غریب دوست بجٹ کی امید

غریب دوست بجٹ کی امید

بجٹ کی آمد آمد ہے یہ ہر سال آتا ہے حکومت اپنی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتی اور حزب اختلاف چھریاںچاقو تیز کرکے میدان کارزار میں اترتی ہے ایک طرف تعریف تو دوسری طرف تنقید یا تنقیص! چند دن خوب میلہ گرم رہتا ہے غریب آدمی ہونق بنا منہ کھولے چاروں طرف دیکھتا رہتا ہے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ ہوتا جو کچھ بھی ہے لیکن اس بیچارے کی وہی کیفیت ہوتی ہے : ہم وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے ! حکومتیں بدلتی ہیں سیاست دان پارٹیاں بدلتے ہیںاگر نہیں کچھ نہیں بدلتا تو وہ غریب کی حالت زار ہے حکومت اپنے بجٹ کو غریب دوست بجٹ کہتی ہے اور حزب اختلاف اسے غریب دشمن بجٹ قرار دیتی ہے ہم جیسے کم پڑھے لکھے لوگوں کو تو یقین کیجیے بجٹ کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ یہ ہندسوں اور لفظوں کا گورکھ دھندا ہوتا ہے جس میں عام آدمی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس گورکھ دھندے سے ناآشنا سادہ لوح سرکاری ملازمین اس بات پر خوش ہوتے ہیںکہ چلو ان کی تنخواہوں میں کچھ نہ کچھ اضافہ تو ہو ہی گیا ہے جب انہیں کوئی خرانٹ قسم کا سرکاری ملازم سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ بھائی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بجٹ کے بعد مہنگائی کی سونامی ٹائپ لہر جب آئے گی تو تمہیں چھٹی کا دودھ یا د آجائے گا تو تنخواہ میں اضافے پر خوشیاں منانے والا اسے بڑی سادگی سے کہتا ہے کہ بھائی مہنگائی کی لہر نے تو آنا تھا اگر حکومت ہماری تنخواہوں میں اضافہ نہ کرتی تو ہم اس کا کیا بگاڑ لیتے؟بات تو کسی حد تک ٹھیک ہی ہے وہ جو کہتے ہیں کہ مجبوری کا نام شکریہ! مجبور آدمی شکریہ ادا کرتے کرتے ساری زندگی گزار دیتا ہے ویسے یہ کتنا اچھا ہو کہ ہم ہمارے سیاستدان ہماری حکومتیں سچ کی روش اپنا لیں بجٹ پیش کرتے ہوئے سارے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں جہاں کمزوری ہے اسے نہ چھپایا جائے اور اپوزیشن بھی تنقید برائے تنقید کی روش سے گریز کرتے ہوئے کمزور مقامات پر بے شک انگلی رکھے لیکن جہاں بہتری نظر آئے اس کی تعریف بھی ہوجائے تو کیا مضائقہ ہے؟فی الحال تو چند صدیوں تک شاید ایسا ہونا ممکن بھی نہیں ہے ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بجٹ کے حوالے سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ موجودہ حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے اس لیے وہ یقینا بجٹ بناتے ہوئے غریب آدمی کا ضرور خیال رکھے گی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حالات اچھے نہیں ہیں سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں جہاں پولیس محفوظ نہ ہو ، امراء و وزراء کی زندگی غیر محفوظ ہو ، اور اس غیر یقینی صورتحال میں بجٹ بھی سر پر کھڑا ہوتو پھر سفید پوش طبقہ آنے والے دنوں کے تصور سے ہی خوفزدہ ہوجاتا ہے پہلے لوگ دال چاول اور سبزیاں کھا کر گزارا کر لیتے تھے گوشت کی بات بھی نہ کرتے لیکن اب دال چاول اور سبزیاں خریدنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے رہی سہی کسر یو ٹیلٹی بل نکال دیتے ہیں۔ اسی طرح زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کی فیس اپنی ذات میں خود ایک بہت بڑی بیماری ہے غریب تو چاروں طرف سے مار کھا رہا ہے خود ساختہ مہنگائی بھی ہمارے آج کے دور کا شاخسانہ ہے کسی کو کوئی خوف نہیں ہے لوٹ مار کا بازار گرم ہے روزمرہ خوردونوش کی اشیاء کی من مانی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔رمضان المبارک میں قیمتیں مزید بڑھا دی جاتی ہیں۔ایسے حالات میں عام آدمی کی پریشانی سب کی سمجھ میں آتی ہے ۔ دفاع کے بے پناہ اخراجات، بھاری بھرکم کابینہ کے اخراجات، ٹیکسوں کی وصولی کا ناقص نظام یہ سب ایسے مسائل ہیں جو ہمارے ہر بجٹ پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔جان ایف کینیڈی نے کہا تھا'' اگر ایک آزاد معاشرہ غریبوں کی مدد نہیں کرسکتا تو وہ امیر لوگوں کو بچا بھی نہیں سکتا جو تعداد میں تھوڑے ہیں''اس قول کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دولت مندوں کو بچانے کے لیے غریب دوست بجٹ پیش کرنا بہت ضرور ی ہے ایک اچھا بجٹ پیش کرکے کم آمدنی والے طبقے کی مدد کی جاسکتی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا حکمران طبقہ غریب کے حالات سے با خبر ہو اس کے سامنے ایک اوسط درجے کے گھرانے کے اخراجات کی مکمل تصویر موجود ہو ورنہ بصورت دیگر وہ سیل فون کے استعمال کو دیکھتے ہوئے غریبوں کو امراء میں شمار کرنا شروع کردیتے ہیں اور اعداد و شمار کی بھول بھلیوں میں الجھا ہوا بجٹ پیش کر کے غریبوں کی مشکلا ت میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے حالانکہ آج ضرورت ہے (خوش فہم ووٹروں میں نیک نامی کے لیے ) ایک اچھا اور غریب دوست بجٹ پیش کرنے کی !اور اگر حکومت وقت کی یہ سوچ ہو کہ فی الحال عوام کو چھوڑیں ان کا کیا ہے یہ تو ہر سال بجٹ پیش ہوتے ہی رونا دھونا شروع کردیتے ہیں امسال بھی یہ چند دن یا چند ہفتے فریا د و فغاں کرکے چپ ہوجائیں گے تو پھر غریب کا تو اللہ ہی حافظ ہے !نئے بجٹ میں کمر توڑ ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکسوں کی وصولی کا نظام فعال کرنے کی ضرورت ہے سرکاری ملازمین بھی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کی توقع رکھتے ہیں جو یقینا آج کے حالات کے تناظر میں ان کا حق ہے۔ یہ اعلانات بھی کیے جارہے ہیں کہ یہ بجٹ عام آدمی کے لیے خوشخبری لے کر آئے گا یقینا حکومت کی سب سے پہلی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہے لیکن زمینی حقائق اور ملک کی مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے عام آدمی کو کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے!۔

اداریہ