Daily Mashriq

سیکو لر جمہوریہ یا ہندو راشٹریہ؟

سیکو لر جمہوریہ یا ہندو راشٹریہ؟

گزشتہ دنوں بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے لیڈرموہن بھگوت نے بھارت ایک ہندو راشٹریہ یعنی ہندو ریاست کا نعرہ لگایا۔جس پر سری نگر کے حریت قائدین نے یک زبان ہو کر آر ایس ایس کے اس موقف کی تائید کی اور کہا سیکولرازم کے پردے میں واقعی بھارت ایک ہندو راشٹریہ ہے اور کشمیریوں سے زیادہ اس حقیقت سے اور کون آگا ہ ہو سکتا ہے جو انہتر سال سے بھارتی سیکولرازم کے لبادے میں کٹر پنتھی سماج کی چکی تلے پس رہے ہیں ۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اپنی انتخابی مہم کے دوران انڈین کمیونٹی کی بجائے ہندو کمیونٹی کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے امریکی ہندئووں کے چال چلن اور کردار کی تعریف کی ۔اس سے پہلے مغرب میں انڈین کمیونٹی کی اصطلاح ہی مستعمل تھی ۔گویا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے اندر بھی سماج اور تہذیبوں کو دو خانوں میں تقسیم کیا ۔وہ ہند وکمیونٹی کے لئے اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ تو جا ری کر رہے تھے مگر یہ سند بھارت کے اندر رہنے والے مسلمانوں کے لئے نہیں۔اس طرح دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے بھارت میں دوقومی نظریے کو تسلیم کیا ۔ان کے خیال میں بھارت میں ہند و کمیونٹی الگ اور مسلمان کمیونٹی الگ ہے اور ان کے رویے اور کردار بھی جدا ہیں۔صاف لگ رہا ہے پنڈت نہرو اور گاندھی نے راجواڑوں اور ریاستوں کا ماضی رکھنے والے جس قطعہ اراضی کو خالص ہندوستان اور بھارت کی شکل دے کر سیکولرازم کی ملع کاری کی تھی ماہ وسال کی طوالت اس ملمع کو اتار رہی ہے اور اندر سے ایک حقیقی ہندو راشٹریہ کی شکل اُبھر رہی ہے ۔ایک سماج کچھ مدت تک گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدل کر دنیا کو دھوکا تو دے سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ۔اس کا تازہ ثبوت بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلمان سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تنظیم اسلامک ریسرچ فائونڈیشن پر پانچ سال کے لئے پابندی کا عائد ہونا ہے ۔یہ پابندی کسی ڈپٹی کمشنر نے نہیں بلکہ'' جمہوریہ ہند ''کے وزیر اعظم نریندر مودی نے از خود کابینہ کے اجلاس میں لگائی اور اس کا رسمی نوٹیفکیشن وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیا گیا۔ذاکر نائیک کے نظر یات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر وہ اس وقت ذات پات کے ستائے ہوئے ہندو سماج میں اسلام کو ایک متحرک ،پرکشش اور متبادل مذہب کے طور پر پیش کررہے تھے ۔ جس کے نتیجے میں ہندو بڑی تعداد میں اسلام کی جانب راغب ہو رہے تھے ۔اس کام میں مدد کے لئے اسلامک ریسرچ فائونڈیشن کا حامی ''پیس ٹی وی''بھی بہت موثر انداز میں کام کررہا تھا ۔ڈاکٹر ذاکر نائیک اور شیو سینا کے بال ٹھاکرے کا مرکز ممبئی اور مہاراشٹرا کا علاقہ ہی تھا ۔شاید ہندو انتہا پسند وں کی آنکھوں میں اس ادارے کی ایک وجہ یہ بھی تھی ۔ہند وانتہا پسندی کے غلبے کے ساتھ ہی ذاکر نائیک کی کی تنظیم پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام عائد ہونے لگے بھارت کا میڈیا ان الزامات کو ہوا دینے میں پیش پیش تھا۔میڈیا میں مسلسل یہ کہانیاں عام ہونے لگیں کی ذاکر نائیک کی سوچ انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے ۔اس مہم کو بنگلہ دیش میں ہونے والے دھماکے کے بعد تقویت ملی ۔اس دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا نے طوطا مینا کی یہ کہانی سنانا شروع کی کہ دھماکے کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔یوں ذاکر نائیک کے خلاف کیس کو مضبوط بنایا جانے لگا ۔ان کی تقریروں کے اقتباسات کو سیاق وسباق سے الگ کرکے پیش کیا جانے لگا ۔ذاکر نائیک نے اس فیصلے کے بعد صرف اتنا کہا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی تقریر نہیں کی جس میں کسی ہندو یا مسلمان کی جان لینے کی ترغیب دی گئی ہو۔چند ہی روز پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ ذاکر نائیک کو پریس کانفرنس کے لئے ممبئی میں کوئی موزوں مقام نہیں مل سکا تمام بڑے ہوٹلوں نے انہیں پریس کانفرنس کی سہولت دینے سے انکار کیا ۔اس صورت حال کو دیکھ کر بھارت کی معروف فلم سٹار شبانہ اعظمی کی وہ آنسو یاد آگئے جو محض اس دکھ میں بہائے گئے تھے کہ ممبئی جیسے شہر میں جہاں انہوں نے بہت کام کیا اور نام بنایا ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کوئی کرائے پر گھر دینے پر تیار نہیں تھا ۔ مذہبی اور غیر مذہبی ،فنکار اور سکالر کے معاملات سے بالاتر ہوکر یہاں ذاکر نائیک اور شبانہ اعظمی کا دکھ ایک ہوجاتا ہے ۔ جہاں ایک طرف یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ وہ مسلمان ہونے کی بنا پر اس سلوک کاکا شکار ہیں وہیں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ کیا واقعی بھارت اب گاندھی اور نہرو کا سیکولر جمہوریہ ہے یا یہ سردارپٹیل کی راہ پر بگٹٹ دوڑ رہا ہے ؟۔ اصل بات ذاکر نائیک کی تقریریں نہیں بلکہ بھارت کے ہندو راشٹریہ ہونے کی سوچ اورہندو شاونزم ہے ۔جس کے زیر اثر ہند و تنظیمیں قطعی طور پر یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ بھارت میں کوئی منظم ادارہ اور تنظیم ایسی ہو جو اسلام کو اس قدر دلنشیں انداز میں پیش کرے کہ جس سے ذا ت پات کے ستائے ہوئے ہندو اسلام کی چھائوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجائیں ۔ذاکر نائیک اس سوچ کا پہلا پہلا شکار ہیں ۔بھارت میں انتہا پسندی کی لہر بڑھنے کے ساتھ ہی یہ سلسلہ دوسرے مسلمان سکالرز اور تنظیموں تک دراز ہوتا چلا جائے گا۔خدا جانے امریکی سرمائے کے بل بوتے پرامن کی آشائیں چلانے والے اور برصغیر میں دوقومی نظریے کو باطل ثابت کرنے کے لئے اپنا زور کلام اور زور قلم صرف کرنے والے اب سیکولر جمہوریہ سے ہندو راشٹریہ میں تیزی سے ڈھلتے ہوئے بھارت کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں۔ اب تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہند وکمیونٹی اور مسلمان کمیونٹی کی ایک لکیر کھینچ ڈالی ہے۔

متعلقہ خبریں