Daily Mashriq

لچکدار موقف کے بغیر مسئلہ حل ہونے والا نہیں

لچکدار موقف کے بغیر مسئلہ حل ہونے والا نہیں

خیبر پختونخوا کے ہڑتالی ڈاکٹروں نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اور جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے انہیں جیلوں میں ڈال دیا جائے۔ صوبائی حکومت نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے کا جو اقدام کیا ہے حکومت کے پاس اتنی طاقت ضرور ہوگی کہ وہ ایسا کر سکے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو کتنے ڈاکٹروں اور خاص طور پر مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی حمایت حاصل ہے کہ وہ سینکڑوں ہڑتالی ڈاکٹروں کو نظرانداز کر کے ہسپتالوں کا انتظام چلاسکے گی اور مریضوں کی تشخیص اور علاج بخوبی ہوسکے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں حکومت کو کامیابی نہیں مل سکتی اور بالآخر احتجاجی ڈاکٹروں سے گفت وشنید ہی کرنی پڑے گی۔ اس ضمن میں حکومت کی سختی اپنی جگہ پولیس کی جانب سے ڈاکٹروں کی درخواست پر ایف آئی آر کے اندراج سے انکار اور تھانے کے اندر لڑائی کا واقعہ خاص طور پر منفی تاثرات کا باعث ہے۔ ڈاکٹروں کے اس اعتراض کا دلیل کیساتھ جواب ممکن نہیں کہ پولیس انڈا مارنے والوں کیخلاف تو مقدمہ درج کر رہی ہے مگر سینئر ڈاکٹرکو لہولہان کرنے والے عناصر کیخلاف مقدمہ درج کرنے سے گریزاں ہے۔ دریں اثناء صوبائی وزیر صحت کی ٹانگ پر پلستر چڑھی تصویر بھی سامنے آئی ہے صورتحال جو بھی تھی ہر دو فریق کا ایف آئی آر درج کرنے کا حق سلب نہیں ہونا چاہئے اور عدالت سے رجوع کر کے ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات کے حصول کی نوبت نہیں آنی چاہئے۔ حکومت کو اس مسئلے کو اتنا آسان نہیں گرداننا چاہئے کہ وہ انتظامی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے معاملہ نمٹا سکے گی۔ اس مسئلے کا بالآخر حل مذاکرات اور موقف میں نرمی ولچک لا کر ہی نکلے گا۔ ماضی میں بھی اسی طرح ہوتا رہا ہے اور اب بھی اس کا اختتام ماضی کی طرز پر ہی ہوگا۔

محکمہ تعلیم میں ای ٹرانسفر پالیسی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے محکمۂ تعلیم کی ای ٹرانسفر پالیسی کی باقاعدہ منظوری دیدی۔ مشیر تعلیم کے مطابق محکمۂ تعلیم سال میں صرف ایک مرتبہ خالی پوسٹوں پر تبادلوں کیلئے درخواستیں طلب کرے گی۔ صوبہ پنجاب کیساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں محکمہ تعلیم میں تبادلوں کیلئے ای نظام کا متعارف کرانا اس لئے بھی خوش آئند اقدام ہے کہ صوبے کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا بڑا وقت سرکاری دفاتر میں من پسند جگہوں پر تبادلہ کرانے میں گزرتا رہا ہے اس کی روک تھام نئے نظام کے بعد بھی پوری طرح ممکن نہیں البتہ ان کو دفاتر کا بار بار چکر لگانے اور فائل نکلوانے کی زحمت سے نجات مل جائے گی۔ اس سے بدعنوانی اور خلاف میرٹ تبادلوں کی بھی کسی حد تک روک تھام ہوسکے گی۔ امر واقع یہ ہے کہ آن لائن سسٹم دفتری شعبے میں شامل ہو جانے سے دنیا بھر میں جہاں کام کی روانی میں اضافہ ہوا ہے اس سے بڑھ کر بدعنوانی اور دوسری قباحتوں کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں جہاں گزشتہ70سال سے دفتری امور میں سب سے زیادہ سیاسی مداخلت، اقربا پروری، رشوت اور بدعنوانی غالب رہی بالخصوص خط وکتابت، ڈاک کی ترسیل میں تاخیر ای سسٹم کے نفاذ سے ختم کرنے میں مدد ملی ہے گوکہ بیشتر شعبوں میں ابھی یہ جزوی طور پر لاگو ہے اسے مکمل طور پر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سسٹم کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اساتذہ اپنے کام کے سلسلے میں جو کرائے خرچ کر کے افسران تک پہنچنے کیلئے میلوں کا سفر طے کرتے ہیں اور اکثر ناکام واپس آتے ہیں کسی بھی مسئلہ کی صورت میں ہیلپ لائن پر اپنا مدعا بیان کر سکیں گے۔ وقت کیساتھ ساتھ سامنے آنے والی خامیوں اور مشکلات کو دور کرکے اسے مزید سہل اور بہتر بنانے کی گنجائش محسوس ہو تو تبدیلی لانا پہلے کی طرح جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں بلکہ آسان ہوگا۔

کھلونا بندوقوں کی کھلے عام فروخت

ہمارے نمائندے کے مطابق ماہ صیام کے پہلے عشرے کے اختتام کیساتھ ہی پشاور اور گرد ونواح میں ایک بار پھر کھلونا بندوقوں کی فروخت شروع ہو گئی ہے۔ بچوں کیلئے نت نئے ڈیزائنز کی بندوقیں، پستولیں اور دیگر اسلحہ کے کھلونے مارکیٹ میں آگئے ہیں۔ مختلف قسم کے کھلونا بندوق اور کھلونا پستول کی فروخت پر انتظامیہ اس وقت قدغن لگانے کی زحمت کرتی ہے جب مال بک چکا ہوتا ہے، یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہرسال اسی طرح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاجر دھڑلے سے مال خریدتے ہیں اور دکاندار کھلے عام اسے فروخت کرتے ہیں۔ اصولی طور پر تو ان پر سال بھر پابندی ہونی چاہئے اور اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے تاہم عید کی آمد پر اس کی ضرورت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پورا شہر کھلونا بندوقوں سے بھر جاتا ہے اور اس کی خریداری عروج پر ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں