ذکر اپریل کے کچھ استعفوں کا

ذکر اپریل کے کچھ استعفوں کا

جدید عالمی سیاست کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ استعفوں کے قصوں سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سے کافی استعفے اپریل کے مہینے میں پیش یا پھر منظور کئے گئے۔ ہمارے ملک میں تو کرسی سے پیار کی اتنی گہری روایات ہیں کہ استعفیٰ ایک داغ کی طرح سوچا اور پیش کیا جاتا ہے۔لیکن اس اپریل کے آخر میں اس مایوسی کو ایک روشن چنگاری نے مات دی جب وفاقی وزیر کھیل اور بین الصوبائی رابطہ میا ں ریاض حسین پیرزادہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ عالمی سیاست کے پس منظر میں ستر کی دہائی سے شروعات کریں تو اپریل میں دیئے جانے والے استعفوں میں اسرائیلی وزرائے اعظم گولڈامیر اور یتڑاک رابن کے استعفے شامل ہیں۔ گولڈامیر نے انیس سو چوہتر میں اپنے بوڑھے کندھوں کو نئی مخلوط حکومت کی ذمہ داری کیلئے ضعیف بتا کر استعفیٰ دیا جبکہ یتڑاک رابن نے انیس سو ستتر میں معاشی دھاندلی کے الزامات کے احتجاج میں استعفیٰ دیا۔ یتڑاک رابن نے وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں اسرائیلی سفیر کے طور پر اپنی بیوی کیساتھ مشترکہ بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔ رابن کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک اسرائیلی اخبار نے جب یہ خبر شائع کی تو چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ وزیر اعظم نے اس بنک اکاؤنٹ کے بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا۔ حالانکہ یہ اکاؤنٹ رابن اور اس کی بیوی غیرکاروباری کاموں کیلئے استعمال کرتے تھے لیکن پھر بھی رابن نے استعفیٰ کو اقتدار پر فو قیت دی۔ اسرائیل کی بنیاد رکھنے والے ان دونوں حکمرانوں نے استعفیٰ نہ دینے کی ہزاروں وجوہات سے زیادہ اپنی قوم اور اس کی آئندہ نسلوں کیلئے قربانی کی ایک وجہ کو اہم سمجھا۔اس کے علاوہ اپریل انیس سو چرانوے میں جاپانی وزیراعظم موری ہورو ہوسوکاوا نے کرپشن کے الزامات میں اقتدار چھوڑا، اپریل دو ہزار چار میں گنی کے وزیراعظم نے صدر کے رویے کے خلاف احتجاج میں استعفیٰ دیا۔ چیک ری پبلک کے وزیراعظم اسٹنسلو گراس نے اپریل دو ہزار پانچ میں مالی دھاندلی کے الزامات کے نتیجے میں اقتدار چھوڑا جبکہ اسی سال اپریل میں کرغستان کے صدر اسکر اکائیوو نے ٹیولپ انقلاب کے نتیجے میں استعفیٰ دیا۔ اپریل میں سیاسی استعفوں کی تاریخ نے جب موجودہ دہائی میں قدم رکھا تو ھنگری کے صدر پال سمٹ نے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری میں سرقہ (plagiarism) ثابت ہونے پر استعفیٰ دیا اور پھر دو ہزار سولہ میں آئیس لینڈ کے وزیراعظم سگ مندر ڈیویو نے پانامہ پیپرز میں نام آنے پر استعفیٰ دیا۔اپریل کے مہینے کے علاوہ ان استعفوں میں ایک اور چیز بھی قدر مشترک ہے۔ ان مستعفی ہونے والے حکمرانوںمیں سے سوائے چند ایک کے باقی سب ترقی یافتہ قوموں کے سربراہان تھے۔ ان کو پتا تھا کہ با عزت رخصتی ان کے اور ان کی قوم کیلئے کتنی اہم تھی۔ ظاہر ہے ایسی قومیں ہی دنیا میں اپنا لوہا منوائیںگی۔ پانامہ الزام پر جس طرح دنیا کے اور وزرائے اعظم نے عدالت بلائے جانے سے پہلے استعفیٰ دے دیا اس طرح ہمارے وزیراعظم کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ لیکن ہمارے وزیراعظم اور ان کے قریبی رفقاء استعفیٰ کی مانگ کو ناجائز تصور کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پانامہ ایک عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔اگر یہ بات صحیح ہے تو اسرائیل کے وزیر اعظم یتڑاک رابن کا غیرملکی اکاؤنٹ کونسا عوامی مسئلہ تھا کہ اس نے استعفیٰ کو اپنے اقتدار پر فوقیت دی؟ ہنگری کے صدر پال سمٹ کی سرقہ پی ایچ ڈی کون سا لوگوں سے روزگار چھین رہی تھی اس نے استعفیٰ میں ہی اپنے ملک اور قوم کی خیر سمجھی؟ اب اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو اقوام مسلم کی رہبری کا خواب دیکھنے والے ہم لوگ سسٹم کا حصہ بنے رہنے میں ہی خوش ہیں۔ وہ سسٹم جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے کو یا تو اپنا حصہ بنا دیتا ہے یا چپ کروا دیتا ہے اور یا پھر بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتا۔ نتیجتاً ہر فرد یہ جان گیا ہے کہ سسٹم کے ساتھ چلنا ہے۔ اب جیسا سسٹم ویسے اس کے اندر بسنے والے لوگ۔ اس دو نمبری کی دلدل نے ہم میں سے بہت ساروں کو یا تو اس جرم کا حصہ بنا دیا ہے اور یا پھر بہتری کی امید سے مایوس کردیا ہے۔ لیکن چراغوں سے روشنی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ابھی بھی اس سسٹم میں کچھ لوگ ہیں جو اس کی بہتری اور اس میں ہونی والی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔اس کی ایک تازہ مثال گزشتہ ماہ میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کھیل اور بین الصوبائی رابطہ میا ں ریاض حسین پیرزادہ کا اپنے عہدے سے استعفیٰ ہے۔بظاہر یہ استعفیٰ ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کو معطل کئے جانے پر ناراضگی کا اظہار نظر آتا ہے لیکن در حقیقت انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپشن پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سسٹم کو للکارا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ لوگ وزارت کیلئے اپنی جدی پشتی وابستگیاں اور اصول چھوڑ کر کرسی کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچے چلے جاتے ہیں اور تب تک کرسی نہیں چھوڑتے جب تک دوسری کرسی کی یقین دہانی نہ ہو جائے۔ کاش ہمارے حکمرانوں کو احساس ہو کہ تخت کا ظاہری حسن اس کی پوشیدہ ذمہ داری کے آگے بے معنی ہے۔ کاش ہمارے حکمران سیاست کی خاطر ہی سہی پر اقتدار کو ٹھوکر مارنے کی روایت قائم کریں اور کہیں کہ ہم خواری اور الزامات کا ٹوکرا اٹھانے سے زیادہ عوام کی عدالت میں جاکر انصاف لینا پسند کریںگے۔ کاش ہمارے سیاستدان اور ہماری عوام ''بد اچھا بدنام برا'' والی مثال کو سمجھیں۔ انصاف سے زیادہ انصاف پر یقین کو سمجھیں۔

اداریہ