Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

شاہ روم ہرقل نے حضرت معاویہ کی ذہانت کا امتحان لینے کیلئے آپ کو چند سوالات لکھ بھیجے اور کہا کہ ان کا جواب دو : 1۔ وہ کون سی شے ہے جس سے ہر شے ہے اور وہ کون سی شے ہے جو لا شے (کچھ نہیں ) ہے ؟

2۔ چار چیزیں ہیں جن میں روح تو ہے لیکن ان چاروں کا وجود ماں کے رحم اور باپ کی پیٹھ میں نہیں تھا ؟ 

3۔ وہ کون تھے جن کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی ؟

4۔اس آدمی کا کیا نام ہے جس کی پیدائش بغیر ماں کے ہوئی ؟

5۔ قوس قزح کیا چیز ہے ؟

6ْ۔وہ کون سا درخت ہے جو بغیر پانی کے اگتا ہے ؟

7۔وہ کونسی چیز ہے جو سانس تو لیتی ہے ، لیکن اس کے اندر روح نہیں ہوتی ؟

8۔ آج ، گزشتہ کل ، آئندہ کل اور آئندہ کل کے بعد کیا ہے ؟ حضرت معاویہ نے ان سوالات پر حضرت عبداللہ بن عباس کا جواب پا کر ہر قل کو لکھا :

1۔وہ شے جس سے ہر شے ہے ، پانی ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ''اورہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی '' (الانبیا : 21/30)اور وہ شے جو لاشے (کچھ بھی نہیں ) ہے ، وہ دنیا ہے جو ختم ہونے والی اور زوال پذیر ہے ۔

2۔وہ چار چیز یں جن میں روح تو ہے لیکن ان کا وجود ماں کے رحم اور باپ کی پیٹھ میں نہیں تھا ، یہ ہیں : 1۔ حضرت آدم ، 2۔ حضرت حوا ، 3۔ حضرت صالح کی اونٹنی ، 4۔ حضرت اسماعیل کا مینڈ ھا ۔

3۔ حضرت آدم کی پیدائش بغیر ماں کے ہوئی 4۔ قوس قزح اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو غرقاب ہونے سے ''امان '' ہے ۔

6۔ بغیر پانی کے اگنے والا درخت ''یقطین '' ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کے اوپر اگایا تھا ۔

7۔ وہ چیز جو سانس تو لیتی ہے مگر اس کے اندر روح نہیں ہے ، وہ صبح ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ''اور قسم ہے صبح کی جب کہ اس نے سانس لیا ۔ '' (التکویر : 81/18)

8۔ جہاں تک آٹھویں سوال کا تعلق ہے تو آج عمل ہے ، گزشتہ کل مثال ہے ، آئندہ موت اور آئندہ کل کے بعد مشکل الحصول آرزواور امید ہے ۔

(سنہرے واقعات)

امام مالک جب حدیث بیان کرنے کا ارادہ کرتے تو وضو کر کے مسجد کے فرش کے اگلے حصہ پر بیٹھ جاتے ، پھر داڑھی میں کنگھی کرتے او ر پورے وقار کے ساتھ جلوہ افروز ہو کر حدیث رسول ۖ بیان کرتے ۔ ان سے جب اس سلسلے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا : میں احادیث رسول ۖ کی تعظیم کا بے حد خواہاں رہتا ہوں اور بغیر طہارت کے حدیث بیان نہیں کرنا چاہتا ۔ امام مالک راستے میں یاکھڑے ہو کر یا جلد بازی میں حدیث بیان کرنا نا پسند کرتے تھے اور فرماتے : '' میں رسول اکرم ۖ کی احادیث اچھی طرح سمجھ کر بیان کرنا چاہتا ہوں ''۔ وہ بوڑھے اور عمر رسید ہ ہونے کے باوجود مدینتہ الرسول میںسوار ہو کر نہیں چلتے تھے اور فرماتے تھے : '' میں اس شہر میں سواری پر نہیں چڑھ سکتا ، جس میں رسول اکرم ۖ کا جسد اطہر مد فون ہے ''۔

متعلقہ خبریں