Daily Mashriq

معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے ہم آہنگی ناگزیر ہے

معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے ہم آہنگی ناگزیر ہے

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دوسرے روز بھی جاری رہا اور انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر مزید کم ہونے کے بعد مارکیٹ میں800 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور یوں تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد اسٹاک مارکیٹ کو اس ہفتے کی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً2 روز کے دوران روپے کی قدر میں5 فیصد کمی ہوچکی ہے جس سے اقتصادی شعبے اور تاجربرادری میں خاصی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ای کیپ) کے مطابق مسلسل اُتار چڑھاؤ نے انٹربینک مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ایکسچینج ریٹ147.9 کی شرح پر مستحکم ہونے سے قبل149.25 تک پہنچ گیا تھا۔ کچھ بینکس کے مطابق انہوں نے 148.50 کے ریٹ پر کلوزنگ کی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ملک بھر کے ریٹس کی اوسط سے151 کی شرح پر بند ہوئی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی تکمیل اور اس کی تفصیلات کا سامنا ابھی باقی ہے، اس کی تفصیلات کا علم خود حکومتی وزراء کو نہیں تو اسمبلی میں اس پر بحث کی جب روایت ہی نہیں تو موجودہ حکومت سے اس کی کیا توقع کی جائے۔ فی الوقت کی جاری صورتحال اپنی جگہ لیکن کم ازکم آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات سے تو قوم کو آگاہ کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے میں تاخیر کے باعث بھی کرنسی مارکیٹ افواہوں کی زد میں رہا اور ڈالر مارکیٹ سے غائب ہوا۔ خریداروں کی موجودگی اور ڈالر کی ناپیدگی کے باعث ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا جو ایشیاء میں سب سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔ بہرحال قدرے تاخیر سے مشیر خزانہ کی سٹاک بروکرز سے ملاقات اور ان کے معروضات سننے اور ان کو اعتماد میں لینے کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگے گا۔ امکان ہے پیر کے روز تک صورتحال واضح ہوجائے گی۔ سٹیٹ بینک بھی پیر کے روز مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔ بہرحال مالیاتی مارکیٹس کو روپے کی قدر میں کمی کیساتھ ساتھ شرح سود میں اضافے کی تیاری کرنی چاہئے۔ خیال ہے کہ شرح سود کا اعلان رواں ماہ ہونا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اسٹیٹ بینک دس روز قبل ہی کر رہا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہوسکتا ہے جس کیلئے مارکیٹ اس طرح سے ہموار کی گئی کہ ہلچل کے اثرات بیل آؤٹ پیکج کے بعد زیادہ شدت سے ظاہر نہ ہوں، اس تناظر میں موجودہ صورتحال کو اگر پہلی قسط قرار دیا جائے اور آنے والے دنوں میں روپے کی قیمت میں مزید کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے خدشے کا اظہار کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مشیر خزانہ سے بروکرز کی ملاقات میں 2008ء کی طرح مارکیٹ سپورٹ فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی اس ضمن میں نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ میں بیس ارب روپے دیئے جانے کا امکان ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز پر ڈالر کی قیمت ایک سو اکتالیس روپے تھی جس میں یومیہ ایک سے دو روپے اضافہ ہوتے ہوتے اب ایک سو پچاس سے تجاوز کر گئی ہے، ڈالر کو قابو میں رکھنا سٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہوتی تھی مگر نئے معاہدے کے بعد سٹیٹ بینک اس میں مداخلت کا مجاز نہیں ہوگا جس سے ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ حکومت ڈالر کے تیس فیصد اضافے پر متفق ہوچکی ہے جس کی رو سے ڈالر بجٹ کے بعد مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔ شرح سود بھی بڑھے گی جس سے کاروباری سرگرمیوں پر مزید منفی اثر پڑے گا، تشویش کی بات یہ ہے کہ اتنی ساری مشکلات اور عوام پر بجلیاں گرانے کے اقدامات کے بعد کڑی سے کڑی شرائط پر ملک کو صرف چھ ارب ڈالر ملے جن کے ملتے ملتے ہمیں تین ارب ڈالر قرضوں کی مد میں لوٹانا بھی ہے۔ معاشی حالات جس حد تک جا چکے ہیں ان حالات سے واپسی کوئی آسان کام نہیں، معلوم نہیں آمدہ دنوں میں خدا نخواستہ ہمیں مزید کتنے مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں دونوں کو اس سنگین صورتحال کا ادراک کرلینا چاہئے اور اپنے اپنے سیاسی رویوں پر نظرثانی کر کے مل جل کر ملک کو اس صورتحال سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ دنیا میں کہیں بھی سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا حصول ممکن نہیں۔ پاکستان میں معاملات ٹھیک چل رہے تھے جیسے ہی سابق دورحکومت میں سیاسی معاملات اور حکومت ہٹانے کو ترجیح اول بنا دیا گیا اس کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر سٹاک مارکیٹ کی گرتی صورتحال، شرح نمو میں کمی در کمی، قرضوں کے بوجھ میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کمی آتی گئی جس کا نتیجہ آج ایک بڑے بحران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک میں ''میثاق معیشت'' کی تجویزکو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اگرچہ معروضی صورتحال میں اور جانبین کا لب ولہجہ دیکھ کر یہ ممکن نظر نہیں آتا لیکن ملک وقوم کیلئے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ جب تک حکومت اور ملکی سیاسی جماعتیں سیاسی ایجنڈا چھوڑ کر مشترکہ معاشی ایجنڈا نہیں اپناتے اور خلوص نیت کیساتھ عملی طور پر اس ضمن میں اقدامات تجویز کر کے اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی سعی نہیں کرتے اس صورتحال سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں