Daily Mashriq


اپنا اپنا بوجھ

اپنا اپنا بوجھ

گزرے ہوئے دن کتنے اچھے ہوتے ہیں یہ آپ کو دکھ نہیں دیتے، تنگ نہیں کرتے، کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچاتے اسی لئے ان کی یادوں سے سینہ ایک طرح کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہے۔ اگر گزرے دنوں میں دکھ کا عنصر زیادہ ہو تو تب بھی ایک طرح کی طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ چلو جو وقت اپنے اندر انگارے رکھتا تھا جس کی آنچ سے سینہ آتش سوزاں تھا اب وہ نہیں رہا اور اگر گزرا ہوا وقت اچھا ہو، اپنے اندر پیاری اور سنہری یادیں لئے ہوئے ہو تو تب بھی ان یادوں میں ڈوب کر ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی، وہ جب پیچھے مڑ کر اپنے گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں تو انہیں ہر طرف خوشبودار پھول ہی کھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہمیں راہ چلتے ہوئے اپنے اردگرد ہزاروں لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، ان میں سے ہر شخص ایک کہانی ہے، آج آپ کو ایسی ہی ایک کہانی سنانی ہے، یہ ایک استاد کی سرگزشت ہے جس نے اپنی زندگی کے شب وروز کو بڑی سادگی اور سچائی کیساتھ بیان کردیا ہے۔ اس سادگی اور سچائی نے ہی اس کی تحریر کو وقعت بخشی ہے۔ ایک استاد جس کا یہ ماننا ہے کہ مدرس بھی ایک پیشہ ور ہے اور تدریس بھی ایک پیشہ ہے جیسے کہ ڈاکٹر، وکیل اور انجینئر ہیں۔ استاد کو خواہ کتنے ہی اچھے اچھے خطابات دئیے جائیں مگر بہرحال کھانے کو تو اسے ضرور چاہئے! گائے چاہے کتنی ہی سودمند ہے کتنی اچھی ہے چارہ تو وہ بھی کھاتی ہے، ایک حقیقت جو روز روشن کی طرح عیاں ہے وہ غریبی اور ناانصافی کے بوجھ ہیں۔ ایک بوجھ منافقت کا بھی ہے مگر جہالت کا بوجھ ان سب پر بھاری ہے، استاد کے پیشہ ورانہ فرائض میں انسان پر رکھے ہوئے اس بوجھ کو کم کرنا ہے، معاشرے نے اسے ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپی ہے اور اسے ایک عظیم مقصد کو سرانجام دینا ہے! یہ 135صفحات کی ایک چھوٹی سی کتاب ہے جس کا نام ہے ''اپنا اپنا بوجھ'' شعیب خان اس میں اپنے ناتواں کاندھوں پر زندگی کے بہت سارے بوجھ اُٹھاتے نظر آتے ہیں، دو کمروں کا ایک چھوٹا سا کرائے کا مکان ہے جس کی حالت ناگفتہ بہ ہے، پلستر اکھڑے ہوئے ہیں، غالب کے گھر کی طرح لمحہ بھر بارش ہو تو گھنٹہ بھر چھت برستی ہے جس کرائے کے کوارٹر میں ہم رہتے تھے وہ بڑی عجلت میں بنا تھا، دیواروں پر پلستر نہیں کیا گیا تھا، کمروں کی دیواروں میں لگی ہوئی الماریاں مکمل نہ تھیں، دیواریں ضرورت سے زیادہ بلندی تک اٹھی ہوئی تھیں جن کے اندر ہم گھرے ہوئے تھے، دو کمرے تھے ایک باورچی خانہ اور باتھ، حاسد کے دل سے بھی تنگ۔ صحن میں بمشکل دو چارپائیوں کی جگہ تھی لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کی زوجہ محترمہ کہتیں شعیب خان: ہم تنہا نہیں ہیں ایک دنیا کو ان تلخ حالات کا سامنا ہے اور جب تک خودغرضی اور پیسہ بٹورنے کی بیماری موجود ہے انسان دکھی رہے گا۔ یہ بلیات تو انسان کی روحانی بیماریوں کے سامنے ہیچ ہیں! لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ ہر روز سکول ایک نئے جذبے اور پڑھانے کی امنگ کیساتھ سکول جاتے ہیں، انہوں نے بڑی خوبصورتی کیساتھ سکولوں کے اندر موجود سازشوں کا ذکر کیا ہے، استادوں کی اقسام پر بات کی ہے جو استاد کلاس اور تختہ سیاہ سے دور بھاگتا ہے وہ اسے استاد تسلیم ہی نہیں کرتے، اس کیلئے وہ مصروف استاد کی ترکیب استعمال کرتے ہیں جو ہروقت رجسٹر اٹھائے سکول میں مختلف کاموں کے پیچھے دوڑتا بھاگتا نظر آتا ہے لیکن اپنی بنیادی ڈیوٹی ٹیچنگ سے دور بھاگتا ہے۔ انہیں اپنے شاگردوں سے پیار ہے، وہ کلاس میں پہنچتے ہی اپنے سارے دکھ درد بھول جاتے ہیں، بچوں کو محنت سے پڑھاتے ہیں، ان کی شرارتوں سے آزردہ خاطر نہیں ہوتے! اس کتاب میں ہم سب کیلئے بالعموم اور اساتذہ کرام کیلئے بالخصوص ایک پیغام ہے کہ مطالعہ مطالعہ اور بس مطالعہ! وہ اپنی بیروزگاری کے دنوں کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بیروزگاری اور دکھ کی اس گھڑی میں برٹش کونسل کی لائبریری نے مجھے پناہ دی، میں نہایت آرام دہ صوفے پر بیٹھ کر اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتا رہتا ایک سکول کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک ایک کلاس کے چار چار پانچ پانچ سیکشن تھے یہاں کا ایک استاد طلبہ کے سامنے مسلسل سگریٹ پیتا رہتا۔ وہ ریلوے کی ملازمت چھوڑ کر سکول آیا تھا، ایک استاد صاحب سکول کے بعد ٹیکسی چلاتے تھے ایک استاد جو صرف سکول کے چکر کاٹتے سارا دن پان چباتے اور تھوکتے، ایک استاد صاحب جو بڑی بے تابی سے اخبارات کے آنے کا انتظار کرتے! کتاب پڑھتے ہوئے آپ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی درس وتدریس کے گرد گھومتی نظرآتی ہے، انہیں پڑھانے سے عشق ہے، وہ اپنے شاگردوں کا نام لیکر ان کا ذکر کرتے ہیں، اپنے سینئر اساتذہ کرام سے درس وتدریس کے اسرار ورموز سیکھنے کی کوششوں میں مگن نظر آتے ہیں، ایک استاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں اپنے مضمون نفسیات پر مکمل عبور حاصل تھا، اللہ پاک نے انہیں ابلاغ کی تمام خوبیاں عطا کی تھیں۔ انہیں درس وتدریس سے خاص لگاؤ تھا، عجز وانکساری ان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اپنے طلباء کیساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے، سمجھانے کا طریقہ سادہ سلیس اور دلنشیں تھا، روزمرہ زندگی سے مثالیں دیتے آخر کتاب اور طلباء کے درمیان استاد کی شخصیت ہی تو پل کا کام دیتی ہے! یہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی کہانی پڑھ رہا ہے اور سب کو اپنا اپنا بوجھ خود ہی اُٹھانا ہوتا ہے!

متعلقہ خبریں