Daily Mashriq


قومی اتحاد کی تحریک اور جواب دعویٰ

قومی اتحاد کی تحریک اور جواب دعویٰ

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا معاملہ بھی دستیاب مسلم تاریخ جیسا ہے۔ بڑے سے بڑا پھنے خان اور جمہوریت پسند یا بچہ جمہورا تاریخ کی درستگی کے نام پر اپنے ہم خیال طبقے کو ہیرو اور باقیوں کو ولن بنا کر پیش کرتا ہے۔ تاریخ نویسی بذات خود ایک علم ہے، اہل صحافت جنہوں نے گزرے ماہ وسال کھلی آنکھوں سے دیکھے بھگتے ہوں ان سے بہتر نئی نسل کو گزرے ماہ وسال کی کہانی کون بتا سکتا ہے۔ مگر افسرس کہ ہمارے دوست (اہل صحافت) جب کسی تاریخی واقعہ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں تو زمینی حقائق کی جگہ فکری غذا اور اخبارات (وہ بھی جو پسند ہوں) کی سرخیوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایاز امیر ان دنوں کوچۂ صحافت کا معتبر نام ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف امریکی اشیرباد سے چلنے والی پی این اے کی تحریک کے زمانہ میں سوویت یونین میں پاکستانی سفارتخانہ میں سیکنڈ سیکرٹری تھے۔ انہوں نے ان ماہ وسال کی یادیں تازہ کرتے ہوئے پچھلے دنوں ایک کالم تحریر فرمایا۔ ''جب انقلاب کا بھوت سوار تھا''۔ ایاز لکھتے ہیں کہ قومی اتحاد کی تحریک کو ہم نے انقلاب کی نوید جانا اور مستعفی ہو کر ماسکو سے لندن روانہ ہوگئے۔ اپنی فہم اور آنکھوں دیکھے معاملات کے حوالے سے انہوں نے اس کالم میں جو لکھا اس پر رکعت پسندوں کا غصہ سمجھ میں آتا ہے۔ قومی اتحاد کی تحریک 1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف تھی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی پر پی این اے نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ ان دنوں دونوں ایوانوں کیلئے چناؤ ایک ہی دن نہیں بلکہ الگ الگ دن ہوتا تھا۔ جناب نواز شریف نے بھی 1988ء میں اسی کا فادہ اُٹھا کر جاگ پنجاب جاگ کا نعرہ لگایا تھا۔ ایاز امیر کے جواب میں جماعت اسلامی اور نون لیگ سے فکری' نسبتی اور روزگاری تعلق رکھنے والے ایک دوست نے اپنے کالم میں1977ء کے انتخابات' پی این اے کی تحریک اور پھر مارشل لاء کی تشریف آوری تک جستہ جستہ یادیں تازہ کیں مگر ان یادوں میں وہ ڈنڈی مار گئے۔پی این اے کی تحریک کے دوران لاہور میں بریگیڈئیر نیاز سمیت دو اور بریگیڈیئروں نے استعفیٰ دیا تھا۔ ان تینوں کا موقف تھا کہ وہ نہتے عوام پر گولی نہیں چلا سکتے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ قومی اتحاد کی تحریک اور بریگیڈئیرز کے عہدوں والے افسروں کا استعفیٰ منصوبے کا حصے تھے۔ انتخابی شکایات کسی حد تک نہیں بہت حد تک درست تھیں لیکن جب مذاکرات ہوئے تو 32قومی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرنے کیساتھ صوبائی اسمبلیوں کے نئے انتخابات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ یہ بہت بعد کی بات ہے اس سے قبل جب ڈیوس روڈ لاہور پر یو ڈی ایف کو پی این اے میں تبدیل کیا جا رہا تھا تو اس اجلاس سے قبل امریکہ' برطانیہ اور آسٹریلیا کے سفارتکاروں نے مولانا مفتی محمود' ہاشم غلزئی اور پی این اے کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ یہی وہ ملاقات تھی جس کی بنیاد پر عوام دوست حلقے پی این اے کی تحریک کے دوران یہ موقف اپنائے ہوئے تھے کہ قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفی کیلئے نہیں امریکی سامراج کے منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے ہے۔ ہمارے بھٹو مخالف دوست ہوں یا بھٹو نواز دونوں 1970ء کی دہائی کے ماہ وسال بارے لکھتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ کیا ممتاز دولتانہ کو جبری طور پر برطانیہ میں ہائی کمشنر بنایاگیا؟ معاف کیجئے گا انہوں نے بھٹو سے ملاقات میں خود اس امر کی دعوت قبول کی کہ وہ اپنے سیاسی تجربے اور تعلقات کو پاکستان اور برطانیہ کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ میاں مختار احمد خان دولتانہ نے بحیثیت ہائی کمشنر پاکستان کا موقف بالخصوص بنگلہ دیش کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کے جواب میں بہتر طور پر پیش کیا۔ اسی طرح بھٹو دور کی پولیس میں شامل لیڈی پولیس کے دستے کو رجعت پسند ہمیشہ سے نتھ فورس کہتے لکھتے آرہے ہیں۔ ''نتھ فورس'' لاہور کے بازار حسن کی ایک خاص اصطلاع ہے۔ 9اپریل1977ء کو لاہور میں نومنتخب پنجاب اسمبلی کی تقریب حلف برداری کے موقع پر پی این اے نے احتجاج کا ڈول ڈالا۔ اسی دن خواتین کے جلوس کو روکنے کیلئے لیڈی پولیس استعمال کی گئی۔ پی این اے والوں کے بزرگوں نے دعویٰ کیا حکومت لیڈی پولیس کی وردیوں میں بازار حسن سے تعلق رکھنے والی خواتین کو لائی۔ دوسرا الزام یہ لگا کہ نیلا گنبد سے اسمبلی ہال کے درمیان 9اپریل کو پولیس فائرنگ سے 30افراد جاں بحق ہوئے' جنرل ضیاء نے اقتدار پر قبضہ کیا پنجاب پولیس کے ایک افسر قیوم نام تھا ان کا بعد ازاں شاہی قلعہ لاہور کے انچارج بھی رہے نے دونوں معاملات کی تحقیقات کی، لیڈی پولیس میں عارضی بھرتی یا دوسری جعلسازی ثابت نہ ہوئی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر 9اپریل کو لاہور میں 30افراد جاں بحق ہوئے تھے تو 10اپریل کو جنازے صرف 5کے کیوں اُٹھائے گئے باقی کے 25مرحومین کہاں گئے؟ یہ درست ہے کہ بھٹو کا تختہ الٹا گیا تو قومی اتحاد نے حلوے کی دیگیں تقسیم کیں لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مولانا مودودی فوت ہوئے تو انکے مخالفین نے بھی مختلف شہروں میں مٹھائیاں تقسیم کیں، بھٹو بہت غیرمقبول تھے تو 8اگست 1977ء کو جبکہ ملک میں مارشل لاء بھی تھا کیوں سارا لاہور بھٹو کے نعروں سے گونج رہا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو مخالف تحریک کے اصل میں چار اتحادی تھے' امریکہ' پاکستانی جنرنیل' پی این اے اور بی بی سی لندن۔ لیکن جونہی بھٹو دوبارہ عوام کے درمیان آئے ان چاروں کو اپنی اوقات سمجھ میں آگئی، اس کے بعد جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ قومی اتحاد کے تحریک کو تحریک نظام مصطفیۖ کا نام محض اسلئے دیا گیا کہ لوگوں کے جذبات ابھارے جاسکیں حالانکہ پی این اے کے 32نکات میں نظام مصطفیۖ شامل ہی نہیں تھا۔ قومی اتحاد کی تحریک نے پاکستان میں مارشل لاء لگوا کر آقاؤں کا حق نمک ادا کیا، فوجی حکومت نے بعد ازاں پاکستان کو امریکہ کیلئے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا یہ کیوں اور کس لئے ہوا لمبی داستان ہے کالم کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں