مشرقیات

مشرقیات

عبداللہ بن جدعان بن کعب حضرت ابو بکرصدیقؓ کا رشتے میں چچا لگتا تھا۔ اس کا شمار زمانہ جاہلیت کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو لوگوں کو کھانا کھلانے اور مدد فراہم کرنے میں صف اول میں گنے جاتے تھے۔ شروع شروع میں یہ فقیر اور کنگال تھا۔ بد چلنی اس کی عادت تھی اور معصیت و گناہ کے کاموں میں بکثرت ملوث رہنا اس کی فطرت میں شامل تھا۔ اس کی اخلاقی پستی اور شرارتوں سے تنگ آکر اس کے خاندان اور قبیلے والے اسے نفرت سے دیکھتے تھے۔ گھر‘ خاندان اور قبیلے کی نفرت انگیز نگاہوں کی تاب نہ لا کر وہ ایک دن مکہ مکرمہ کی گھاٹیوں کی طرف نکل پڑا۔ اس کی نظر پہاڑ کی ایک کھوہ پر پڑی۔ سوچا ممکن ہے اس کے اندر کوئی موذی جانور ہو۔ چنانچہ جان بوجھ کر کھوہ کی طرف بے خوف بڑھا‘ تاکہ خود کو موت کے منہ میں ڈال دے۔ جب وہ غار کے قریب پہنچا تو اسے ایک اژدھا نظر آیا۔جب اژدھا کے قریب ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو سونے کا بنا ہوا ہے اور اس کی آنکھوں میں یاقوت لگے ہوئے تھے جو چمک رہے تھے۔ وہ غار کے اندر داخل ہوا۔ غار میں قبیلہ جرہم کے بادشاہوں کی چند قبریں تھیں۔ نیز ان کی قبروں کے پاس ہیرے‘ جواہرات اور سونے چاندی کا انبار تھا۔ہیرے جواہرات لے کر جب وہ لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا تو انہیں خوب دولت سے نوازا۔ چنانچہ لوگ اس کو محبوب جاننے لگے اور اپنا سردار بھی تسلیم کرلیا۔ عبداللہ بن جدعان نے ملک شام کی طرف دو ہزار اونٹ بھیجے تھے جن پر گیہوں‘ شہد اور گھی لاد کر مکہ لایاگیا‘ پھر اس نے ایک منا دی کرنے والوں کی یہ ذمہ داری لگا دی کہ وہ ہر رات خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر لوگوں میں کھانے کے لئے دعوت عام کا اعلان کرے۔صحیح مسلم کی شرح میں عبداللہ بن جدعان کی دیگ کے متعلق لکھا ہے کہ ابن قتیبہ کہتے ہیں ’’ عبداللہ بن جدعان کی دعوت طعام والی دیگ اس قدر بڑی تھی کہ اس سے اونٹ سوار سواری کی پیٹھ پر ہی کھانا لے کر کھا لیتا تھا۔نیز یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس دیگ سے کھانے نکالنے کے لئے سیڑھی کی مدد لی جاتی تھی مگر اس قدر فیاضی اور دعوت عام کے باوجود وہ حق تعالیٰ کے دربار میں سرخرو نہ ہوسکا کیونکہ اس کے دربار میں سرخروئی کا جو فارمولا ہے اسے اس نے یکسر فراموش کر رکھا تھا۔ صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ میں نے دریافت کیا: اے رسول خداؐ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا‘ کیا یہ سب اس کے حق میں نفع بخش ثابت ہوں گے؟ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’ نہیں! یہ سب اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے کیونکہ اس نے کبھی بھی (اپنی زندگی اور عبودیت کا اظہار کرکے) یہ نہیں کہا: اے میرے پروردگار ’ قیامت کے دن میری خطائوں کو معاف کرنا۔
(شرح الادبی والنسوی علی صحیح مسلم (1/629)۔
طبع اول 1994۔ دارالکتب العلمیہ بیروت : البدایتہ والنہایتہ (3/266)

اداریہ