Daily Mashriq

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات جو اخبارات کے ذریعے ہم آپ سب تک پہنچ رہی ہیں ان میں سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے شکایات کی بھر مار ہے۔ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں' گرمی میں زیادہ تر بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سردی میں گیس کی کمی اب تو پاکستانی عوام کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ تو حکمرانوں کا رویہ ہے اور جہاں تک حکمرانوں کی بات ہے تو ایوان ہائے بالا ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں گرمی' سردی' خزاں' بہار کسی بھی موسم میں نہ بجلی اور نہ ہی گیس کی کمی کا کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ اس لئے اگر عام لوگوں کا غم انہیں پریشان نہیں کرتا تو کوئی بات نہیں بلکہ اس بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تو یہ لوگ انقلاب فرانس سے قبل کی اس شہزادی کی مانند ہیں جس نے محل کے باہر روٹی کے لئے پریشان عوام کو شور مچاتے دیکھا اور اسے پتہ چلا کہ یہ لوگ روٹی نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں تو شہزادی نے حیرت سے کہا۔ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو کیک پیسٹری کیوں نہیںکھا لیتے۔ در اصل پوٹا پر لوگوں کو بھوک کا کیا احساس ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہمارے صوبائی حکمران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے متاثر نہیں ہوتے تو یقینا وہ عوام کو یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ عوام سولر پینل کیوں نہیں لگا لیتے جن سے نہ صرف بجلی حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ گیس کے چولہوں کی طرز پر سولر چولہے' سولر گیز وغیرہ وغیرہ چلائے جاسکتے ہیں ۔یعنی ہینگ لگے نہ پٹکڑی رنگ چوکھا آئے۔بس اس مشکل سے نکلنے کے لئے چار پانچ لاکھ روپے ہی تو خرچ ہوں گے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ حکمران ابھی پانامہ لیکس کے حوالے سے بہت زیادہ مصروف ہیں۔ اتنے زیادہ کہ ان کے پاس طیب اردوان کے دورے کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں عمران خان کے فیصلے پر بات تک کرنے کی فرصت نہیں ہے اور ان کے لبوں پر عمران سے شکوہ کرنے کے لئے بھی وقت نہیں کہ انہیں سمجھا سکیں کہ موصوف کی ہٹ دھرمی اور ڈکٹیٹرانہ رویے سے تحریک انصاف کے بارے میں عوام کے اندر اچھے جذبات کم پڑتے جا رہے ہیں اس لئے وہ عوام کے جائز آئینی حق کے حوالے سے ہی وفاقی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرسکیں کہ گیس سپلائی کے حوالے سے جو رویہ صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے یہ آئین کے آرٹکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے جو صوبوں کو یہ حق دیتا ہے کہ جہاں گیس کا منبع واقع ہو اسے اس منبع سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح ہوگی۔ یہاں گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کو ایک طرف رکھتے ہوئے جو صوبوں کا حق ہے ہم صرف ترجیح کے نکتے کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے نہ صرف ایم ایم اے بلکہ اس کے بعد اے این پی کے دور میں بھی وفاقی حکومت سے صوبہ خیبر پختونخوا کے حق پر خاصی لے دے ہوتی رہی اور صوبائی حکومت نے عدالت سے اس حوالے سے یہ فیصلہ کروانے میں عدالتی جنگ میں کامیابی حاصل کی بلکہ اسی بنیاد پر صوبے کی سی این جی انڈسٹری نے بھی سردیوں میں وفاق کی جانب سے ملک بھر میں سی این جی سٹیشنوں کو گیس سپلائی یا تو مکمل بند کرنے یا پھر ہفتے کے مخصوص دنوں میں ہی سپلائی دینے کے حوالے سے آئین کے اسی شق کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کرکے گیس بندش کو ناکامی سے دو چار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ مگر اب جبکہ ابھی سردی کا آغاز ہی ہو رہاہے اگر صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کی سپلائی کا یہ حال ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں بہ مشکل ایک ڈیڑھ گھنٹے تک گیس مل جاتی ہے جبکہ دیگر اوقات میں گیس اس قدر کم ہوتی ہے کہ عوام کے گھروں میں کھانا' چائے وغیرہ تک پکنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے تو پھر سوچا جاسکتاہے کہ سردی جب اپنے جوبن پر آجائے گی تب کیا صورت ہوگی اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں عوام کو کس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر مسئلہ وہی ہے جس کی نشاندہی کالم کے آغاز میں کی جا چکی ہے کہ صوبائی حکومت کے کرتا دھرتا سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس سے فارغ ہوں تو وہ عوام کے مسائل کے بارے میں سوچیں۔

ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت کے ذمہ دار خصوصاً وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اس مسئلے کو وفاق کے ساتھ اٹھائیں اور صوبہ خیبر پختونخوا کے جائز حق یعنی آئین کے محولہ بالا شق کی رو سے گیس کی فراہمی میں صوبے کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی سپلائی بحال کروائیں۔ یوں تو صوبائی حکمران صوبے میں تبدیلی کے بلندو بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر عوام کے جائز حق کی بازیابی کے حوالے سے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی اور ابھی سردی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی مگر صوبائی دارالحکومت کے طول و عرض میں گیس کی قلت کا یہ حال ہے اور خدشہ ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اس معاملے پر یوں ہی خاموش رہے تو وفاق کے متعلقہ ادارے سردی کے دنوں میں گیس کی اس قدر لوڈشیڈنگ کریں گے کہ لوگ بہ امر مجبوری سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ صوبائی حکومت ابھی سے اس مسئلے کا کوئی حل نکالنے کی سبیل کرے اور عوام کو اس عذاب سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرے۔

فصیلیں توڑ کر کیا ہوگیا ہے

پشاور شہر صحرا ہوگیا ہے

یہ شہر گلفروشاں تھا چمن تھا

بکھر کر پتا پتا ہوگیا ہے

ہوئی ہے روشنی اتنی زیادہ

گھروں میں گھپ اندھیرا ہوگیا ہے

متعلقہ خبریں