لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام سڑکوں پر

لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام سڑکوں پر

شہر میں دفعہ144 کے تحت ہر قسم کے جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی کے باوجود حکمران جماعت کے وزیر قانون' ضلع ناظم' خاتون ممبر قومی اسمبلی اور ممبران صوبائی اسمبلی سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان نے واپڈا ہائوس پر دھاوا کیسے بولا۔ پولیس نے ان کو روکنے کی سعی کیوں نہیں کی اور واپڈا کے دفاتر کی حفاظت کا مناسب اقدام کیوں نہیں کیاجاسکا۔ حکمران جماعت کے لئے اگر دفعہ 144 کی خلاف ورزی خلاف قانون نہیں اور خود صوبائی وزیر قانون اس کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔ پولیس کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی کا خیال کیوں نہیں آیا۔ ان تمام سوالات سے قطع نظر لوڈشیڈنگ پر احتجاج اگرچہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ہواہے مگر اسے عوام کا تنگ آمد بجنگ آمد سڑکوں پر نکلنا مراد لینا خلاف حقیقت امر نہ ہوگا۔ احتجاج کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہو کہ اولاً عوام اس اچانک کی تبدیلی کیلئے تیار نہیںتھے دوم یہ کہ حکمرانون تو اتر سے یہ دعوے کرتے رہے کہ اب عوام لوڈ شیڈنگ کو بھول جائیں گے مگر اچانک ہی غیر اعلانیہ اور بغیر شیڈول کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی اور ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ صرف گھنٹوں گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہی نہیں ہو رہی ہے بلکہ بجلی کی آنکھ مچولی لوڈ شیڈنگ سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے جس کی وجہ سے صارفین کو برقی آلات کی خرابی یا اس کے خدشات کا سامنا ہے ۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے حال ہی میں ایوان بالا میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گردشی قرضے فروری میں 393 ارب روپے ہو گئے تھے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے و اپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کا کہنا ہے کہ اب توانائی بحران کا حل مشکل نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان 'سستے ہائیڈل ذریعے سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے پندرہ سے بیس روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے شارٹ فال پینتیس سو میگا واٹ ہو گیا ہے۔اس صورتحال میں نظر یہ آرہا ہے کہ رواں برس ساہیوال پاور پلانٹ اور پھر بن قاسم پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوارکے آغاز کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا البتہ ملک میںلوڈ شیڈنگ میں کمی تو واقع ہو سکتی ہے۔ گرمیوں میں بجلی کی طلب ورسد میں فرق رہتا ہے جو لوڈ شیڈنگ کا باعث ہے مگر معاملہ صرف اس سید ھی سادھی وجہ کا نہیں بلکہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا ہے کہ حکومت آخر ان واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے کیوں کام لیتی ہے اور یہ نوبت کیوں آنے دی جاتی ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار کم کرتے ہوئے بجلی کی پیدا وار بند کر نے کی دھمکی دینے پر مجبور ہو جائیں ۔ حکومت باقاعدگی کے ساتھ صارفین سے بلوں کی رقم وصول کرتی ہے بلکہ گرمیوں میں صارفین سے بجلی کے غیر حقیقی اور زائد نرخوں کے مطابق وصولی ہوتی ہے جس کا بعد میں ازالہ ضرور کر لیاجاتا ہے مگر بہر حال خواہ جو صورت بھی ہو حکومت کے پاس ایک خطیر اضافی رقم جمع ہوتی ہے مگر اس کے باوجود آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں ہوتی ۔حکومت پن بجلی کی قیمت بھی وہ وصول کرتی ہے جوایندھن سے بننے والی بجلی کی ہوتی ہے ۔مستزاد حکومت کمپنیوں سے خریدی گئی بجلی میں بھی اپنا منافع شامل کر تی ہے مگر اس کے باوجود عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق قیمتاً بلکہ مہنگے داموں بجلی کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے باعث یو پی ایس ، سو لر اور جنر یٹر کے متبادل اور اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے ۔ عوام سے 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کاجو وعدہ کیا گیا تھا اگر وہ پورا نہ ہوا توحکمران جماعت کے نمائندوں کیلئے عوام کا سامنا کرنا نہایت مشکل ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ انتخابات میں ناکامی کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بے تحاشا لوڈ شیڈنگ تھی۔ عوام حکمرانوں سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں جہاں ایک طرف دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہیں۔ سی پیک کو گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے گو کہ بجلی کی پیداوار کے منصوبے سی پیک میں شامل ہیں لیکن اگر حکومت گھریلو صارفین ہی کو بجلی کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے تو پھر سی پیک منصوبوں سے بجلی کی پیداوار کو عوام اور جاری بحران کے خاتمے کے لئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے جس کے بعد نئے قائم ہونے والے صنعتی زونز اور بجلی کی بڑھتی ضروریات پر کیسے قابو پایا جائے گا اور ان کو بجلی کہاں سے دی جائے گی۔ حکومت نے اس قسم کی صورتحال کا ادراک کرکے اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی تو خدانخواستہ سی پیک ملک میں توانائی کے بحران کی نذر ہو سکتا ہے جو ملک و قوم کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ پیسکو حکام نے مظاہرین اور قائدین کو جو یقین دہانیاں کرائی ہیں ان کو بلاٹالنے کے وقتی وعدوں ہی میں شمار کیاجانا چاہئے کیونکہ تجربہ سے ثابت ہے کہ پیسکو حکام کبھی بھی اپنے قول و فعل پر پورا نہیں اترتے اور وہ ایسا کرنے میں مجبور بھی ہیں اور معذور بھی۔ جب تک بجلی کی طلب و رسد میں توازن قائم نہیں ہوتا لوڈشیڈنگ ہوتی رہے گی اور یہی حقیقت ہے۔

اداریہ