چین تعاون کی قیمت نہیںمانگتا

چین تعاون کی قیمت نہیںمانگتا

پاکستان کی تین بڑی سرحدیں اس وقت خطرے کی زد میں نظر آرہی ہیں ۔ایک مشرقی سرحد جہا ں قیا م پاکستان کے بعد سے سکو ن دیکھنے کو نہیں ملا جبکہ پاک بھارت جنگوں کے دوران پاکستان نے اپنی ایر ان اور افغانستان کی طرف ملی ہو ئی مغربی سرحدوں کی کوئی غیر معمولی حفاظتی انتظامات نہیں کیے تھے اس کے باوجو د وہا ں ان غیر معمولی حالا ت میں بھی کوئی خطرہ نہیں منڈلا یا ۔ مگر مشرف کے امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کے بعد سے یہ سرحدی علا قہ بھی خطرا ت سے دوچار ہے او ر خوفناک بگل اس جانب سے بجتا رہتا ہے ۔چنا نچہ اب ایر ان جس کی وجہ سے پاکستان کی جنوب مشرقی سرحد کو کلی طور پر محفوظ تسلیم کیا جا تا رہا ہے اب اس جا نب سے بھی پاکستان پر حملے کی دھمکیا ں مل رہی ہیں ۔ یہ دھمکیو ں کے کھیل کیا ہیں ، اس سے پہلے بھی نا راضی کے معاملا ت ہو جایاکر تے تھے جو یا توالزاما ت یا پھرعدم اعتما د پر مبنی ہوا کر تے تھے۔اب یہ صورت حال ہو گئی ہے کہ افغانستا ن جو یہ جا نتا ہے کہ وہ کسی کو بھی مصنوعی طورپر اپنا ہمسایہ مان لے مگر جو حقیقی ہمسایہ ہے اس کو بدلا نہیں جا سکتا ، گزشتہ روز ہی افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے پا کستانی سفارت خانے کے پر وٹوکول افسر حسن خانزادہ اور ڈرائیور منیر شاہ کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تقریباًپانچ گھنٹے تک یر غمال بنائے رکھا اور ویزے دینے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جا تی رہی ۔ ان پا کستانیو ں کو ایک ایسے علا قے سے اغوا کیا گیا جہا ں ہمہ وقت نہ صرف امر یکی فو ج کے اہلکا ر تعینات ہیں بلکہ افغان فوج اورافغان خفیہ ادارے کے اہلکا ر ایک خاصی بڑی تعداد میں متمکن ہیں اور ہر آنے جا نے والے سے پو چھ تاچھ ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح افغانستا ن سفارتی آداب کے علا وہ عالمی سفارتی قوانین کی خلا ف ورزی کا بھی مرتکب ہو ا ہے ۔ کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ اشرف غنی حکومت نے پا کستان کے ساتھ تو تا چشمی برتی ہو ئی ہے ، جب کہ امریکا جس نے ایٹم بم سے زیادہ خطر نا ک بم جس کو وہ بمو ں کی ما ںقر ار دیتے ہیں وہ افغانستان پر گرایا مگر اشرف غنی حکومت کا یہ حال ہے کہ اس کا کوئی اہلکا ر ہنو ز اس متاثرہ علا قے میں داخل نہیںہو سکا کہ تباہی کے منظر کا جا ئزہ لے سکے۔ جس حکومت کی یہ بندھن ہو تو وہ کس طرح خود مختاری کا مدعی ہو سکتا ہے ۔ ما در بم کے استعمال کے بعد سے افغانستان کی صورت حال کیا ہے وہ بظاہر ویسی ہے مگر امریکا کی نئی انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ ان کی نئی پالیسی کے کیا بنیا دی نکات ہو ں گے ا س بارے میں کوئی نئی بات تو کہنا مشکل ہے تاہم خود ٹرمپ کی یہ حالت ہے کہ جب بارک اوباما نے افغانستان میں مزید فوجی دستے بھیجے تھے تو انہو ں نے شدید احتجا ج کیا تھااور افغانستان فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی مگر اب خود نئی پا لیسی وضع کیے بغیر افغانستان مزید پا نچ ہزار فوجی بھیج رہے ہیں کیو ں کہ افغانستان میں امر یکی کما نڈرجان نکلسن نے کمک کی طلب کی ہے ، جو اس امر کا ثبو ت ہے کہ امریکی فوج شکست سے دوچار ہو چکی ہے اور اس کو تازہ دم دستے چاہئیں۔اب بھی وہی صورت حال ہے جو ما در بم کے استعمال سے قبل تھی کہ افغانستان کے سولہ صوبو ں میں طالبان کی حکمر انی کا کلی سکّہ چلتا ہے ، جبکہ کل چونتیس صوبے ہیں۔ ان سولہ صوبو ںکے علا وہ بارہ صوبو ں کے بڑے حصوں پر بھی طالبان کا کنٹرول ہے ، امریکا اور اشرف غنی بار بار کہتے ہیں کہ طالبا ن کو مذاکر ات کی میز پرآنا چاہیے کیا وہ یہ نہیں جا نتے کہ مذاکر ات کی میز پر اس وقت آیا جا تا ہے جب کوئی کمزور پڑ جاتا ہے اب تو مو سم بہا ر ختم ہو رہا ہے اور گرمیوں کا آغاز ہے جو طالبان کی جنگی حکمت عملی کے لیے بہترین مو سم ہے۔ امریکا نے مفاہمت اور امن کا ایک بہترین مو قعہ ما سکو کا نفرنس میں شرکت نہ کر کے گنو ایا ۔افغانستان ہو پاکستان ہو ، وسطی ایشیا یا پھر کوئی بھی دنیا کا خطہ ہو امر یکا کی پالیسی کی نبض پنچ ستاری پنٹگان کی عما رت ہی ہے ۔چنا نچہ یہ کہنا کہ امر یکا افغان پالیسی کے خد وخال مر تب کررہا ہے یہ محض تکلف کی بات ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے سے امر یکی بھیجے میں یہ بات بیٹھی ہو ئی ہے کہ جنگ پر و پیگنڈے کے ذریعے جیت لی جا تی ہے وہ اسی گما ن میںہے کہ مید ان میں شکست کھا نے کے باوجود وہ میڈیا کے بل بوتے پر افغان جنگ جیت گیا ہے۔ یہ تو گزشتہ دس سال سے نظر آرہا ہے کہ امریکا دنیا میں امن چاہتا ہی نہیں ہے ، تک افغانستان ، پاکستان ، اور ایران کا تعلق ہے تو اس بارے میں پا لیسی اسی وقت واضح ہو گئی تھی جب افغانستان میں امریکا نے فوجیں اتاریں ۔ ما در بم بھی نئے خدوخال کا حصہ ہیں ، وہ رو س اور چین کو شام کے بارے میںجھا نسے میں رکھ کر کہ جس پا لیسی کی طر ف قدم بڑھا رہا ہے اس کا مقصد یہ ہی ہے کہ جنوبی ایشیا کی طرف توپو ں کی گھن گر ج گونج اٹھے۔ چونکہ قدم بڑھانا اتنا آسان نہیںہے جس کی بہت سی وجو ہا ت ہیں اگر پا کستان کی مغربی اور مشرقی سرحدو ں کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے تو دوسری طر ف بھا رت کی شمال مشرقی سرحد پاکستان سے زیا دہ خطر ے سے دوچا رہے اور خود بھارت کے جنو بی صوبے بغاوت کی زد میںنظر آرہے ہیں ۔ اسلامی ملکو ں کی مجو زہ کانفرنس میں وزیر اعظم پا کستان شرکت کر یںگے جس میںشرکت کے لیے صدر ٹرمپ بھی پہنچ رہے ہیں جہاں دونو ں کی ملا قات کا اہتما م کر ایا جا رہا ہے۔ اس ملا قات کے بارے میں شہباز شریف کے الفاظ سے زیا دہ بہتر تبصرہ کوئی اورنہیںہو سکتا انہو ں نے کہا ہے کہ چین تعلقات کی قیمت نہیںما نگتا ، کبھی فوجی اڈے مانگے نہ ائیر بیس اور نہ ڈو مو ر کا مطالبہ کیا ، اس تبصرے کے بعدٹرمپ نواز ملا قات میں کیا ہو گا تبصرے کی ضرورت نہیں ۔

اداریہ