Daily Mashriq


پائیدار قدرتی نظامِ کاشت

پائیدار قدرتی نظامِ کاشت

میں ایک کاشتکار کا بیٹا ہوں لیکن شہر میں بود وباش کی وجہ سے فنِ کاشتکاری سے بالکل نابلد ہوں۔ ایگری کلچر کے متعلق جہاں بات ہو رہی ہو وہاں مجھے لگتا ہے کہ میں اس محفل میں اجنبی ہوں۔ پاکستان کے مایہ ناز زرعی ماہر آصف شریف نے گزشتہ دنوں اپنی جدید اور منفرد انداز کاشتکاری کے بارے میں تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤںکو بریفنگ دی تو اپنی کم مائیگی کا زیادہ احساس ہوا، انٹرنیٹ کی مدد سے اور پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے ذریعے مختلف فصلوں کی کاشت کے طریقے اور دیگر تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔ روایتی طریقہ کاشت کاری جان لینے کے بعد احساس ہوا کہ محترم آصف شریف نے کاشت کاری کے جس طریقے کو اپنانے کی بات کی ہے وہ روایتی انداز کاشت کاری سے یکسر مختلف ہے۔ یعنی یہ بات کرنا کہ فصل کی تیاری بغیر ہل چلائے ممکن ہے اپنی جگہ نہایت عجیب اور ناقابلِ فہم لگتی ہے مگرآصف شریف صاحب اُس کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ آج پاکستان میں ہزاروں ایکڑز مین پر وہ اپنی ''پائیدار قدرتی نظام کاشت'' کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ اس قدرتی نظام کاشت کے حوالے سے آصف شریف کے دلائل بڑے زبردست ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کائنات کا سب سے بڑا کاشتکار ہے کیا اُس نے کبھی ان کروڑوں ایکڑ زمین پر ہل چلایا ہے جہاں لہلہاتے سرسبز جنگل آباد ہیں۔ قدرتی نظام کاشت کا آئیڈیا بھی ان کے ذہن میں ایمازون کے جنگلوںکو دیکھ کر آیا۔ زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور اسے بڑھاوا دینے کا انحصار آصف شریف کے نزدیک دو باتوں میں ہے۔ اول زمین میں ہل نہ چلایا جائے کیونکہ اس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور زمین میں موجود وہ جاندار مر جاتے ہیں جو زیادہ آکسیجن کی موجودگی برداشت نہیںکر پاتے۔ سائنس کی زبان میں ایسے اجسام کو ''ANAEROBIC'' کہا جاتا ہے۔دوم فصل کو اندھادھند پانی نہ دیا جائے' اس سے جہاں زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے وہیں پودے کو غیر ضروری یااضافی پانی ملنے سے پودا نسبتاً کمزور ہو جاتا ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

اصول یہ ہے کہ پانی کو جڑ کی طرف نہیں بلکہ جڑ کو پانی کی طرف جانا چاہئے۔ اس نظام کاشت کی افادیت کو جان لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر پاکستان کی 50فیصد زمینیں بھی اس قدرتی نظام کاشت کے مطابق ڈھال دی جائیں تو پاکستان میں زرعی انقلاب آسکتا ہے اور زرعی اجناس کی برآمدات سے کثیر زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ حکومتی ترجیحات میں اگرچہ زراعت کا شعبہ سرفہرست ہے لیکن توجہ روایتی کاشت کاری پر ہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روایت سے ہٹ کر سوچا جائے اور ہر اس پہلو پر کام کیا جائے جو زراعت کے شعبے میں ترقی کا باعث بن سکے۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ارشد داد اس لحاظ سے کافی کوشاں ہیں چنانچہ ان کی درخواست پر سپیکر نیشنل اسمبلی اسد قیصر نے بدھ کے دن پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں آصف شریف کے زرعی ماڈل پر بریفنگ کا انتظام کیا جس میں پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کے علاوہ زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے بھی شرکت کی۔ فخر امام نے خاص طور پر قدرتی نظام کاشت کے ماڈل کو سراہا اور تجویز پیش کی کہ پارلیمانی رہنماؤں کا وفد اور وائس چانسلرز اُن زرعی فارمز کا دورہ کریں۔ وائس چانسلرز اور آصف شریف کے درمیان بحث کے دوران جو دلائل سامنے آئے اُن سے حاضرین کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ پاکستان کے مخصوص درجہ حرارت میں بھی قدرتی نظام کاشت ایک قابلِ عمل منصوبہ ہے۔ آصف شریف کیساتھ آئے ہوئے ایک کاشتکار رشید ڈوگر نے پوٹھوہار کی سرزمین چکوال میں واقع اپنے فارمز کے حوالے سے اپنا کامیاب تجربہ بیان کیا جبکہ ارشد داد نے ''سکھیکی'' فارمز کے بارے میں اپنا مشاہدہ حاضرین کے سامنے رکھا جس کو سب نے بہت سراہا۔ اس وقت اندرون ملک وبیرون ملک بہت سے کا شتکار آصف شریف کے زرعی ماڈل کی پیروی کر رہے ہیں لیکن جب تک حکومتی سرپرستی میں مربوط کوششیں نہیںہوتیں پاکستان میں پائیدار قدرتی نظام کاشت کے ماڈل سے عام کسان مستفید نہیں ہو پائے گا۔ چھوٹے کسانوںکو اس زرعی ماڈل کے مطابق اپنی زمینوںکو ڈھالنے کیلئے پہلے مرحلے میں پچاس سے ساٹھ ہزار روپے فی ایکڑ کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں اس طریقۂ کاشت میں استعمال ہونے والی مشینری کی دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کو حل کرنے میں حکومت مددگار ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں میری تجویز ہے کہ صوبائی سطح پر پائیدار قدرتی نظام کاشت کی پبلک سیکٹر کمپنی بنا دی جائے جو ہر ضلع میںکاشتکاروں کی معاونت کا فریضہ انجام دے اور انہیں مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے کا ذریعہ بنے۔ حکومت چاہے تو آصف شریف سے اس بابت تجاویز لے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں