Daily Mashriq


خادمِ اعلیٰ کی گڈگورننس کا ڈھول

خادمِ اعلیٰ کی گڈگورننس کا ڈھول

خادم اعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس ،شفافیت اور میرٹ کاڈھول پورے ملک میں پیٹا جاتا ہے لیکن اس گڈ گورننس کا صحیح معنوں میںاندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کا کسی سرکاری محکمہ سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے۔ کاشتکاروں کی فلاح اور گندم خریداری کے حوالے سے خادم اعلیٰ کی گڈ گورننس کا ان دنوں بڑا چرچاہے ۔اصل حقائق کیا ہیں اس کا اندازہ مجھے تب ہوا جب میںگزشتہ دنوں اپنے آبائی گاؤں گیا۔ ہر طرف گندم کی کٹائی اور خرید و فروخت کا منظر تھا۔ کاشتکاروں سے گفتگو کرکے اندازہ ہوا کہ وہ پنجاب حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے گندم خریداری کے موجودہ سسٹم سے سخت نالاں ہیں۔ کیونکہ گندم کی خریداری کا جو طریقہ کار پنجاب حکومت کی طرف سے وضع کیا گیا ہے وہ بہت ہی پیچیدہ ہے اور چھوٹے کسان آج بھی آڑھتی اور بیوپاریوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔ آئندہ سطور کو سمجھنے کے لیے اس سسٹم کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسانوں کو حکومت کی طرف سے جو باردانہ دیا جاتا ہے اسی حساب سے انہیں گندم کی قیمت دی جاتی ہے۔ جو کسان باردانہ حاصل کرنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسے دو چار دن کی تاخیر سے روپے بھی مل جاتے ہیں اور جو کسان باردانہ کے حصول میں ناکام رہا وہ آڑھتیوں اور بیوپاریوں کے ہاتھ سستی گندم بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے فی ایکڑ 10بوری دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کی گرداوری پٹواری پہلے ہی کر چکا ہو تا ہے۔ جب گندم پک کر تیار ہو جاتی ہے تو محکمہ خوراک کی طرف سے علاقے میں جو سینٹر بنایا جاتا ہے اس میں کاشتکاروں کے نام کی لسٹ آویزاں کر دی جاتی ہے کہ یہ کاشتکار اتنے اتنے ایکڑ کے لیے باردانہ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ 10بوری سے لے کر 50بوری تک کے حصول کے لیے شخصی ضمانت یعنی نمبردار یا گزیٹڈ آفیسر کی تصدیق سے کاشتکار کو باردانہ مل جاتا ہے۔ اب اس میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ پٹواری جب گرداوری کرتا ہے تو اکثر کچی پنسل سے خسرہ کی گرداوری کرتا ہے جسے کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے،یہ کام پٹواری کلچر کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باردانہ کے حصول کے لیے بڑے کاشتکاروں کو تو نوازا جاتا ہے جب کہ چھوٹے کاشتکاروں کو باردانہ کی لسٹ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ جن کاشتکاروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یہ لوگ مجبوراً اونے پونے داموں آڑھتی کے ہاتھوں گندم فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ آڑھتی اور بیوپاری کسانوں کی مجبوری سے یوں فائدہ اُٹھاتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے اگر گندم کی قیمت 1300روپے فی من مقرر کی گئی ہے تو یہ بیوپاری 1100یا زیادہ سے زیادہ 1150روپے فی من خریدتے ہیں یوں ان بیوپاریوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے دوسری پابندی یہ عائد کی گئی ہے کہ 10بوری حاصل کرنے والا کسان بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ہی رقم حاصل کرنے کا مجاز ہو گا۔ اکاؤنٹ نہ ہونے کی صورت میں اسے ادائیگی نہ کی جائے گی۔ بینک اکاؤنٹ سے ادائیگی کے وقت ایک لاکھ روپے پر 600روپے جب کہ 50ہزار سے زائدتک رقم پر 300روپے کی کٹوتی ہوتی ہے۔ یہ ساری تفصیل تو ان کاشتکاروں کی تھی جن کا نام محکمہ خوراک کی لسٹ میںموجود تھااور جن کاشتکاروں کا نام لسٹ میں نہیں آیا اور وہ واقعی کاشتکار ہیں ،تو ایسے لوگوں کے لیے دوبارہ سے نام کا اندراج کرانا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے کہ سُن کر ہی دانتوں کو پسینہ آجائے۔ فائل پٹواری سے لے کر تحصیل دار تک جاتی ہے اس کے درمیان میں تقریباً ایک درجن کے قریب افسر تحقیقات کرتے ہیں۔ ہر افسر کی میز پر دو چار دن فائل پڑی رہتی ہے اور ایک دن کسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی باردانے کے حصول کی کے لئے دی گئی درخواست منظور نہیںہو سکی کیونکہ گندم کی خریداری کا سیزن ختم ہو گیا ہے۔ گندم کی خریداری کے اس سارے سسٹم میں دو خرابیاں سرفہرست ہیں۔ ایک یہ کہ چھوٹے کاشتکار آج بھی درجنوں مسائل کا شکار ہیں ۔ ان کی آسانی کے لیے حکومت نے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ان کاشتکاروں کو ٹیکس نیٹ میں جبری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کاشتکار پہلے ہی مقروض ہیں وہ ٹیکس کیسے ادا کریں گے۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آ رہی ہے کہ اکثر کسان زمین کی تیاری اور فصل کی بیجائی سے لے کر کٹائی تک آڑھتی ،بیوپاریوں یا بڑے زمینداروں کے مقروض ہوتے ہیں اور آڑھتی ان کسانوں کو اس شرط پر قرض دیتے ہیں کہ جب فصل پک جائے گی تو فصل ان کی آڑھت پر ہی لائی جائے گی جس میں سب سے پہلے وہ اپنا قرض کاٹتاہے باقی ماندہ کسان کو دیتاہے۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود چھوٹے شتکاروں کا یہ طبقہ آج بھی آڑھتیوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اس طبقہ کے لیے کیجئے ۔ نعرے لگانے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ پنجاب کے چھوٹے کسانوں کے لیے حکومت نے کچھ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں