فاٹا کا انضمام اور ایک ٹیلی فون کال

فاٹا کا انضمام اور ایک ٹیلی فون کال

فاٹا میں ایف سی آر ختم کرکے علاقے کو ملک کے عمومی دھارے میں لانے کا مطالبہ آج کا نہیں ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد جب وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس وقت کے نامزد وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے پہلے ہی خطاب میں فاٹا میں ایف سی آر ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن بغیر کوئی ہوم ورک کیے اور بغیر متبادل (ملک میں رائج عمومی) نظام انصاف کے نفاذ کے لیے کوئی انتظام کیے ۔ اس سے پہلے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں کچھ سفارشات تیار کی گئیں لیکن ان پرعمل درآمد کرنے کی طرف بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اب مسلم لیگ ن کی حکومت نے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جس نے کئی ماہ کی تحقیق ' کئی بار فاٹا کا دورہ کرنے کے بعد کچھ سفارشات تیار کی ہیں۔ جن میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مقبولِ عوام مطالبہ کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن پانچ سال بعد۔ اس دوران فاٹا کو قومی دھارے میں لانے وہاں کے اپنے قبائلی قوانین کو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رائج نظام عدل کے قریب لانے کے لیے بہت سی سفارشات مرتب کی ہیں جنہیں رواج ایکٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ سرتاج عزیز سفارشات کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی اور اب انضمام کے لیے آئینی ترمیم کا بل اور فاٹا رواج ایکٹ نافذ کرنے کے لیے ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے لیکن فاٹا سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان کے شدید اصرار و احتجاج اور اس الٹی میٹم کے بعد کہ اگر یہ بل 20مئی تک اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا تو اسلام آباد میں فاٹا کے لوگ دھرنا دیں گے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ترمیمی بل اور رواج ایکٹ کی منظوری وفاقی کابینہ نے دے دی تھی تو اسے اسمبلی میں پیش کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی کہ فاٹا کے ارکان اسمبلی کو دھرنے کا الٹی میٹم دینا پڑا۔ سرتاج عزیز سفارشات اور کابینہ سے ان کی منظوری سے مسلم لیگ ن کے اتحادیوں جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اختلاف کیا۔ فاٹا کے قومی اسمبلی کے منتخب ارکان پرجیسا کہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکا ہے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر اصرار کرتے ہیں۔ تو کیا جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی ان ارکان قومی اسمبلی کی نمائندہ حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے؟ یہ دونوں رہنما ہمیشہ خصوصاً پی ٹی آئی کے دھرنوں کے دنوں میں بار بار کہتے رہے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ' لیکن فاٹا کے پارلیمانی لیڈروں کے متفقہ مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ریفرنڈم کی بات مان لی جائے تو عملی طور پر ریفرنڈم کرانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں جب کہ فاٹا کے لوگ خیبرپختونخوا میں انضمام اور ملک کے دیگر حصوں میں رائج قوانین کا نفاذ فوری طور پر چاہتے ہیں کیونکہ فاٹا کے لوگ فاٹا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور انگریز کے بنائے ہوئے کالے قوانین ایف سی آر سے نجات چاہتے ہیں۔ فاٹا کے لوگوں کے تمام کاروبار' علاج معالجہ اور تعلیم کا انحصار خیبر پختونخوا پر ہے اور خیبرپختونخوا کے ساتھ ان کے ہزاروں سال پر محیط دینی ' تہذیبی' لسانی اور نسلی رشتے ہیں۔ انہیں الگ حیثیت دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ایف سی آر اور مقامی قبائلی نظام انصاف کے تحت رہیں جب کہ خود مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں میں اپنے اپنے رواج ہیں جن کے تحت وہاں انصاف کیا جاتا ہے۔ محمود خان اچکزئی کی پارٹی کو فاٹا میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے اس کے باوجود وہ فاٹا کے منتخب ارکان قومی اسمبلی کی رائے کے خلاف چلتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ وہ انضمام کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے ۔ ظاہر ہے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے معاملات تاخیر کا شکار ہو جائیں گے لیکن سرتاج عزیز سفارشات کے مطابق جو بل قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ہیں ان کے مطابق بھی تو ریفرنڈم ہوگا اور پانچ سال بعد ہوگا۔ تو مولانا کو قومی اسمبلی میں زیر ِ غور بل پر اعتراض کیا ہے؟سرتاج عزیز سفارشات کو بالعموم قابل عمل سمجھا گیا ۔ وفاقی کابینہ نے بھی ان کی منظوری دے دی اور ان سفارشات کی روشنی میں قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کا بل اور رواج ایکٹ کے نفاذ کا بل پیش کر دیے گئے۔ پھر مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایک ٹیلی فون کال کی جو غیر ملکی دورے پر گئے ہوئے اور وزیر اعظم کو قائل کر لیا کہ قومی اسمبلی میں زیرِ غور ا ن بلوں پر کارروائی وزیر اعظم کے وطن واپس آنے تک موخر کر دی جائے جو موخر کردی گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک ٹیل فون کال تھی لیکن اس کے مضمرات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فاٹا کے انضمام اور وہاں رواج ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ وزیر اعظم نواز شریف ہانگ کانگ کا دورہ مکمل کرکے سعودی عرب جائیں گے جہاں 20یا 21مئی کو ان کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ اس کے بعد وہ وطن واپس آئیں گے۔ اسکے بعد 26مئی کو کہا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ فاٹا کے بارے میں آئینی ترمیم اس سے پہلے منظور ہو جائے تو ہو جائے کیونکہ بجٹ میں اس ترمیم کی روشنی میں اختصاص ہوں گے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے موخر ہو جائے گا۔ وزیراعظم کی فاٹا ترمیمی بلوں پر اسمبلی کی کارروائی موخر کرنے کی ہدایت کے بعد پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے بھی ان بلوں کی حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب اگر 26مئی سے پہلے آئینی ترمیم پیش بھی کی گئی تو اسے دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ فاٹا کے منتخب ارکان قومی اسمبلی سنا ہے کہہ رہے ہیں کہ اگر فاٹا ترامیم منظور نہ کی گئیں تو وہ بجٹ اجلاس میں ووٹ نہیں دیں گے لیکن یہ بھی شنید ہے کہ فاٹا کے منتخب ارکان میں سے چار ارکان کو مولانا نے اپنے موقف کی حمایت پر راضی کر لیا ہے۔ ایک ٹیلی فون کال نے کیا کیا کر دیا۔

اداریہ