کے ناسور عجب سے ہیں۔ کچھ ایسے بھی جن کا علاج بھی ممکن نہیں۔ لیکن یہ لا علاج بھی نہیں یہ محض اس لئے لا علاج ہیں کیونکہ بحیثیت قوم یہ ہماری ترجیحات ہیں۔ جانے ہماری ترجیحات کب درست ہوں گی۔

متعلقہ خبریں