Daily Mashriq


پھنس گئے یا بچ گئے

پھنس گئے یا بچ گئے

مشہور ہے کہ جسٹس ایم آر کیانی کی عدالت میں ایک خاتون نے عدالتی فیصلے پر شکایت کرتے ہوئے جب کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے تو جسٹس صاحب نے تاسف سے بھرپور لہجے میں جواب دیا: آپ کیا سمجھتی ہیں۔یہاں انصاف ہوتا ہے؟ بی بی یہاں پر فیصلے ہوتے ہیں! افسوس عدالتی نظام کی اپنی مجبوریاں ہیں ورنہ انصاف کے تقاضے تو کچھ اور ہوتے ہیں۔ انصاف کی بات بلکہ خدا لگتی یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے بیانات میں تضاد عیاں ہے۔ ایک کے بعد ایک نیا بیان سامنے آ یا ہے۔ تازہ ترین قطری شہزادے کا خط ہے جو آج تک کبھی زیرِ بحث نہیں آیا اور نہ اس کا ذکر کبھی پہلے ہوا ہے۔ اس کے باوجود عدالت ٹھوس ثبوت چاہتی ہے، یعنی کوئی ایسا ثبوت لایا جائے جو اس بات کو ثابت کردے کہ غیر قانونی طریقے سے دولت بیرونِ ملک منتقل ہوئی اور اس سے لندن والے اپارٹمنٹس خریدے گئے۔ مزید برآں یہ بات ثابت کر دی جائے کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے سامنے لندن فلیٹس خریدنے کی جو تاریخ بتائی ہے وہ غلط ہے۔ اس ضمن میں اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں اُن میں سب سے اہم التوفیق انوسٹمنٹ بینک کے مقدمے میں لندن ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں شریف فیملی کے لندن اپارٹمنٹس کو فکس (Attach)کرنے کا حکم کیا تھا۔ یہ فیصلہ 1999ء میں دیا گیا یعنی اس وقت لندن فلیٹس نہ صرف شریف فیملی کے زیر استعمال تھے بلکہ عدالت ان فلیٹس کو شریف فیملی کی ملکیت سمجھ رہی تھی۔ چند روز قبل مجھے محترم ایاز امیر کا ایک پرانا کالم پڑھنے کا اتفاق ہو جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ لندن عدالت میں التوفیق انوسٹمنٹ کے حق میں جو فیصلہ آیا اس میں 32ملین کا کورٹ آرڈر ہوا ہے۔ یہ کالم ڈان کی 7مئی 1999کی اشاعت میں شائع ہوا اور اس میں بی بی سی کی ایک ڈاکومنٹری کا خاص طور پر ذکر ہے جو شریف فیملی کی بڑھتی ہوئی دولت کے تناظر میں بنائی جا رہی تھی۔ اس ڈاکومنٹری کے بنانے میں مدد دینے والے لاہور کے ایک صحافی محمود لودھی کو دو روز غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا۔ بی بی سی نے بعد ازاں شریف فیملی کی دولت اور لندن فلیٹس کے بارے میں یہ ڈاکومنٹری نشر کی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ نواز شریف حکومت کی رخصتی کے بعد بی بی سی کے نمائندے نے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے جب انٹرویو لیا تو خاص طور پر لندن اپارٹمنٹس کی بات کی اور چبھتے ہوئے سوال و جواب ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے اپنے وزراء کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ لندن اپارٹمنٹس شریف خاندان کی ملکیت میں 90کی دہائی سے ہیں۔ ان ڈھیر سارے شواہد کی موجودگی عدالت کو اطمینان دلانے کے لیے کیا کافی نہیں ہے؟ مسئلہ ٹھوس ثبوت کا ہے چونکہ عدالتیں اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر نہیں ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ تحریک انصاف کے وکلاء نے ثبوت اکٹھے کرنے میں سستی اور کاہلی سے کام نہ لیا ہوتا تو اب تک اس مقدمے کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ التوفیق انوسٹمنٹ بنک جس نے شریف فیملی کے خلاف قرضوں کی عدم ادائیگی کا مقدمہ کیا تھا۔ ان بنکوں کی فہرست میں شامل ہے جس کے ذریعے غیر قانونی طور پر دولت بیرونِ ملک منتقل ہوئی۔ جس حدیبیہ پیپرز مل کا مقدمہ التوفیق بنک کے ساتھ چلا اور لندن فلیٹس کا ذکر بیچ میں آیا اس کو لگانے کے لیے پاکستان سے دولت غیر قانونی طور پر باہر منتقل کی گئی تھی۔ اسحق ڈار نے اپریل 2000میں جو بیان حلفی دیا، اس میں وضاحت کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ کن لوگوں کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان سے دولت کو باہر بھیجا گیا۔ اسحق ڈار صاحب آج کہتے ہیں کہ انہوں نے جنرل مشرف کے دباؤ پر یہ بیان حلفی لکھ کر دیا تھا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان دنوں اسحق ڈار شریف فیملی سے نالاں تھے لہٰذا گمان ہے کہ دباؤ سے زیادہ انہوں نے ایسا اپنے دل کی تسکین کے لیے کیا ہو۔ واضح رہے کہ اسحق ڈار صاحب کا بیان حلفی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت ریکارڈ ہوا ہے جس کی حقانیت سے کسی طرح بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ اگر اسحق ڈار دباؤ کی بنیاد پر اپنے بیان حلفی سے انکار کرتے ہیں اور عدالتیں اس کو تسلیم کر لیتی ہیں تو پھر پاکستان کا کریمنل پروسیجر کوڈ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ اس بیان حلفی کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف کی ہدایت پر ڈار صاحب نے 14.88ملین ڈالر کی رقم جعلی فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک بھیجی۔ سکندرہ مسعود قاضی ' طلعت مسعود قاضی' نزہت گوہر' کاشف مسعود قاضی کے نئے اکاؤنٹس کے علاوہ پہلے سے موجود سعید احمد اور موسیٰ غنی کے اکاؤنٹس کے ذریعے بھاری رقوم بینک آف امریکہ ' سٹی بینک' ایٹلس انوسٹمنٹ بینک ' البرقہ بینک اور التوفیق انوسٹمنٹ بینک میں منتقل ہوئیں۔ یوں منی لانڈرنگ کے ذریعے اندازا15ملین ڈالر کی رقم وائٹ کی گئی اور یہ رقم حدیبیہ پیپر ملز کے اکاؤنٹ میں آئی۔ الغرض تمام حقائق شریف فیملی کے بیانات سے یکسر متضاد ہیں لیکن ٹھوس ثبوت پیش کرنے کا معاملہ آڑے آ رہا ہے۔ ظاہر ہے عدالت عظمیٰ کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے اور وہ یوں ہی نہیں ہو جائے گا۔ معاملہ فقط وزیر اعظم کو ڈی سیٹ کرنے کا نہیں بلکہ ان کا سیاسی کیریئر اس فیصلے سے ختم ہو سکتا ہے چنانچہ جب تک عدالت عظمیٰ کے ہاتھ ٹھوس ثبوت نہیں آ جاتا کسی سخت فیصلے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کے معزز جج حضرات قومی نوعیت کے اس اہم مقدمے کو جلد ازجلد نمٹانے میں یکسو دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک کمیشن بنانے سے گریز کیا ہے۔ پانامہ پیپرز کیس میں دی گئی نئی تاریخ میں ابھی 12دن باقی ہیں' ثبوت لانے کے لیے یوں ایک مناسب وقت دیا گیا ہے لیکن اگر تحریک انصاف اس دوران ناکام رہی تو پھر معاملہ یقینی طور پر کمیشن میں جانے کی توقع ہے اور کمیشن بننے کا مطلب ہے کہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں