Daily Mashriq


ڈبلیو ایس ایس پی پر عدم ا ور پی ڈی اے پر اعتماد

ڈبلیو ایس ایس پی پر عدم ا ور پی ڈی اے پر اعتماد

حیات آباد اور یونیورسٹی ٹائون کے علاقوں کے جملہ انتظامات ڈبلیو ایس ایس پی سے واپس لے کر پی ڈی اے کو سونپ دینا جہاں کمپنی کی ناکامی کا حکومتی اعتراف ہے وہاں اس سے کمپنی کا معاشی طور پر اپاہج ہوجانا بھی فطری امر ہوگا جو پہلے ہی سے معاشی بحران کا شکار ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ کمپنی کے منتظمین کی اپنے اخراجات کے لئے فنڈ کی منظوری اور بجٹ میں شامل کرنے میں ناکامی بتایا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کا قیام جن مقاصد اور امور کو مد نظر رکھ کر کیاگیا تھا وہ اس پر کتنا پورا اترنے میں کامیاب ہوئی ہے اس کا اندازہ سب سے زیادہ ریونیو کے حصول کے علاقوں کی واپسی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے مذکورہ علاقوں میں آبنوشی' صفائی اور نکاسی آب کے بلوں میں سو فیصد اضافہ کرنے کے باوجود نہ تو پانی کی فراہمی کا انتظام بہتر ہو سکا اور عوام کی شکایات میں کمی لائی جاسکی نہ ہی صفائی کا عملہ سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کرتے دکھائی دیا۔ نکاسی آب کی خرابی و بندش چونکہ روزانہ کی شکایت نہیں اس لئے اس مد میں سوائے تاخیر سے آنے اور شکایات کو بروقت نہ نمٹانے کی شکایت کے علاوہ کوئی سنگین شکایت سامنے نہیں آئی۔ اگرچہ پی ڈی اے کے سابق دور میں بھی لوگوں کو شکایات رہی ہیں لیکن اس وقت پی ڈی اے صارفین سے اتنی بھاری رقم بھی نہیں لیتی تھی۔ پی ڈی اے نے سیف حیات آباد کا جو منصوبہ شروع کرکے اسے کامیابی سے چلایا ہے اس سے لوگوں میں اس کے حوالے سے مثبت خیالات کا پایا جانا فطری امر ہے۔ بہر حال اب جبکہ معاملات پی ڈی اے کے سپرد ہوچکے اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوچکا ہے تو ان علاقوں کے مکینوں کا اسی تناسب سے اپنے مسائل کے حل اور بہتری کی توقع رکھنا ان کا حق ہے جس پر پی ڈی اے کے حکام کو پوری توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ جہاں جہاں پانی کی قلت ہے وہاں پانی کی فراہمی کا فوری بندوبست کیا جائے۔ اس ضمن میں پی ڈی اے اگر پانی ضائع کرنے والے صارفین پر نظر رکھے اور بلا وجہ سڑکوں اور گلیوں کو تالاب بنانے والوں گھروں کے باہر سروس سٹیشنوں کی طرح گاڑیاں دھونے کی ممانعت کی جائے اور صارفین کو احتیاط کے ساتھ پانی کے استعمال پر آمادہ کیا جائے تو بغیر کسی اضافی تگ و دو کے لوگوں کو پانی نہ ملنے کی شکایات کا بڑی حد تک ازالہ ہوگا۔ پی ڈی اے عملہ صفائی کو صفائی کا پابند بنائے اور ایک باقاعدہ شیڈول ترتیب دے کر اسے علاقہ مکینوں کو مطلع کیاجائے کہ اس کے مطابق اگر عملہ صفائی کام پر نہ آئے تو متعلقہ حکام کو مطلع کیا جائے۔ عملہ صفائی کے سپر وائزروں کو متحرک کیاجائے جبکہ پودوں کو پانی کی فراہمی کاہنگامی بندوبست کرکے سوکھنے سے بچایا جائے۔ پی ڈی اے کو گلیوں کی مرمت و بحالی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی اے کو اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ سیف حیات آباد کو اتنا فعال بنایا جائے کہ گلی محلوں کی چوکیداری کے لئے شہریوں کو اضافی رقم کی ادائیگی نہ کرنی پڑے۔ اگر وسائل نہ ہوں تو اس انتظام کو سیف حیات آباد میں شامل کرکے شہریوں سے اس کاوہی معاوضہ وصول کیا جاسکتا ہے جو وہ پہلے ہی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کرکے سیکورٹی کے نظام کے لئے جہاں وسائل میسر آئیں گے وہاں سیکورٹی کا نظام بھی مربوط ہوگا۔ اگر دیکھا جائے تو دو معروف علاقوں کی واپسی کے بعد کمپنی ادھوری رہ گئی ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی اور دیگر شہروں میں متعلقہ کمپنیوں کے حکام اپنی کارکردگی پر نظر ثانی کریں اور عوام کی خدمت کا فریضہ نبھانے پر توجہ دیں وگرنہ ان کا حشر بھی ڈبلیو ایس ایس پی سے مختلف نہ ہوگا۔

خصوصی افراد مظاہرے پر مجبور کیوں؟

معذور افراد کا محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے حکام کے خلاف مسائل حل نہ کرنے اور کرسی معذوراں کی فراہمی سے انکار کے خلاف مظاہرہ جہاں ان کی بے بسی و لا چارگی کا مظہر ہے وہاں یہ حکومت سے ان اداروں کی کارکردگی بارے بڑا سوال بھی ہے جن کو حکومت سالانہ کروڑوں روپے کا فنڈ دیتی ہے۔ معذور افراد معاشرے کے خصوصی افراد ہوتے ہیں جن کے مسائل کی نوعیت بھی عام لوگوں سے مختلف کافی پیچیدہ اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم کاروبار و روز گار کے بہتر بندوبست کا تو خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ حکومتی اداروں کی طرف سے ان کے لئے مختص فنڈز بھی ان کی امداد اور بہبود پر خرچ نہیں ہوتے اور خورد برد کی نذر کرلئے جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس سوائے احتجاج اور فریاد کے کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ کیا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ازراہ کرم خصوصی افراد کے مسائل و مشکلات پر بھی توجہ دیں گے اور ان کے نام پر فنڈز بٹورنے والوں سے حساب لیں گے اور ان کا احتساب کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں