Daily Mashriq


ٹرمپ کا امریکہ

ٹرمپ کا امریکہ

امریکہ کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی ہے تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز سے تبصرے کررہے ہیں پاکستان میں بھی اس حوالے سے کافی خدشات پائے جاتے ہیں اسی لیے وطن عزیز میں بھی مختلف ٹاک شوز میں دور کی کوڑیا ں لائی جارہی ہیں۔ٹرمپ کے نفسیاتی تجزیے زوروں پر ہیں اسی حوالے سے آج کل بابا وانگا کی پیشن گوئیوں کا بھی اچھا خاصہ چرچاکیا جارہا ہے یہ31جنوری 1911ء کو سٹرومیکا (بلغاریہ) میں پیداہوئی جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا آج کل اسے ریپبلک آف مقدونیا کہا جاتا ہے اور 11اگست 1996میں انتقال کرگئی ۔بابا وانگا بچپن میں ہی بصارت سے محروم ہوگئی تھی دوسری جنگ عظیم کے دوران اسے اس وقت شہرت ملی جب یہ لوگوں کو ان کے گمشدہ رشتہ داروں کے بارے میں بتا دیتی تھی کہ وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں اس کے پاس بلغاریہ اور روس کے بڑے بڑے سیاستدان آیا کرتے تھے روسی صدر لیونڈ برزنیف بھی اس کے ملاقاتیوں میں شامل تھا ۔ اس کی مشہور پیشنگوئیوں میں سویت یونین کا ٹوٹنا، چرنوبل کی تباہی(یہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا بہت بڑا حادثہ تھاجو 26 اپریل 1986میں پیش آیا) سٹالن کی موت کی تاریخ،روسی آبدوز کرسک کا ڈوبنا،9/11کا حملہ،اس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی پوری ہوئی کہ امریکہ کا چوالیسواں صدر افریقی امریکن ہوگا اور جس وقت یہ اپناعہدہ چھوڑے گا اس وقت امریکہ کی اقتصادی حالت بہت خراب ہوچکی ہوگی اور امریکہ کی شمالی اور جنو بی ریاستیں ایک دوسرے کی دشمن ہوں گی ، مسلمانوں کے درمیان شام میں ایک بہت بڑی جنگ لڑی جائے گی اور 2018میں چین امریکہ کے زوال کے بعد نیا سپر پاور بن کر ابھرے گا۔ اگر بابا وانگا کی پیشنگوئیوں پر توجہ نہ بھی دی جائے اور امریکہ کے عالمی کردار اور اس کی پالیسیوں پر غور سے نظر ڈالی جائے تو امریکہ کی کشتی ڈوبتی ہوئی نظر آتی ہے اس کی غلط پالیسیوں نے اسے دنیا بھرکی نظروں میں ایک ناپسندیدہ ملک بنا کر رکھ دیا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں اس کا جھنڈا جلاکر احتجاج کیا جاتا ہے مذہبی اجتماعات میں اسے بد دعائیں دی جاتی ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عروج و زوال لازم وملزوم ہیں۔ تاریخ عالم میں اقتصادی نظاموں کے زوال کی ایک بہت بڑی وجہ اشیائے ضرورت کی پیداوار کی کمی ہے جب ایسی صورت ہو تو صنعتی پلانٹ دقیانوسی ہوجاتے ہیں۔ روس سے ایک بہت بڑی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ وہ افغانستان پر حملہ کر بیٹھا اس نے اپنی ریاست کے دو مخالف سمتوں میں بڑے محاذ کھول دیے اور اپنی فوج کا بڑا حصہ وہاں جھونک ڈالا اس جنگ کے اختتام پر روس کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ امریکہ طاقت کے نشے میں مغلوب ہوکر عراق پر چڑھائی کر بیٹھا اور اس کے بعد اس کا اگلا نشانہ افغانستان تھا اس نے اپنی فوجی طاقت کا بہت بڑا حصہ ان دور دراز محاذوں پر تقسیم کردیا ان جنگوں سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے خاص طور پر امریکہ کی صنعتی طاقت پر اس لیے بھی برا وقت آیا کہ جاپان بین الاقوامی منڈیوں پر چھاگیا۔ روس افغانستان میں اپنی شکست کو ابھی تک نہیں بھولا اس کے زخم ابھی تک تازہ ہیںوہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ امریکہ کے خلاف وہی کھیل کھیل رہا ہے جو امریکہ نے اس کے خلاف افغانستان میں کھیلا تھا۔ ایک اور بہت بڑی غلط فہمی جس میں امریکہ مبتلا ہے وہ چین کو اپنا دست نگر رکھنے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ چین کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کی افواج کئی ہزار سال سے اپنی سرحدوں کے اندر رہی ہیںاس کو ملک گیری کی ہوس نہیں ہے وہ ہوس ملک گیری جس میں آج امریکہ مبتلا ہے۔ اس ہوس ملک گیری سے تو یہ بہتر تھا کہ وہ اپنے وسائل سے کام لیتے ہوئے اس دنیا کو رہنے کے قابل بنانے کی کوشش کرتا۔ چین اور جاپان نے امریکہ کو لاحاصل جنگوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیا ہے اور خود وہ بہت ہی قلیل عرصے میں صنعتی طاقتوں کے طور پر ابھرے ہیں اور امریکہ اپنی بے کار سامراجی منصوبہ بندی میں الجھا ہوا ہے۔ اس کے سر پر جنگ کا بھوت سوار ہے وہ دنیا کے ہر اہم ملک میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرسکے اور اپنے مخالفین کے خلاف سرد جنگ جاری رکھ سے!ان پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کے تمام بڑے شہروں میںلوگوں کا معیار زندگی پہلا جیسا نہیں رہا۔ اس بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی وجہ سے امریکہ میں بہت سی کارپوریشنیں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہی ہیں۔ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بہادر کی گردن پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون ہے اور یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہاں زرے زرے کا حساب ہے آخری فیصلہ اوپر والا کرتا ہے اور وہ سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والا ہے جنہوں نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا وہ امریکہ کو بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوتا دیکھ لیں گے۔ وہ بڑی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں