Daily Mashriq

عبداللہ عبداللہ کا اعترافِ حقیقت

عبداللہ عبداللہ کا اعترافِ حقیقت


افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا یہ اعتراف کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں موجود ہے امریکی حکام کے لئے قابل غور اس لئے ہونا چاہئے کہ ان کی جانب سے پاکستان پر انگشت نمائی تو ہوتی رہتی ہے مگر افغانستان میں اعلیٰ ترین سطح پر محولہ صورتحال کے اعتراف کے باجود امریکہ کی اس طرف بند آنکھ نہیں کھلتی۔ وہ پہلے افغان رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے دعوئوں کی تصدیق کی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستانی طالبان، افغانستان میں موجود اپنے کیمپوں میں پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔تاہم دوسری جانب عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کسی بھی دہشت گرد کو مدد فراہم نہیں کررہی اور ان تمام قوتوں کے خلاف ہے جو ریاست اور حکومتوں کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، چاہے وہ کابل میں ہوں یا کسی اور دارالحکومت میں۔انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی سے خطرات لاحق ہیں۔افغان رہنما نے ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں سے متعلق ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں تخلیق نہیں کیا گیا اور یہ مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے بنائی گئی جو بعد میں ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ہوگئی۔انہوں نے ان خدشات کو مسترد کیا جن میں کہا جارہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہتر تعلقات کابل کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔انہوںنے کہا کہ افغان حکومت پاکستان سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے گلبدین حکمت یار کو حکومت میں شامل کرنے کے افغان حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کابل، طالبان کے ساتھ مذاکرات کو بھی خوش آمدید کہے گا۔ہمارے تئیں افغان چیف ایگزیکٹو نے جس حق گوئی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک قدم آگے بڑھ کر اگر اس امر کا بھی اعتراف کرتے کہ ان عناصر کی سرپرستی بھارتی خفیہ ایجنسی را کر رہی ہے۔ ان سمیت بلوچستان میں انتشار پھیلانے کے درپے عناصر کی بھی راء ہی سرپرستی کرتی ہے جس پر کابل حکومت معترض نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کو اس بارے اپنے کردار کا احساس ہے افغان چیف ایگزیکٹو کابل حکومت کی ان کی سرپرستی نہ کرنے کا معاملہ ایک طرف دکھ کر دیکھا جائے تب بھی وہ اس الزام سے اس لئے بری الذمہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ ٹی ٹی پی کی تخلیق کی غلطی اور ان کو امر بیل ہونے سے روکنے کی کوتاہی جس کسی کی بھی ہو پاکستان کو ان عناصر کے ہاتھوں دہشت گردی سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں مگر اس حقیقت سے بھی صرف نظر کی گنجائش نہیں پاک فوج نے بڑی قربانیوں کے بعد ان عناصر کا صفایا کیا اور ہمارے قبائلی علاقوں کے لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور اب کہیں جا کر اجڑے دیار کو واپسی ممکن ہوچکی ہے۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کے وقت افغانستان کی حکومت اور وہاں پر موجود غیر ملکی فوجوں نے ان عناصر کی افغانستان مراجعت روکنے میں تعاون نہ کیا اگر اسی وقت افغان سرحد پر تعاون کا مظاہرہ کیا جاتا تو ٹی ٹی پی ہی کا وجود قریب المعدوم نہ ہوتا بلکہ تحریک طالبان افغانستان کی کمر بھی ٹوٹ چکی ہوتی۔ اس وقت ہر دو تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی اور ان کے ممکنہ براہ راست یا بالواسطہ ایک دوسرے کی مدد کی کوشش افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ جب تک اس طرح کی صورتحال موجود ہے اور افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو پناہ و تحفظ حاصل ہے تب تک نہ تو پاکستان اور افغانستان میں اعتماد کی بحالی ممکن ہے اور نہ ہی افغانستان میں امن و استحکام کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ کیا افغانستان میں اس طرح کے عناصر سے عدم تعرض دراصل ان دہشت گردوں کی عملی سرپرستی کے زمرے میں نہیں آتا اور وہ بھی اس حالت میں جب یہ عناصر صرف پاکستان ہی میں امن کے درپے نہیں بلکہ یہی عناصر افغانستان میں آئے روز دہشت گردی کی بدترین وارداتیں کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے ۔ ہمارے تئیں اس صورتحال کا مقابلہ اسی وقت ہی ممکن ہوگا جب پاکستان اور افغانستان مل کر ان عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے تعاون و مشاورت کے بعد اقدام اٹھائیں۔ اس ضمن میں بھارت کی افغانستان میں مداخلت اور ان عناصر کی سرپرستی کا راستہ سب سے پہلے روکنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی شکوہ شکایات میں بھی اس وقت کمی ممکن ہوگی جب وہ بھی اس مد میں اپنے کردار کے اعتماد کی فضا میں ادائیگی پر تیار ہو۔ افغان چیف ایگزیکٹو کے اعتراف کے بعد اب اس امر کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کا پاکستانی موقف حرف بحرف درست تھا۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کے مراکز کا صفایا کرنے کے لئے عالمی برادری ایک مرتبہ پھر اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کو ممکن بنایا جاسکے اور دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے۔

اداریہ