Daily Mashriq


امن و سلامتی

امن و سلامتی

چند سوالات ہمیں اپنے آپ سے پوچھتے رہنا چاہئے میرا مزاج کیسا ہے؟ کیا چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ تو نہیں آتا؟ اپنی دولت اپنے علم پر غرور تو نہیں ہے؟ اپنے مخاطب کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہوں یا اپنے سوا سب لوگوں کو بیوقوف سمجھتا ہوں؟ گھر میں جو چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ان میں زیادتی میری طرف سے ہوتی ہے یا فریق مخالف مجھ سے بھی زیادہ تیز ہے؟ ان سوالات کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اپنے آپ سے مکالمہ ہوتا رہتا ہے اور اپنے مزاج کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، اس کے علاوہ اپنی خامیاں بھی سامنے آجاتی ہیں۔ اپنی اصلاح اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب بندے کو اپنی خامیوں کا علم ہو، اگر کسی کو اپنی خامیوں کا نہیں پتہ تو وہ اپنے مزاج کے مطابق دوسرے کیساتھ اُلجھتا رہے گااور اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتا رہے گا۔ یقیناً بہتر انداز سے زندگی گزارنا ایک مشکل کام ہے، لڑائی جھگڑوں میں اُلجھے بغیر دنیا سے اپنے حصے کی زندگی گزار کر نکل جانا بہت بڑی حکمت کا متقاضی ہے۔ انسانوں کی ایک کثیر تعداد غیرضروری باتوں میں اُلجھ کر دنیا وآخرت کے اصل مقصد سے غافل ہوجاتی ہے جب رخصتی کا لمحہ آتا ہے تو اس وقت بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہم اس دنیا میں بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن غیرضروری باتوں میں اُلجھ کر ہم نے اپنی منزل کھوٹی کر دی! فرض کریں کسی نے آپ پر کیچڑ اُچھالا تو اس کے جواب کی دو صورتیں ہیں کہ آپ بھی اس پر کیچڑ اُچھالیں اس سے یقیناً آپ کے ہاتھ تو ضرور گندے ہو جائیں گے لیکن عین ممکن ہے کہ آپ کا نشانہ بھی خطا ہو جائے اور وقت تو یقیناً ضائع ہوگا، بہتر یہی ہے کہ کیچڑ اُچھالنے والے سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنا وقت بھی بچا لیں اور غیرضروری پریشانی سے بھی بچ جائیں۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھا جائے، اپنی کمزوریاں سامنے رکھ کر معاملات کو نپٹایا جائے، غصے کی مثال ہمارے سامنے ہے یہ انسانی مزاج کی بہت بڑی کمزوری ہے، ایک لمحے کا غصہ آپ کی زندگی کو اجیرن کر کے رکھ دیتا ہے، آپ کی ساری زندگی مقدمے لڑتے ہی گزر جاتی ہے، روزانہ اخبارات میں اس قسم کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ بچوں کی لڑائی میں بڑے بھی کود پڑے، ایک دوسرے پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں باپ بیٹا ہلاک! اس قسم کی خبر پڑھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے، بچے تو کھیل کھیل میں لڑ پڑتے ہیں، انہیں تھوڑی دیر بعد دیکھیں تو پھر کھیل رہے ہوتے ہیں مگر ایک لمحے کی حماقت یا غصہ انسان کی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ قرآن پاک میں اس حوالے سے بڑا زبردست نسخہ موجود ہے۔ سورۃ الفرقان کی آیت نمبر۶۳ میں اللہ پاک فرماتا ہے: ’’رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کیساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے‘‘۔ ہم سب کو روزانہ ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہمیں غیرضروری مباحث میں اُلجھا کر ہمارا وقت ضائع کرتے ہیں، ان کی باتوں کا انداز اور موضوع کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ بات بڑھ بھی سکتی ہے، دنگا فساد بھی ہو سکتا ہے۔ کتنا اچھا ہو کہ ہم قرآنی نسخے کے مطابق اس قسم کے لوگوں کو سلام کر کے علیحدہ ہو جائیں تو یقیناً ہم اپنا وقت اور آبرو دونوں بچالیں گے۔ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ نے اپنی مشہور تصنیف عوارف المعارف میں دنیا سے امن وسلامتی پانے کا ایک عمدہ نسخہ بیان کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: حاتم اصمؒ سے امام وقت حضرت احمد بن حنبلؒ ملنے کیلئے تشریف لائے اور دوران ملاقات ان سے پوچھا ’’اے ابو عبدالرحمن! دنیا سے سلامتی کا کیا طریقہ ہے؟‘‘ حاتم اصمؒ نے کہا: ’’اے ابو عبداللہ! تمہیں دنیا سے امن وسلامتی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک یہ چار خصلتیں تم میں نہ پائی جائیں‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’وہ کون سی ہیں‘‘؟ حاتم اصمؒ نے کہا:(۱) لوگوں کی جہالت کو معاف کردو۔ (تمہارے ساتھ جہالت کا سلوک کریں تو تم درگزر کرو۔ (۲) اپنی جہالت سے ان کو دور رکھو۔ لوگوں کیساتھ جہالت کا مظاہرہ نہ کرو ان کو تنگ کر کے ان کے صبر کو مت آزماؤ! ان سے نرم برتاؤ کرو اور خوش اخلاقی کیساتھ پیش آؤ۔ (۳) لوگوں پر اپنا مال خرچ کرو۔ ( ۴) ان سے کسی چیز (احسان وغیرہ ) کی توقع نہ رکھو۔‘‘ جب اہل دنیا کیساتھ تمہارا برتائو ایسا ہوجائے گا اور تم میں یہ خصائل پیدا ہو جائیں گے تو تم دنیا سے امن وسلامتی کیساتھ نکل جائو گے۔‘‘ بزرگوں کی باتوں میں بڑے پُرحکمت اسرار ورموز ہوتے ہیں۔ حضرت حاتم اصمؒ جب بغداد پہنچے تو اہل بغداد ان سے ملاقات کیلئے آئے اور کسی نے ان سے پوچھا: ’’اے ابو عبدالرحمن! تم ایک عجمی اور غیر فصیح آدمی ہو، جب کوئی تم سے بات کرتا ہے تو تم اسے عاجز کر دیتے ہو (یعنی گفتگو میں کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا) یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مجھ میں تین خصلتیں ہیں جن کی بدولت میں اپنے حریف پر غالب آجاتا ہوں‘‘ ان سے پوچھا گیا کہ وہ خصلتیں کون سی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میرا حریف جب صحیح بات کرتا ہے تو میں خوش ہوتا ہوں۔ جب وہ خطا کرتا ہے تو مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ میں اپنے نفس پر جہالت کو غالب نہیں آنے دیتا، یعنی کسی جہالت کا ارتکاب کرنے سے اپنے نفس کو بچاتا ہوں۔

متعلقہ خبریں