Daily Mashriq

جب ہم خوشحال تھے

جب ہم خوشحال تھے

آزادی حاصل کرنے کے بعد تمام تر بے سر وسامانی اور نامساعد حالات کے باوجود پاکستان نے نہ صرف اپنا پہلا بجٹ خسارہ کے بجائے سرپلس پیش کیا بلکہ لگاتار1947 سے1958 تک تمام بجٹ سرپلس پیش کئے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ان دس برسوں میں ایک بار بھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا تھا۔ اسی زمانے میں عالمی کساد بازاری کے دباؤ کی وجہ سے بھارت نے اپنی کرنسی ڈی ویلیو کر دی تھی مگر پاکستان نے کوئی عالمی دباؤ قبول نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستانی کرنسی بھارت کے مقابلے میں مستحکم رہی اور عالمی منڈی میں پاکستان کو اس کا فائدہ ہوا تھا۔ بھارت نے پاکستان کو تقسیم کے فارمولے کے طے شدہ معاہدے کے مطابق پاکستان کے حصے کی پوری رقم دی اور نہ ہی دفاعی ساز وسامان دیا۔ اس کے باوجود اس وقت کی پاکستانی حکومت دفاعی ضروریات سے غافل نہ رہی' محدود وسائل میں جو کچھ ممکن تھا وہ کیا گیا۔ پاکستان کے برعکس بھارت کو جما جمایا پورا انتظامی ڈھانچہ مل گیا تھا اور تجربہ کار انتظامی مشینری بھی مگر پاکستان کے پاس تو ضرورت کے مطابق سرکاری عمارتیں تک نہ تھیں۔ ہم سے پہلے والی نسل نے سرکاری ملازمین کو درختوں کے نیچے لکڑی کی پیٹیوں کو میز کرسی بنا کر کام کرتے دیکھا ہے۔ ہماری نسل نے سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ پر اور درختوں کے نیچے تعلیم حاصل کی ہے۔ پاکستان بنا تو پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے صرف تین بینک تھے، ان کے قیام کو بھی کوئی طویل عرصہ نہیں ہوا تھا جبکہ ہندوؤں کے بینکوں کی تعداد درجنوں میں تھی اور وہ مسلمانوں کے بینکوں کے مقابلے میں قدیم بھی تھے اور مستحکم بھی تھے۔

حبیب بینک لمیٹڈ اور مسلم کمرشل بینک لمیٹڈ کے ہیڈآفس بمبئی میں تھے جو بعد میں پاکستان منتقل ہوئے جبکہ آسٹریلیشیا بینک لمیٹڈ کا ہیڈآفس لاہور میں تھا جو 1942 میں ایک موٹر گیراج میں چنیوٹ کی شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے قائم کیا تھا تاہم بعد میں وہ مستحکم بینک بنا۔ بھٹو مرحوم کی حکومت نے بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا تو کئی دوسرے بینکوں کو اس میں ضم کرکے اس کا نام الائیڈ بینک رکھ دیا گیا۔ معروف اور ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی (مرحوم) برسوں اس کے سربراہ رہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے یہاں13بینکوں کے ہیڈآفس تھے جن میں ایک مسلمانوں کا اور بارہ ہندوؤں کے تھے۔ ہندوؤں کے بارہ کے بارہ بینکوں کے ہیڈآفس پاکستان سے بھارت منتقل ہو گئے تھے۔ اس طرح پاکستان میں صرف تین بینک رہ گئے تھے وہ بھی یہاںسے منتقل ہونے والے بینکوں کے مقابلے میں بڑے بینک نہ تھے مگر پاکستان نے ان تین بینکوں کے ذریعے ہی کام چلایا اور محدود وسائل کے باوجود ایک سال کے اندر اپنا اسٹیٹ بینک بھی قائم کر لیا جس کا افتتاح قائداعظم نے1948ء میں اپنے دست مبارک سے کیا تھا اور دوسال کے اندر سرکاری شعبے میں قومی بینک (نیشنل بینک آف پاکستان لمیٹڈ) بھی کھڑا کر دیا تھا۔

ولیکا ٹیکسٹائل ملز کا سنگ بنیاد تو قائداعظم نے خود رکھا تھا تاہم1947 سے1958 تک پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود صنعتی شعبے میں بھی پیش قدمی جاری رکھی۔1950میں بننے والے پہلے پنچ سالہ منصوبے میں سرکاری شعبے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ''پی آئی ڈی سی'' بنایا گیا تھا جس نے ان شعبوں میں صنعتیں لگا کر بعد میں نجی سیکٹر کے حوالے کیں، جن شعبوں میں نجی سرمایہ کار سرمایہ کاری کا رسک لینے پر آمادہ نہیں تھے۔ ''پی آئی ڈی سی'' نے صنعتی شعبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پی آئی ڈی سی نے سرکاری شعبے میںکوئی ایک صنعت بھی ایسی نہیں لگائی جو نفع بخش نہ رہی ہو اور وہ نجی سیکٹر کے حوالے نفع میں نہ کی گئی ہو۔کراچی میں سرکاری ملازمین کیلئے پی ای سی ایچ ایس جبکہ عام شہریوں کیلئے ناظم آباد' نارتھ ناظم آباد' کورنگی' نیو کراچی کی آبادیاں اسی منصوبے کا حصہ تھیں۔ نارتھ ناظم آباد کی کشادہ سڑکیں اور وہاں تعلیم' اسپتال اور بچوں کے کھیلنے کے وسیع وعریض میدان اور پارک گواہی دے رہے ہیں کہ پہلے پنچ سالہ منصوبے کے مطابق اگر بعد میں بننے والے ترقیاتی منصوبوں میں بھی اسی اسپرٹ کو قائم رکھا جاتا تو پاکستان کا کوئی شہر آج بنیادی سہولیات کی فراہمی سے محروم نہ رہتا۔پاکستان نے جس قیادت سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اس نے ذاتی طور پر بھی پاکستان کیلئے ایثار وقربانی کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کی۔ (شہید ملت) خان لیاقت علی خان نے دہلی میں پاکستان کا سفارت خانہ قائم کرنے کیلئے اپنا شاندار گھر پاکستان کو دیدیا تھا۔ کیا ملک کے پہلے وزیراعظم (شہید ملت) خان لیاقت علی خان' وزیراعظم خواجہ ناظم الدین' وزیراعظم محمد علی بوگرہ' وزیراعظم چودھری محمد علی' وزیراعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر' وزیراعظم حسین شہید سہروردی' وزیراعظم فیروز خان نون کے دامن پر بدعنوانی اور قومی وسائل کی لوٹ مار کا کوئی الزام تلاش کیا جاسکتا ہے؟1947ء سے1958 تک اقتدار میں رہنے والے کسی ایک پر بھی کسی دشمن نے بھی قومی خزانے اور قومی وسائل کی بندر بانٹ میں ملوث ہونے کا کوئی الزام نہیں لگایا جبکہ1958کے بعد پاکستان کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی جن کا دامن صاف نہیں تھا، ہمارے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ پاکستان کے ابتدائی دس سال اگر غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بغیر اور خسارے کے بجٹ کے بغیر گزر سکتے ہیں تو آج کیوں نہیں؟۔

متعلقہ خبریں