Daily Mashriq


دولاکھ سے زائد کی آبادی ،شہری سہولیات کا فقدان ، یکہ توت مسائلستان بن گیا

دولاکھ سے زائد کی آبادی ،شہری سہولیات کا فقدان ، یکہ توت مسائلستان بن گیا

پشاور( سید شبیر شاہ ) دو لاکھ سے زائد آبادی کا علاقے یکہ توت کے مکین بنیادی شہری سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں۔علاقے میں پینے کا صاف پانی ناپید ہے۔ صفائی کا مناسب انتظامنہ ہونے کی وجہ سے جابجا گندگی کے ڈھیرنظر آتے ہیں۔ مشرق فورم میں علاقے کے لوگ حکومتی عدم توجہی پر پھٹ پڑے ان کا کہنا تھاکہ علاقہ یکہ توت تین یونین کونسلز پر مشتمل ایک گنجان آباد علاقہ ہے جس میں9 نیبر ہڈ کونسلز شریف آباد، شہباز ٹاون، شاد باغ، شیخ امیر آباد، رشید گڑھی، خان مست کالونی اور زرگر آباد شامل ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی یہاں کے باسی پتھر کے دور کی زندگی گزار رہے ہیں ، ساٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرزاور دو لاکھ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل علاقہ حکومت کی توجہ سے محروم اورمسائلستان بن چکا ہے۔ اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ یکہ توت کے لوگوں نے ہمیشہ ہر ایک پارٹی کو ووٹ دیا لیکن آج تک کسی نے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی۔ رشید گڑھی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ بارش کے موسم میں یہاں کی نالیاں بند اور پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔ بارش اورنالیوں کا پانی بازاروں اور گھروں میں داخل ہوجاتا ہے ۔کئی ایسے نالے ہیں جن کی کئی سالوں سے صفائی نہیں ہوئی ۔ مکینوں نے یکہ توت میں قائم دونوں ڈسپنسریوں کی حالت زار پر ضلعی حکومت اور محکمہ صحت سے شکوے کئے ۔ان کا کہنا تھا کہ ڈسپنسریوں میں ادویات تو ناپید ہیں جبکہ ڈاکٹروں کوبھی کبھی نہیں دیکھا۔ ڈسپنسری صبح نو بجے براے نام کھلتی ہیں اور بارہ بجے بند ہوجاتی ہیں ۔ علاقے میں جرائم کی شرح پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک بزرگ کا کہنا تھا کہ یکہ توت کی نو نیبر ہڈ کونسلوں میں سے اسی فیصد سٹریٹ لائٹس سے محروم ہیں ۔مین ہولز کے ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں ۔پروگرام میں شریک یکہ توت تھانے کے ایس ایچ او سید عمران الدین کا کہنا تھا کہ ان کو اس تھانے میں آئے صرف چار ماہ کا عرصہ گزرا ہے اس کے دوران انہوں نے منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کی ہیں اور گزشتہ ہفتے چالیس کلو چرس، بیس کلو ہیروئن ، سولہ کلو افیون اور ایک کلو آئس برآمد کرکے کئی افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔کئی رہزن اور موبائل سینچرز بھی دھر لئے ہیں انہوں نے عوام سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کو 3 بجے تک نوجوان وزیر باغ میں موجود ہوتے ہیں۔والدین بھی ان کو نہیں روکتے۔ ڈبلیو ایس ایس پی زون بی کے منیجر طار ق عزیز کا کہنا تھا کہ لوگوں کا شکایات کا فوری ازالہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جبکہ کمپنی کو سٹاف کی کمی کاسامنا ہے ۔ہر یونین کونسل میں صرف دو کٹھہ قلی ہیں جن پر کام کازیادہ بوجھ ہے اور جہاں پر مسائل زیادہ ہوں تو پورا ایک سکواڈ کاروائی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ٹیوب ویل بند رہنے کی شکایات پر ان کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ تر ٹیوب ویل ایم پی اے اور ایم این اے کے فنڈز سے تعمیر ہوتے ہیں لیکن ان کومطلوبہ سٹاف نہیں دیاجاتا۔ان کا کہنا تھا کہ زون اے اور بی میں تیرہ ٹیوب ویل ایسے ہیں جو کہ ایم این اے کے فنڈز سے بنائے گئے لیکن ڈبلیو ایس ایس پی کے ساتھ مشاورت نہیں ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے وہ بند پڑے ہیں جبکہ ان ٹیوب ویلوں میں سٹاف کی تقرری کے لئے سمری وزیر اعلی کو بھیجی ہوئی ہے جلد یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں