Daily Mashriq


ترک صدر اور اسرائیلی پارلیمنٹرین کا نعرہ حق

ترک صدر اور اسرائیلی پارلیمنٹرین کا نعرہ حق

عالم اسلام کی تاریخ میں ترک قوم نے اسلام کی اشاعت ، حفاظت اور مسلمانوں کی فلاح وبہود کے لئے جو کارنامے سر انجام دیئے ہیں وہ کسی بھی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں لیکن عثمانی خلافت کے آخری برسوں میں اور یہ جنگ عظیم اول کا زمانہ تھا ، جب برطانوی حکومت کے کارندے لارنس آف عریبا نے مسلمان حاجی کا روپ دھار کر عثمانی گورنر حسین شریف آف مکہ کو شیشے میں اُتار ا اور ترکو ں کے خلاف عرب عجم کی پٹی پڑھا کر اُکسایا تو ایک زمانے تک ترکوں کے دلوں میں عربوں سے بد گمانی جاری رہی اور اتا ترک اور اُس کے حورریوں نے تو اسی تعصب اور کچھ نام نہاد ترقی کے شوق میں اذان تک ترکی زبان میں تبدیل کر ایا اور مساجد سے باقاعدہ ترکی زبان میں اذان کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ۔ لیکن یہ سنت الٰہی ہے کہ دین و اسلام کی حفاظت کے لئے کوئی نہ کوئی آگے بڑھتا ہی رہتا ہے ۔ ترکی میں ہر ایک چیز کو مغربی سانچو ںمیں ڈھالنے کے بعد اور تقریبا ًنصف صدی مغرب اور ترکی میں ہر قسم کی مفائرت ختم کر نے کے با وجود بعض گھرانے ایسے موجود رہے جنہوں نے سخت مشکلات وامتحانات کے با وجود اپنی زندگی کے بنیاد ی عقائد ومعاملات کو مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے ساتھ جوڑ ے رکھا ۔ اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی اُس رنگ میں رنگنے کے لئے تگ ودواور جدجہد جاری رکھی ۔ ورنہ ترکی میں نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ کوئی معزز خاتون ممبر پارلیمنٹ سکارف باندھ کر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتی تھی ۔اور آرمڈ فورس میں کوئی سنت ِ رسول ۖ، داڑھی نہیں رکھ سکتا تھا ۔ اس کے علاوہ او ربھی بہت ساری مشکلات تھیں ۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے نجم الدین اربکان کی صورت میں ایک ایسی شخصیت پیدا کی جنہوں نے ترکی کے میکدوں کے سامنے مساجد میں بانگ دار ا دینے کی رسم ایک نئے اندازسے شروع کی۔ وہیں سلسلہ بڑھتے بڑھتے آج عالم اسلام کی نابغئہ روزگار قیادت رجب طیب اردوان کی صور ت میں ترکی کو دوبارہ اپنے اُس نہج پر ڈال چکا جس نے کبھی دنیا کے تین براعظموں میں اسلام کی قیادت کی تھی۔ اردوان سے قبل ترکی کی سیاست کا بھی ایسا ہی حال تھا جو آج پاکستان کا ہے ، ترکی کرنسی کی کوئی قیمت نہیں تھی ، ملک اربوں ڈالر کا مقروض تھا ۔ چند خاندان ارب پتی تھے ، عوام کی اکثریت مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے ہاتھوں سخت پریشانیوں میں مبتلا تھی ۔ اور ملک میں سیکولر ازم کا راج تھا ، اگرچہ وہ آج بھی ہے لیکن آج جہاں سیکولر طبقہ کو آزادی ہے وہا ں مذہی طبقات کو بھی اپنے دینی معاملات کے حوالے سے آزادی ہے ۔ لیکن اردوان نے ترکی کو نہ صرف بیرونی سودی قرضوں سے نجات دلائی بلکہ ملکی زردمبا لہ کے ذخائر میں بھی اضافہ کیا ۔ اور آج ترکی عالم اسلام کا ایک خود دار اور با وقار ملک ہے ۔ ترکی کا صدر طیب اردوان ایک بہادر اور مئومن آدمی ہے ۔ان کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے محبت ہے اور کبھی کبھی اسی جذبے سے بہت زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ جب بنگلہ دیش کی تنگ نظر ،متعصب حکومت نے نریندر مودی کی نظر اور دماغ سے دیکھنے اور سوچنے کے سبب بنگلہ دیش کے اسلام پسندوںکو 1971ء میں دفاع پاکستان کی جنگ لڑنے کی سزا پر پھانسیاں دیں دی تو ترکی کے اس مرد مئومن نے بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ۔ سراج الحق امیر جماعت اسلامی نے اس کا خصو صی ذکر کیا اور تحریک انصاف کے عمران خان کے بارے میں کہا کہ ترک صدر کے احترام میں ان کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے تھی ۔ اچھا ہوتا گریو ں ہوتا ۔ لیکن کیا کریں کہ آج عالم اسلام میں ہم اُس آدمی کو اچھا سمجھتے اور کہتے ہیں جن میں خامیوں کی نسبت خوبیا ں زیادہ ہیں ۔ رجب طیب اردوان میں بھی خوبیاں زیادہ ہیں اس لیے ہمیں اورسراج الحق کو اچھے لگتے ہیں ورنہ جب میں دیکھتا ہوں کہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں تو ظاہر بات ہے کہ یہ سعودی عرب ، پاکستان اور دیگر اسلامی دنیا کے مئوقف کی خلاف ورزی ہے اگر اسرائیل کے ساتھ مصر اور ترکی کے تعلقات قائم ہو سکتے ہیں تو باقی اسلامی دنیا کے کیوں نہیں ؟ اگر باقی اسلامی دنیا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کچھ اصولوں کی بنیاد پر ناجائز اور ناروا سمجھتی ہے تو ان دو اہم اسلامی ملکوں کے لئے کیاجواز ہے ۔ یہی حال کشمیر کا ہے آج بھی اگر عالم اسلام او آئی سی کی سطح پر بھارت کے ساتھ تعلقات بالخصوص تجارتی روابط محدود کرے تو اس کے نتائج کراماتی و کرشماتی ہوں گے ۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ترکی کے مرد مئومن قیاد ت کی باگ ڈور ہاتھوں میں لیکر عالم اسلام کے درمیان اتحاد پیداکرنے کے لئے اسلامی ملکوں کے مابین اختلافات ختم کرنے کے ٹھوس انتظامات کریں ۔ تاکہ داعش اور اس جیسی دوسری تنظیموں کے خلاف عالم اسلام کا متفقہ مئوقف اور عملی رد عمل سامنے آسکے اس کے لئے اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر ملت و امت کی سطح پر سوچنا ہوگا ورنہ نعرہ رندانہ و مستانہ تو مقہور محکوم ومجبور اسرائیلی پارلیمنٹ کے مسلمان رکن نے یہودی پارلیمنٹ کے بیچ اللہ اکبر کی صورت میں بلند کیا ہے ۔ اور عالم اسلام کے حکمرانوں کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ اب دنیا میں اذان پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں اور اسلامی دنیا کے بعض ایسے ملکوں میں جہا ں کے باشندوں میں اقلیتی آبادی موجود نہیں لیکن کام کاروبار کے سلسلے میں آنے والوں کے لئے عبادت گاہیں قائم کی جارہی ہیں ۔ کیا مذہبی رواداری کا نبھانا صرف مسلمانوں پر فرض ہے ، یہودیت ، مسیحیت اور ہندویت میں اس کا ذکر نہیں ۔

متعلقہ خبریں