Daily Mashriq

ایک روشن چراغ تھا نہ رہا

ایک روشن چراغ تھا نہ رہا

عوامی نیشنل پارٹی کے ممتاز رہنما اور معروف شخصیت حاجی محمد عدیل کی رحلت سے شہر ایک بزرگ شہری اور رہنما سے محروم ہو گیا ۔25 اکتوبر 1944 کو پیدا ہونے والے حاجی عدیل کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ صوبے کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔وہ 1990، 1993 اور 1997 میں اے این پی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔حاجی عدیل 1993 میں خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ اور 1997 سے 1999 تک ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی رہے جبکہ 2009 سے 2015 تک وہ سینیٹر بھی رہے۔حاجی عدیل نے اپنی پارٹی میں بہت سی ذمہ داریاں سنبھالیں، وہ سینیٹ میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر، اے این پی کے سینئر نائب صدر، اے این پی کے الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور مرکزی و صوبائی ایگزیکٹو کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔وہ فائن آرٹس میں بھی دلچسپی رکھتے تھے، حاجی عدیل پاکستان انڈیا پیپل فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور اباسین آرٹس کونسل کے نائب صدر اور ایڈورڈز کالج کی فائن آرٹس سوسائٹی کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔حاجی عدیل نے شرافت اور اصولوں کی سیاست کی کہ ایک سیاسی اور کاروباری شخصیت ہونے کے باوجود ان کی سیاست اور کاروبار کے اثرات کبھی بھی ایک دوسرے پر نہیں پڑے ۔ مرحوم نے دوسرے سیاسی عناصر کی طرح اپنے عہدے او رسیاست کو کاروبار کومہمیز لگانے کیلئے استعمال نہیں کیا جن جن عہدوں پر رہے انہوں نے اپنا دامن صاف رکھا ۔ حاجی عدیل ایک وضع دار شخص اور سچے پشاوری تھے جنہوں نے صوبے کے حقوق اور صوبے کے مفادات کے تحفظ میں ہر بار ہر اول دستے میں رہے ۔کالاباغ ڈیم کی مخالفت ہو یا این ایف سی ایوارڈ یا بجلی کے خالص منافع کی رقم کا معاملہ مرحوم نے ہمیشہ دلا ئل اور اعداد وشما ر کی روشنی میں صوبے کا کیس لڑا جس کی بناء ان کے مئوقف کا مخالفین بھی احترام کرتے تھے ۔ حاجی عدیل کی سیاست اس بناء پر بھی دوسروں سے ممتاز تھی کہ جہاں اے این پی کی حکومت اور رہنمائوں پر طرح طرح کے الزامات لگتے رہے اور انگشت نمائیاں ہوتی رہی اس جماعت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ان کا دامن الزامات سے پاک رہا ۔حاجی عدیل مرحوم شائستگی اور اقدار کی جس سیاست پر قائم رہے اس سیاست کوخاص طور پر مثال بنانا اور اس کی تقلید کرنے کا مشورہ دشنام طرازی اور الزامات کے دو رسیاست میںاور ضروری ہوگیا ہے ۔ اللہ کریم مرحوم کی بشری خطائوں سے درگزر کرے ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا مائے اور لواحقین کو صبر کی توفیق دے آمین۔

افغانستان جانے والوں کیلئے ویزہ کی شرط احسن اقدام

پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان جانے کے خواہشمندپاکستانی شہریوں کو 31جنوری 2017ء تک پاسپورٹ بنوانے اور باقاعدہ ویزا لیکر افغانستان جانے کی ہدایت سرحدی آمدورفت کو باقاعدہ بنانے کیلئے اہم اقدام ہوگا۔ اصولی طور پر افغانستان سے آمد اور افغانستان جانے کیلئے پاسپورٹ اور ویزا کی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے ۔یکطرفہ طور پر افغان شہریوں پر اس کا لاگو کرنا درست اقدام نہ تھا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کی پابندی اور قانون کی پاسداری ہی میں دونوں ملکوں کے شہریوں کا مفاد ہے۔ اگرچہ وقتی طور پر یہ بوجھ محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ۔ مشکوک عناصر اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے امن و امان کا مسئلہ بننے اور دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلا نے والوں کا تدارک ہی میں دونوں ملکوں کا مفاد ہے ۔خطے میں قیام امن اور استحکا م امن کیلئے ہروہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو اس میں مدد گار ثابت ہوں ۔ قبائلی عوام تاجروں اور ٹرانسپورٹر وں کی سہولت کیلئے مکمل قوانین تبدیل نہیں کئے جاسکتے البتہ اگر ان کیلئے گنجائش نکال لی جائے اور کوئی ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جو معقول ہو تو اس پر متعلقہ حکام کو ضرورتوجہ دینا چاہئے ۔

قبضہ مافیا بچنے نہ پائے

پشاور میں قبضہ مافیا کی فہرستوں کا از سر نو جائزہ اور ان کے خلاف اقدامات کا عندیہ حکومتی عملداری کو ثابت کرنے اور قبضہ کی گئیں جائیدادوں کو واگزار کرانے کا اہم اقدام ہوگا بشرطیکہ یہ عمل سیاسی اور دیگر مصلحتوں سے بالا تر ہو کر کیا جائے ۔ صوبائی دارالحکومت میں قبرستانوں سے لیکر بلدیہ کی جائیدادوں پر قبضہ جبکہ کا غذات غائب کر کے جعلی کاغذات کے ذریعے پوری فروٹ منڈی ہتھیانے جیسی مثالیں موجود ہیں جس کی تحقیقات کا حکم ڈپٹی کمشنر پشاور بھی دے چکے ہیں مگر اس کے بعد کی تفصیلات کا علم نہیں۔ اس جیسے درجنوں بلکہ سینکڑوں قبضے اور تجاوزات ہوں گی جن کو واگزار کرانا صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ ، بلدیہ حکام محکمہ اوقاف و دیگر متعلقہ محکموں کا کارنامہ ہوگا ۔

متعلقہ خبریں