Daily Mashriq


ترک صدر کا کامیاب دورہ

ترک صدر کا کامیاب دورہ

جوبات امت مسلمہ کہنا چاہنے کے باوجود کہہ نہیں پا رہی تھی تھا ترک صدر طیب اردوان نے اسلا م آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وہ حقیقت جراتمندی سے بیان کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیچ بو ئے جا رہے ہیں داعش اور القاعدہ اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ دہشت گردوں سے ملنے والے اسلحے کے تانے بانے مغربی ملکو ں سے مل رہے ہیں ۔ طیب اردواغان نے 15 جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی ناکام کوشش پر پاکستانی عوام کے ردعمل کو سراہا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ترکی کا بہترین دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کا نقطہ نظر ایک ہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر پاکستان کو ہر طرح کی امداد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاسی، معاشی اور عسکری تعاون میں بہتری آرہی ہے اور ترکی 2017 سے پہلے پاکستان کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کر لے گا۔انہوں نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون میں بہتری آئے جبکہ پاکستان افغانستان اور ترکی سہ فریقی معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔ترک صدر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ 70 سال سے حل طلب ہے۔کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس مسئلے کے حل کی اہمیت اور فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان اور انڈیا کشمیر عوام کے مطالبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کا حل براہ راست مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔ترکی کے صدر طیب اردوان کی آمد پر نہ صرف تجارت معیشت اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط سڑیٹجک پارٹنر شپ کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تاہم اس کی زیادہ تشہیر دیکھنے میں نہیں آئی ۔ترک صدر کے وفد کے ساتھ آنے والے ترک مسلح افواج کے اعلیٰ حکام کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور اپنے ہم منصبوں سے ان کی ملاقاتیں بھی خاص طور پر اہم تھیں ترکی نے پاکستان سے جے ایف سیونٹین تھنڈر طیاروں کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ گو کہ دونوں ممالک کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات پہلے بھی تھے لیکن ترکی میں طیب اردوان کی حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران پاکستان کی مدد اور خاص طور پر پاکستان کے عوام کی ان کی حکومت کی بھر پور حمایت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔ ترکی کے صدر نے مغرب کو دہشتگردوں کا مدد گار قرار دے کر اور دہشت گردوں کی مالی امداد اور ان سے ملنے والے اسلحہ کے تانے بانے کو یورپ سے ملنے کے حوالے سے جو اظہار خیال کیا اور ترکی میں بغاوت کرنے والے عناصر کے علاوہ داعش اور القاعدہ کے حوالے سے بھی انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا اس پر مغرب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر مسلمانوں ہی کا نام لیکر مسلم ممالک کو تباہ کرنے کی جو سازش طشت از بام ہو چکی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور نہ ہی اس کو سمجھنا مشکل ہے مگر اس کے باوجود مشکل امر یہ ہے کہ امت مسلمہ ہی کے ممبر ممالک بجائے اس کے کہ مسلم قوتوں اور اسلامی ممالک کی تنظیم کے پلیٹ فارم سے باہمی مشاورت کے ذریعے اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر ریں مغرب کی قیادت اور غیر مسلم قوتوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ امت مسلمہ نے درس کہ یہود و کفار کبھی مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ پس پشت ڈال دیا ہے ۔ ترکی کے صدر کی جانب سے اس قرآنی ہدایت کو یاد لانے کے بعد مسلم ممالک اگر ہوش کے ناخن لیں اور اپنے معاملات کو آپ سنوارنے اور باہم تعاون و اتحاد کا راستہ اپنائیں تو نہ صرف مسلم ممالک میں جاری خلفشا ر اور انتشار کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا بلکہ دہشت گردی کی لہر کے خاتمے سے یورپی ممالک مغرب اور غیر مسلم ممالک بھی امن کے اثرات سے مستفید ہوں گے اور دہشت گردی سے چھٹکارا ملے گا ۔ امت مسلمہ کو ایک ایسا واضح لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے کہ ان کا اتحاد دنیا کے کسی بھی ممالک کے لئے کوئی چیلنج نہ ہو۔ البتہ ان کو اپنے معاملات حل کرنے کیلئے دوسروں کی طرف دیکھنا نہ پڑے۔ ترکی کے صدر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت اور پاکستان کے مئوقف کی تائید کا اعلان کر کے خطے میں کشید گی پیدا کرنے والے حالات میں اپنے کردار وحمایت کا عندیہ دیا ہے جو پاکستان کیلئے لمحہ اطمینان ہے ۔ پاکستان ترکی اور افغانستان کے درمیان باہم روابط اور سہ فریقی معاہدے پر عملدرآمد میں بھی ترکی کا کردار اہم ہے اور ترکی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرکے تعلقات میں بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں