Daily Mashriq


’’نرگسیت اور انانیت‘‘

’’نرگسیت اور انانیت‘‘

کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کو پیدائش کے ساتھ کندھے پر تھپکی دے دی جاتی ہے کہ بس آپ سب سے زیادہ خوبصورت ہیں اور پھر اس شخص کو اپنا آپ بہر حال اچھا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بادشاہ وقت نے جب اپنے ایک ماتحت (مصلی) سے کوئی خوبصورت بچہ تلاش کرکے لانے کو کہا تو وہ اپنا سانولا سنولا سا بچہ اٹھا کر لایا۔بادشاہ نے جب دوبارہ سہ بارہ ’’خوبصورت‘‘ بچہ لانے کے لئے بھیجا تو وہ پھر بھی اپنا ہی بچہ اٹھا کر لے آیا اور بادشاہ کے استفسار پر کہا کہ بادشاہ سلامت! مجھے اس سے خوبصورت بچہ کہیں نہیں ملا۔‘‘ اس سے ملتی جلتی چیز نرگسیت (Narcissism) ہے جو اقتدار اور دھن دولت کے ملنے پر پیدا ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر میں حکمران اور امیر طبقات میں اس بیماری کا پایا جانا عام ہے۔ لیکن اسلامی دنیا میں حکمران اور دولت مند طبقات میں یہ مرض بہت شدید رہا ہے۔ حکمرانوں اور مقتدر طبقات کو ان کے حواری‘ درباری اور خوشامدی صبح و شام یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ آپ سے زیادہ خوبصورت‘ ذہین اور بہادر وغیرہ کوئی نہیں۔ بادشاہوں کے ساتھ یہ معاملہ سب سے بڑھ کر ہوتا ہے اور یہی چیز طائوس و رباب کے ساتھ مل کر زوال کا سبب بن جاتی ہے۔

حکمران طبقات کی تین چار خواہشات ایسی ہوتی ہیں جو وہ اپنی زندگی میں آخری دم تک اپنے لئے اور پھر اپنی آل اولاد کے لئے طلب کرتے ہی رہتے ہیں اور اس سے ان کا جی کبھی نہیں بھرتا۔ پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جب تک دم میں دم ہے حکمران ہی رہیں‘ دوسری یہ کہ لوگ ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہی رہیں۔ تیسری یہ کہ عوام الناس ان کی خوبصورتی اور عوام کے لئے ناگزیر ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہیں۔

ہمیشہ یا طویل عرصے کے لئے حکمران رہنے کی خواہش نے عالم اسلام میں آمریت کو جنم دیا۔ اموی اور عباسیوں سے لے کر صدام‘ قذافی‘ بشار الاسد اور مشرقی وسطیٰ کے دیگر ملکوں میں آج تک یہی خواہش و تمنا موجود ہے اور اس خواہش نا تمام نے عراق‘ شام‘ لیبیا اور بعض دیگر اسلامی ملکوں کے عوام کو ناقابل تلافی نقصانات سے دو چار کرکے ایسے آلام اور المیوں کو جنم دیا جس کا کبھی تصور نہ تھا۔ بشار الاسد اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ وہ شام کے لئے ناگزیر ہے۔ حکمرانوں کی دانستہ اور بزعم خود ناگزیریت نے امت مسلمہ کے لئے بڑے مسائل پیدا کئے ہیں۔ اس قسم کے حکمران‘ ایک طرف اپنے عوام کے بنیادی حقوق کے استحصال کا سبب بنتے ہیں دوسری طرف آئینی‘ اخلاقی اور قانونی کمزوریوں کے سبب استعماری قوتوں کا شکار بنتے ہیں۔ دنیا کے سپر پاورز ہر دور میں ہمارے کمزور حکمرانوں کی وجہ سے بادشاہ گر بنے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے کسی قاعدہ قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔

ان حکمرانوں کو اپنا آپ بہت خوبصورت لگتا ہے اس لئے یہ اپنی تصویر اور نام کا اشتہار جا بجا اور موقع بہ موقع کرتے رہتے ہیں حالانکہ تصویر اور نام کی تشہیر تب مزہ دیتی ہے جب عوام دل و جان سے اپنے رہنمائوں کی تصاویر لگائیں۔ پاکستان میں علامہ محمد اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ کی تصاویر اور اسماء گرامی جب تک پاکستان قائم ہے لوگوں کے اذہان و قلوب کے ساتھ ساتھ ہر گوشہ پاکستان میں زندہ رہیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر شہدائے وطن و دین کے اسمائے گرامی بھی چمکتے دمکتے رہیں گے۔ اسی طرح کچھ شخصیات علاقائی اور قبائلی ہوتی ہیں وہ بھی اپنے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔

لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں جو اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہوتے ہیں لیکن عوام کے حقوق کی عدم ادائیگی کے سبب عوام ان سے سخت بیزار ہوتے ہیں۔ کچھ عوام بے چارے غربت‘ بے بسی اور بے چارگی کے ہاتھوں خاموش رہتے ہیں۔ کچھ اپنے دلوں کی بھڑاس نجی محافل میں نکالتے ہیں اور کچھ جو دو حروف لکھ سکتے ہیں‘ قلم کے ذریعے اپنے اور عوام کے دکھوں کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کہ آج پاکستانی عوام بے روز گاری‘ مہنگائی‘ بد امنی اور دیگر سینکڑوں مسائل و مشکلات کے شکار ہیں اس وقت جل بھن کر رہ جاتے ہیں جب حکمران طبقہ عوام کے ٹیکسوں اور سرکاری خزانے کا پیسہ اپنی تصاویر اور کاموں (کارناموں) کی تشہیر پر اڑاتے ہیں جو اگر اس کے بجائے عوام کی فلاح پر خرچ کیاجاتا تو شاید کسی کا تو بھلا ہوجاتا۔ اپنی تصویر اور نام کی تشہیر تو اپنی جیب سے ہی ہونی چاہئے ورنہ عوامی پیسے سے عوام کے کاموں کی تشہیر سے زیادہ تو اہم بات یہ ہے کہ ’’کام خود بولتا ہے‘‘ (Work speaks) ۔ اگرچیف جسٹس عدالت عالیہ میں قانون سازی کرکے اس قسم کی ’’عیاشیوں‘‘ کو ہمیشہ کے لئے بند کروا سکیں تو اس خوبصورت ملک کے غریب عوام پر بہت بڑا احسان ہوگا۔ غضب خدا کا‘ ہمارا حکمران طبقہ اپنے نام و تصویر اور اپنی سیاسی جماعت کی تشہیر کا اتنا رسیا ہے کہ گورنمنٹ سکولوں کو فراہم کردہ نصاب کی کتب کے افتتاحی صفحات پر اپنی تصویر کے ساتھ کسی کلرک‘ سپرنٹنڈنٹ کے لکھے ہوئے پیغام کی اشاعت پر بھی دستخط ثبت کرلیتے ہیں۔

کاش ہمارے حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آجائے کہ نام و نمود اور شہرت وہ ہوتی ہے جو عوام خود دل و جان سے عنایت کرے اور یہی چیز بقائے دوام ہوتی ہے اور آخرت میں بھی کام آتی ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کی ہر اینٹ پر گمنام شہداء اور غریب عوام ہی کا نام لکھا ہوتا ہے اور رہے گا۔

متعلقہ خبریں